
میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے، سب بچوں کی پرورش اور تعلیم کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ہم نے خوب نبھائی، حتی کہ دونوں بیٹوں کی شادیاں بھی کرائیں، لیکن اب تک وہ ہمارے سہارے پر چل رہے ہیں اور گھر میں خرچہ بھی نہیں دے رہے ہیں، جب کہ ان کی اچھی خاصی نوکری بھی ہے، کیا مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں انہیں الگ کر دوں یا نہیں؟ اور میرے ان بیٹوں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ یہ بھی بتائیے؛ تاکہ انہیں بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہو جائے۔
واضح رہے کہ بلوغت کے بعد جب لڑکے کمانے کے قابل ہوجائیں تو اُن کا خرچہ والد کے ذمہ لازم نہیں ہوتا اور نہ ہی اُن کو اپنے ساتھ رکھنا والد کے ذمہ شرعاً لازم ہوتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ اپنے دونوں بیٹوں کو الگ کرنا چاہتے ہیں تو اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں، ایسا کرنا بلا کراہت جائز ہے۔
باقی دونوں بیٹوں کا اپنا اور اپنے اپنے بیوی بچوں کا خرچہ اٹھانا خود اُن ہی کے ذمے ہے، ان کو چاہیے کہ نہ صرف اپنی ذمہ داری کا احساس کریں، بلکہ اپنے والدین کا سہارا بھی بنیں اور ان کی راحت کا سبب بنیں،نہ یہ کہ وہ والد پر بوجھ بنیں۔
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"الذكور من الأولاد إذا بلغوا حد الكسب، ولم يبلغوا في أنفسهم يدفعهم الأب إلى عمل ليكسبوا، أو يؤاجرهم وينفق عليهم من أجرتهم وكسبهم، وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل، أو خدمة كذا في الخلاصة."
(کتاب الطلاق،الباب السابع عشر فی النفقات، ج:1، ص: 562، ط:ماجدیه)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة."
(کتاب الطلاق الباب السابع عشر في النفقات، جلد:1، صفحہ:560، طبع: رشیدیه)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102380
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن