
شادی شدہ ایک عورت(جس کے دو بچے بھی ہیں اور شوہر دو سال سے سعودی عرب میں ہے) ایک دن صبح کے وقت اجنبی شخص کے ساتھ اپنے بچوں سمیت فرار ہوگئی، اور سسرال کے گھر سے ان کی کلاشنکوف اور کسی محفوظ جگہ میں ان کے چھ لاکھ روپے بھی ساتھ لے گئی، 16 دن بعد پولیس کے مدد سے بچوں سمیت مل گئی، ابھی عورت پولیس والوں کے ساتھ دار الامان میں ہے، بچے گھر میں ہیں اور اجنبی شخص غائب ہے، عورت اپنی پاکدامنی کا دعویٰ کر رہی ہے، حالانکہ پولیس والوں نے DNAٹیسٹ بھی کرلیا ہے جو کہ نیگیٹو آیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ عورت اور اجنبی شخص کو قتل کرنا جائز ہے؟اور جو وہ عورت کلاشنکوف اور چھ لاکھ روپیہ ساتھ لے گئی تھی ان کا کیا حکم ہوگا؟ یہ دونوں چیزیں ابھی عورت کے پاس نہیں ہے بلکہ وہ اجنبی لے کر چلا گیا ہے۔شوہر اپنی اس بیوی کو طلاق دے یا اسے معاف کردے؟ نیز عورت اپنے اس فعل پر نادم ہے اور شوہر کے ساتھ رہنے کے لیے تیار ہے۔
بصدقِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں شادی شدہ عورت کا کسی غیر مرد کے ساتھ بھاگ جانا بہت ہی بے حیائی، اور نہایت قابلِ مذمت فعل اور حرام ہے، البتہ اس قبیح عمل کی وجہ سے اسے قتل کرنا ہرگز جائز نہیں، تاہم عدالت جرم ثابت ہونے پر اسے تعزیری سزا دے سکتی ہے، نیز زنا کے ثبوت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا کوئی اعتبار نہیں؛ کیوں کہ شریعت مطہرہ نے ثبوتِ زنا کے لیے چار چشم دید عادل مسلمانوں کی گواہی یا مرتکبِ زنا افراد کی جانب سے چار مرتبہ کے اقرار کو ضروری قرار دیا ہے، مذکورہ شادی شدہ عورت کا کسی اجنبی کے ساتھ گھر سے بھاگنے کی وجہ سے نہ ہی اس کے نکاح پر کوئی اثر پڑا ہے نہ ہی ڈی این اے کی بنیاد پر اسے زانیہ قرار دیا جاسکتا ہے، نکاح چونکہ بدستور قائم ہے؛ لہٰذا اگر وہ نادم وشرمندہ ہے، توبہ تائب ہے تو شوہر اسے اپنے ساتھ رکھ سکتا ہے، تاہم اگر شوہر کو یقین ہو کہ ساتھ رکھنے کی صورت میں وہ بیوی کی حق تلفی کا مرتکب ہوگا، تو اس صورت میں وہ ایک طلاق دے سکتا ہے، مذکورہ خاتون کو قتل کرنا حرام ہے، ایسا کرنے والے آدمی کو عدالت کے ذریعہ قصاص میں قتل کیا جائے گا۔
نیز بیوی کو اپنے ساتھ رکھنے کا معمول بنائے، یا خود وطن آکر بیوی کے ساتھ رہے؛ کیوں کہ بیوی کے جملہ حقوق میں سے ایک حق شوہر کے ساتھ رہنا بھی ہے، ساتھ نہ رہنے کی وجہ سے اس قسم کے غیر اخلاقی افعال عموما وجود میں آتے ہیں۔
مذکورہ خاتون اپنے سسرال سے جو کلاشنکوف اور چھ لاکھ روپے لے کر گئی ہے، اس پر لازم ہے کہ اس جیسی کلاشنکوف اور چھ لاکھ روپے سسرال والوں کو واپس کرے اور اگر سسرال والے راضی ہوں تو وہ کلاشنکوف کی موجودہ قیمت مع چھ لاکھ روپے بھی واپس لے سکتے ہیں، اور چاہے تو معاف بھی کر سکتے ہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويقيمه كل مسلم حال مباشرة المعصية) قنية (و) أما (بعده) ف (ليس ذلك لغير الحاكم) والزوج والمولى كما سيجيء
(قوله ويقيمه إلخ) أي التعزير الواجب حقا لله تعالى؛ لأنه من باب إزالة المنكر، والشارع ولى كل أحد ذلك حيث قال صلى الله عليه وسلم «من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه» الحديث، بخلاف الحدود لم يثبت توليتها إلا للولاة، وبخلاف التعزير الذي يجب حقا للعبد بالقذف ونحوه فإنه لتوقفه على الدعوى لا يقيمه إلا الحاكم إلا أن يحكما فيه. اهـ. فتح (قوله قنية) هذا العزو لقوله حال مباشرة المعصية، وأما قوله يقيمه كل مسلم فقد صرح به في الفتح وغيره (قوله وأما بعده إلخ) تصريح بالمفهوم. قال في القنية؛ لأنه لو عزره حال كونه مشغولا بالفاحشة فله ذلك؛ لأنه نهي عن المنكر وكل واحد مأمور به، وبعد الفراغ ليس بنهي؛ لأن النهي عما مضى لا يتصور فيتمحص تعزيرا، وذلك إلى الإمام. اهـ."
(باب التعزیر، ج:4، ص:64، ط:سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ويثبت الزنا عند الحاكم ظاهرا بشهادة أربعة يشهدون عليه بلفظ الزنا لا بلفظ الوطء والجماع كذا في التبيين.....الخ"
(كتاب الحدود ،الباب الثاني في الزنا،ج:2، ص:143، ط:دار الکتب العلمیة)
قرآن مجید میں ہے:
"وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔"(التغابن:14)
ترجمہ:”اور اگر تم معاف کردو اور درگذر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ (تمہارے گناہوں کا) بخشنے والا ہے ( اور تمہارے حال پر) رحم کرنے والا ہے۔ “(بيان القرآن)
حدیث شریف میں ہے:
"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل بني آدم خطاء وخير الخطائين التوابون . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي."
(کتاب الدعوات، باب الإستغفار والتوبة، الفصل الثانی، ج:1، ص:207، ط:رحمانیه)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام بنی آدم خطا کار ہیں(یعنی انبیاء کرام کےعلاوہ اس لیے کہ وہ خطا سے معصوم ہیں)اور بہترین خطا کرنے والے توبہ کرنے والے ہیں ۔
(مظاہرِ حق ، ج:2، ص:623، ط:مکتبۃ العلم)
فتاوی شامی میں ہے:
"وفيه أيضا أن ضمان المثليات بالمثل لا بالقيمة."
(کتاب البیوع، فروع فی البیع، ج:4، ص:516، ط:سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144708100011
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن