
میں نے ایک غلط کام کیا ، اس پر میرے بھائی نے مجھے کہا کہ میں والد صاحب کو بتاؤں گا ،تو میں نے اس سے کہا :اگر میں نے یہ کام دوبارہ کیا تو مجھ پر میری پہلی بیوی طلاق ہوگی ،پھر میں نے وہ کام دوبارہ بھی کیا ۔
اب دریافت امر یہ ہے کہ کیا جب میں پہلا نکاح کروں گا تو اس پر طلاق واقع ہوگی ؟ اور اگر واقع ہوتی ہے تو کتنی طلاقیں واقع ہوں گی اور کیا طلاق سے بچنے کا کوئی شرعی حیلہ ہے؟
صورتِ مسئولہ میں جب سائل غیرشادی شدہ ہے اور اسی حال میں اس نے یہ کہاہے کہ :"اگر میں نے یہ کام دوبارہ کیا تو مجھ پر میری پہلی بیوی طلاق ہوگی "۔جب کہ سائل کی بیوی موجود نہیں ہے ، لہذا مذکورہ کام کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ، البتہ اگر نکاح کی جانب یا عورت کی جانب اضافت کرتے ہوئے یوں کہا ہوکہ :جس عورت سے میں نکاح کروں گا، یا جو عورت میرے نکاح میں آئے گی اس کو طلاق ہوگی، اس صورت میں مذکورہ کام کرنے سے نکاح کے بعد بیوی پر ایک طلاق واقع ہوجائے گی۔جس کے بعد دونوں تجدید نکاح کرکے ساتھ رہ سکیں گے اور آئندہ کے لیے فقط دو طلاقوں کا حق ہوگا۔
اللباب میں ہے:
"وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح، مثل أن يقول: إن تزوجتك فأنت طالقٌ، أو كل امرأة أتزوجها فهي طالقٌ، وإن أضافه إلى شرطٍ وقع عقيب الشرط، مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالقٌ.
(وإذا أضافه) أي الطلاق (إلى) وجود (شرط وقع عقيب) وجود (الشرط) وذلك (مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق) ، وهذا بالاتفاق، لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت الشرط، ويصير عند وجود الشرط كالمتكلم بالطلاق في ذلك الوقت".
(اللباب في شرح الكتاب ،کتاب الطلاق،(3/ 46)، ط: المكتبة العلمية، بيروت، لبنان)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101905
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن