بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی میں جو تحفے دلہن کو دیے جاتے ہیں، وہ کس کی ملکیت شمار ہوں گے؟


سوال

ڈیڑھ سال قبل میری بہن کی شادی ہوئی تھی، اب طلاق ہوگئی ہے ، تو ازدواجی زندگی میں اس کے شوہر نے جو اس کو تحفے مکمل اختیار  اور قبضہ کے ساتھ  اس کے ہاتھ میں دیدیےتھے  کہ تمہاری مرضی اس کو رکھو یا بیچو ، اسی طرح بارات کے موقع پر جو سامان سسرال والول نے میری بہن کو مکمل قبضہ اور اختیار کے ساتھ دیا تھا ،اور اسی طرح منہ دکھائی کے وقت سونا وغیرہ  اس کو مکمل قبضہ کے ساتھ دیا  تھا، وہ کس کی ملکیت شمار ہوتی ہے؟میری بہن کی ملکیت یا سسرال والوں کی یا شوہر  کی ؟ جبکہ ان مواقع پر جو چیزیں دی جاتی ہیں وہ بطور تحفہ دی جاتی ہیں ۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً  مذکورہ تحفے ، سامان  اورسوناوغیرہ سائل کی بہن کومالک بناکر مکمل قبضہ کےساتھ دے دیےگئے تھے،تویہ سائل کی بہن کی ملکیت شمارہوں گے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية".

(کتاب الھبة، ج:5، ص:690، ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101296

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں