بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 محرم 1448ھ 29 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کے بعد ایک مرتبہ بھی حق زوجیت ادا نہیں کیا تو کیا حکم ہے؟


سوال

میری شادی کو چوتھا سال ہے،میرے شوہر نے اب تک میرے حقوق زوجیت ادا نہیں کیا،ایک بار بھی،ہر مرتبہ کوشش کی میں نے منانے کی مگر ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی نیا بہانا بنادیتے ہیں،گھر والوں نے بھی بہت سمجھایا لیکن وہ سنی ان سنی کر دیتے ہیں،اور بہانے بناتے ہیں،مجھ سے گھر والےبھی پوچھتے ہیں جب میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا سائلہ کا بیان درست ہے تو سائلہ کے شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کا حق زوجیت ادا کرے اور اگر اس کے لیے علاج معالجے کی ضرورت ہے تو علاج معالجہ میں سستی اور ٹال مٹول سے کام نہ لے، اور اپنی شریکِ حیات کے حقوق ادا کرے، اس طرح بلا وجہ بیوی پر ظلم کرنا اور اذیت پہنچانا سائلہ کے شوہر کے لیے جائز نہیں ہے،شوہر شرعا گناہ گار ہے، لہذااگر شوہر اپنا مذکورہ رویہ تبدیل نہیں کرتا اور سائلہ اپنے شوہر کے اس رویہ کو برداشت کرکے اس کے ساتھ رہ سکتی ہے تو درست، ورنہ سائلہ کا   اپنی عفت اور پاک دامنی کے خاطر  اپنے شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا شرعا جائز ہے۔

الدر المختار و حاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"ویسقط حقہا بمرة ویجب دیانةً أحیانا.

وبه علم أنه كان على الشارح أن يقول ويسقط حقها بمرة في القضاء أي لأنه لو لم يصبها مرة يؤجله القاضي سنة ثم يفسخ العقد. أما لو أصابها مرة واحدة لم يتعرض له لأنه علم أنه غير عنين وقت العقد، بل يأمره بالزيادة أحيانا لوجوبها عليه إلا لعذر ومرض أو عنة عارضة أو نحو ذلك..."

(  باب القسم،ج4،ص379،ط:سعید )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101479

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں