
ہمارے گاؤں میں ایک نیا اجتماعی اصول طے کیا جا رہا ہے کہ جو بھی لڑکا یا اس کے اہلِ خانہ شادی کریں گے، انہیں لازمی طور پر پانچ ہزار روپے مسجد کے چندے میں دینا ہوں گے، یہ رقم صدقہ کی نیت سے نہیں دی جاتی بلکہ اسے قانونی شرط اور جرمانہ کی حیثیت دی جا رہی ہے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ یہ مسجد کے لیے ہے اس لیے جائز ہے، جبکہ بعض کہتے ہیں کہ اس طرح زبردستی چندہ لینا شرع کے خلاف ہے۔
سوال: کیا شرعی لحاظ سے گاؤں یا کمیٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ نکاح کے ساتھ کسی شخص پر مالی جرمانہ یا لازمی چندہ مقرر کرے؟ اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے دینا چاہے تو اس کا حکم کیا ہوگا؟ اور اگر کمیٹی زبردستی اسے لازمی قرار دے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ براہِ کرم تفصیلی راہ نمائی فرما دیں!
فتویٰ نمبر : 144706101565
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن