بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کرنے پر پانچ ہزارجرمانے کے طور پرمسجد میں جمع کروانے کاحکم


سوال

ہمارے گاؤں میں ایک نیا اجتماعی اصول طے کیا جا رہا ہے کہ جو بھی لڑکا یا اس کے اہلِ خانہ شادی کریں گے، انہیں لازمی طور پر پانچ ہزار روپے مسجد کے چندے میں دینا ہوں گے، یہ رقم صدقہ کی نیت سے نہیں دی جاتی بلکہ اسے قانونی شرط اور جرمانہ کی حیثیت دی جا رہی ہے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ یہ مسجد کے لیے ہے اس لیے جائز ہے، جبکہ بعض کہتے ہیں کہ اس طرح زبردستی چندہ لینا شرع کے خلاف ہے۔

سوال: کیا شرعی لحاظ سے گاؤں یا کمیٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ نکاح کے ساتھ کسی شخص پر مالی جرمانہ یا لازمی چندہ مقرر کرے؟ اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے دینا چاہے تو اس کا حکم کیا ہوگا؟ اور اگر کمیٹی زبردستی اسے لازمی قرار دے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ براہِ کرم تفصیلی راہ نمائی فرما دیں!

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کا مال اس کی رضامندی اور خوش دلی کے بغیر لینا جائز نہیں ہے،اگرچہ اسے مسجد یا کسی اور نیک کام کےلیے استعمال کیا جائے،اسی طرح کسی شخص پر مالی جرمانہ عائد کرنا بھی جائز نہیں ہے،چاہے وہ گاؤں والوں کی طرف سے ہویا کسی کمیٹی کی طرف سے ہو۔

اسی طرح نکاح ایک عبادت ہےاورسنت مؤکدہ ہے،شریعت نے نکاح کےلیے جو شرائط مقرر کی ہیں وہ معروف ہیں،نکاح کرنے کےلیے کسی نئی شرط یا مالی جرمانہ کو لازم کرنا شرعاً درست نہیں ہے، نیز نکاح کوئی جرم نہیں کہ اس پر کوئی جرمانہ مقرر کیا جائے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  کسی شخص یا اس کے اہل خانہ پر شادی کرنے کی صورت میں ان پر کمیٹی کی طرف سے پانچ ہزار روپے  لازم کرنا جائز نہیں ہے، اس شخص سے اس کی رضامندی اور طیب ِ نفس کے بغیر مال لینا شرعاً جائز نہیں ہے اور مالی جرمانہ لینا شرعا ناجائز ہے،البتہ نکاح پڑھانے کی فیس وصول کرنا جائز ہے، اسی طرح طلب کیے بغیر اگر کوئی اپنی رضامندی سے مسجد میں حسب سہولت کچھ رقم دے دےتو یہ ثواب کا باعث ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا ‌بطيب ‌نفس ‌منه». رواه البيهقي في شعب الإيمان."

(‌‌باب الغصب والعارية،ج:2،ص:889،ط:المكتب الإسلامي - بيروت)

سنن ابی داؤد میں ہے:

"عن عمر بن الخطاب، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «‌من ‌بنى ‌مسجدا يذكر فيه اسم الله، بنى الله له بيتا في الجنة»."

(كتاب المساجد والجماعات، باب من بنى لله مسجدا، ج:1، ص:243، ط: دار إحياء الكتب العربية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(لا بأخذ مال في المذهب) بحر...وفي المجتبى أنه كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ.

لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي...وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ."

(كتاب الحدود،‌‌باب التعزير،ج:4،ص:61،ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101565

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں