بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کی تقریب میں معاصی اور اس کے ازالے کے لیے قطع تعلقی


سوال

1. کچھ لوگ اپنی شادی بیاہ میں اپنے گھروں میں گانے ساؤنڈ سسٹم وغیرہ چلاتے ہیں اور گھر میں عورتیں ناچتی ہیں اور اس سے پڑوسیوں کو اذیت ہوتی ہے، جب ان کو کوئی گانا چلانے سے منع کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ خوشی کا موقع ہے؛ اس لیے چلا رہے ہیں، بند نہیں کرتے، اس طرح کرنے والوں کے بارے میں کیا وعید ہے؟  کیا شادیوں میں اس طرح کے خرافات کر کے گھر میں سکون اور برکت ہو سکتی ہے؟

2. کچھ لوگ نکاح اور بارات کا کھانا وغیرہ شادی ہالوں میں کرتے ہیں اور کھانا وغیرہ تقسیم کرنے میں ویٹروں سے خدمت لی جاتی ہے، جس سے پردے کا نظام صحیح نہیں ہو سکتا، اس کا کیا حکم ہے؟

3. جو لوگ شادیوں میں مذکورہ خرافات یعنی گانا وغیرہ ساؤنڈ چلانا ناچنا وغیرہ کرتے ہیں، اگر ان سے تعلقات ختم کیے جائیں تو کیا یہ تعلقات ختم کرنا درست ہے؟

جواب

1. گانا سننا اور بجانا شریعت میں حرام ہے،قرآن کریم میں ہے: 

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَها هُزُواً أُولئِكَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ (سورة  لقمان ، 6) 

ترجمہ:اور بعض لوگ ایسے  بھی ہیں جو ان باتوں کے خریدار بنتے ہیں جو اللہ سے غافل کرنے والی ہیں، تاکہ اللہ کی یاد سے بے سمجھے گم راہ کرے اور اس کی ہنسی اڑائے ، ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ  "لهو الحدیث"سے  مراد گانا ہے، یہی تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت جابر رضی اللہ عنہم ، حضرت  عکرمہ، سعید بن جبیر، مجاہد ، مکحول، حسن بصری اورعمرو بن شعیب  رحمہم اللہ جیسے جلیل القدر حضرات سے منقول ہے۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم نے ارشاد فرمایا : گانا دل میں نفاق کو اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو اگاتا ہے۔

حضرت نافع سے روایت ہے کہ میں ایک جگہ حضرت  عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ جارہا تھا، انہوں نے بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور راستے سے ایک طرف ہوکر چلنے لگے، دور ہوجانے کے بعد مجھ سے کہا :اے نافع کیا تم کچھ  سن رہے ہو؟ میں نے کہا : نہیں، انہوں نے کان سے انگلیاں نکالیں اور فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جارہا تھا،نبی کریم ﷺ نے بانسری کی آواز سنی اور ایسے ہی کیا جیسا میں نے کیا۔

ان دلائل سے یہ بات واضح ہوئی کہ موسیقی حرام ہے، پھر جس شادی میں حرام امور کا ارتکاب کیا گیا ہو اور  اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی پرواہ نہ کی گئی ہو اس سے خیر و برکت اٹھا لی جاتی ہے۔

2. شادی ہال میں عورتوں کے کھانے کا انتظام کرنے کے لیے مرد ویٹر مقرر کرنا ناجائز اور گناہ کا کام ہے؛ اس لیے کہشریعتِ مطہرہ نے عورتوں کو پردہ کرنے کی بہت تاکید کی ہے اور بے پردگی کو  سخت گناہ قرار دیا ہے، لہذا دعوت کرنے والے کو چاہیے کہ  شادی ہال میں عورتوں کے کھانے کا انتظام کرنے کے لیے لیڈیز ویٹر کا انتظام کرے۔

3. اگر کوئی شخص مذکورہ گناہوں میں مبتلا ہو اور تنبیہ کے باوجود  اس سے باز نہ آتا ہو  تو اُس کی اصلاح کی نیت سے اُس سے قطع تعلقی کی جا سکتی ہے؛ تا کہ وہ اپنی غلط عادات سے باز آ جائے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت کعب بن مالک اور اُن کے دو ساتھیوں (رضی اللہ عنہم)  کے غزوہ تبوک میں  پیچھے رہ جانے کی وجہ سے متارکت اور قطع تعلقی  کا حکم فرمایا تھا۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے: 

"روى ابن جرير: حدثني يونس بن عبد الأعلى قال: أخبرنا ابن وهب، أخبرني يزيد بن يونس عن أبي صخر عن أبي معاوية البجلي عن سعيد بن جبير عن أبي الصهباء البكري أنه سمع عبد الله بن مسعود وهو يسأل عن هذه الآية ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل اللهفقال عبد الله بن مسعود: الغناء والله الذي لا إله إلا هو، يرددها ثلاث مرات، حدثنا عمرو بن علي، حدثنا صفوان بن عيسى، أخبرنا حميد الخراط عن عمار عن سعيد بن جبير، عن أبي الصهباء أنه سأل ابن مسعود عن قول الله ومن الناس من يشتري لهو الحديث قال: الغناء «1» ، و كذا قال ابن عباس وجابر وعكرمة وسعيد بن جبير ومجاهد ومكحول وعمرو بن شعيب وعلي بن بذيمة.

و قال الحسن البصري: نزلت هذه الآية ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله بغير علم في الغناء والمزامير."

(سورۃ لقمان ، جلد : 6 ، ص : ۲۹۶ ط : دارالکتب العلمیۃ) 

مشکاۃ المصابیح میں ہے۔

" و عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء الزرع» . رواه البيهقي في «شعب الإيمان."

(کتاب الاداب ، باب البیان و الشعر ، الفصل الثالث ، جلد : 3 ، ص : 1355 ، ط : المکتب الاسلامی ،بیروت) 

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

" و عن نافع  قال: كنت مع ابن عمر في طريق فسمع مزمارا فوضع أصبعيه في أذنيه وناء عن الطريق إلى الجانب الآخر ثم قال لي بعد أن بعد: يا نافع هل تسمع شيئا؟ قلت: لا فرفع أصبعيه عن أذنيه قال: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمع صوت يراع فصنع مثل ما صنعت. قال نافع: فكنت إذ ذاك صغيرا. رواه أحمد وأبو داود."

( کتاب الآداب، باب البیان و الشعر، الفصل الثالث جلد : 3 ، ص : 1355 ، ط : المکتب الاسلامی ، بیروت)

مرقاة المفاتيح میں ہے:

"عن أبي أيوب الأنصاري - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ولا يحل للرجل أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال يلتقيان فيعرض هذا ويعرضهذا، وخيرهما الذي يبدأ بالسلام ". متفق عليه.»

...قال الخطابي: رخص للمسلم أن يغضب على أخيه ثلاث ليال لقلته، ولا يجوز فوقها إلا إذا كان الهجران في حق من حقوق الله تعالى، فيجوز فوق ذلك. وفي حاشية السيوطي على الموطأ، قال ابن عبد البر: هذا مخصوص بحديث كعب بن مالك ورفيقيه، حيث أمر صلى الله عليه وسلم أصحابه بهجرهم، يعني زيادة على ثلاث إلى أن بلغ  خمسين يوما. قال: وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. وفي النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين، فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق."

(8/ 3146،  کتاب الاداب، باب ما ينهى عنه من التهاجر والتقاطع واتباع العورات، الفصل الاول، ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101686

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں