بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کے موقع پر سسرال کی جانب سے دلہن کو دیے گئے زیور کی ملکیت اور اختلاف کی صورت میں تحکیم کا مشورہ


سوال

میں نے اپنی بیٹی کی شادی تقریباً دو سال پہلے اپنے بھتیجے (یعنی اپنے چھوٹے بھائی کے بیٹے) سے کی تھی اور میں نے  اس کو شادی کے موقع پر جو زیور دیا تھا، وہ آج کے حساب سے تقریباً تیس لاکھ روپے کی  مالیت کا ہے، اور میری بیٹی کے سسرال والوں نے بھی جو زیور دیا تھا، اس کی قیمت بھی آج کے حساب سے تقریباً تیس لاکھ روپے بنتی ہے،میری بیٹی کے سسرال والوں نے جب یہ زیور دیا تھا تو اس وقت انہوں نے کسی چیز کی صراحت نہیں کی تھی یعنی یہ نہیں کہا تھا کہ یہ زیور تحفہ ہے یا بطورِ عاریت دیا جا رہا ہے۔

اب تقریباً تین ماہ سے میری بیٹی کے سسرال والے اس پر الزام لگا رہے ہیں کہ اس نے سارا زیور  جو میں نے اپنی بیٹی کو دیا تھا اور جو انہوں نے (سسرال والوں نے) دیا تھا  اپنے والدین کے گھر لے گئی ہے، مگر وہ یہ نہیں بتاتے کہ کس دن کس وقت یا کن حالات میں میری بیٹی زیور لے کر گئی،اصل حقیقت یہ ہے کہ میری بیٹی اپنے سسرال سے کوئی زیور اپنے میکے نہیں لے کر آئی، اور سسرال والوں کے پاس بھی اس الزام کے حوالے سے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے،اب اس بات پر دونوں خاندانوں میں سخت بدمزگی پیدا ہو گئی ہے اور تعلقات خراب ہوتے جارہے ہیں ۔

میرا سوال یہ ہے کہ:

کیا یہ بات ثابت کرنے کے لیے لڑکی اور اس کے گھر والے قرآنِ پاک اٹھاکر گواہی دے سکتے ہیں کہ میری بیٹی  کوئی زیور اپنے میکے نہیں لے کر آئی ہے؟

کیا اس معاملے میں قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانا شرعاً درست ہے تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ میری بیٹی نے یہ حرکت نہیں کی؟

 وضاحت: شادی کے موقع پر  سسرالوں نے جو زیور دیا تھا  لڑکی نے اس وقت وہ پہن کر  پھر اتار کر اپنے کمرے میں رکھا تھا ، اب کچھ عرصہ سے  وہ زیور لڑکی کےکمرہ میں نہیں ہے، جس کی بناء پر سسرال والے لڑکی پر یہ دعوی کررہے ہیں  کہ زیور اپنے میکے لے گئی ہے،  جب کہ لڑکی اور اس کے خاندان  والے اس کے منکر ہیں ۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے جو زیور وغیرہ شادی کے موقع پر  اپنی بیٹی کو دیا تھا، وہ بیٹی ہی کی ملکیت ہے، لہٰذا وہ اپنی ملکیت میں تصرف کرنے کی مکمل حق دار ہے، چاہے اسے اپنے پاس رکھے یا میکے لے جائے، سسرال والوں کو اس پر کسی قسم کے اعتراض یا دعوے کا کوئی حق حاصل نہیں۔جہاں تک اس زیور کا تعلق ہے جو سسرال والوں نے بیٹی کو دیا ہے، اگر انہوں نے دیتے وقت یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ تحفہ (گفٹ) ہے یا عاریت (استعمال کے لیے دیا گیا)ہے، تو ایسی صورت میں عرف کا اعتبار کیا جائے گا۔اگر شوہر یا اس کے خاندان میں یہ عرف ہو کہ جو زیور دلہن کو دیا جاتا ہے، وہ اس کی ملکیت بن جاتا ہے  جیسا کہ عام طور پر معاشرے میں یہی رواج ہے تو وہ زیور بھی لڑکی کی ملکیت شمار ہوگا، اور سسرال والوں کو اس پر بھی کوئی اعتراض یا دعویٰ کرنے کا حق نہیں ہوگا۔

لیکن اگر لڑکے کے خاندان میں یہ عرف ہو کہ لڑکی کو جو زیور دیا جاتا ہے، وہ عاریتاً (یعنی صرف پہننے کے لیے ملکیت کے بغیر) دیا جاتا ہے، تو پھر وہ زیور سسرال والوں کی ملکیت شمار ہوگا۔ ایسی صورت میں سسرال والوں کا مذکورہ  دعوی کہ( لڑکی  زیور اپنے  میکے لے گئی ہے ) قابل سماعت ہوگا،چونکہ لڑکی اور اس کے گھر والے اس کے منکر ہیں تو    ایسے اختلاف کی صورت میں دونوں (فریقین) پر لازم ہے کہ کسی مستند عالمِ دین یا مفتی کے پاس جاکر انہیں اپنے اس مسئلے کا  فیصل/ ثالث مقرر کریں، پھر   لڑکی کےسسرال والے  اس کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کریں  اور ثالث  ان سے  ان کے  دعوی پر دومعتبر گواہ طلب کرے، اگر وہ گواہ پیش کردیں تو فیصلہ سسرال والوں کے حق میں ہوگا، اور لڑکی پر لازم ہوگا کہ مذکورہ زیور واپس کرے،  اور اگر  لڑکی کے سسرال والے  شرعی گواہ  پیش  نہ کرسکے   تو  سسرال والوں کے مطالبہ پر  لڑکی پر قسم آئے گی،  اگرلڑکی قسم اٹھالیتی ہے  تو  ثالث  لڑکی  کے حق میں     فیصلہ کردے گا ، اس صورت میں  لڑکی پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی  کیوں کہ  عاریت  والی چیز بغیر  تعدی کے اس کے   کمرے سے غائب  ہوگئی ہے  ،اور اگر لڑکی قسم کھانے سے انکار کردے، تو ایسی صورت میں فیصلہ سسرال والوں کے حق میں کیا جائے گا، اور لڑکی پر وہ زیور واپس کرنا لازم ہوگا۔

ملحوظ  رہے کہ مذکورہ بالاطریقے کے مطابقہ ہی  فیصلہ کرناچاہیے، تاہم اگرلڑکی اپنے سسروالوں کی تسلی کےلیے قرآن پر  ہاتھ رکھ کر اپنی براءت کےلیے قسم اٹھاتی ہے  تو یہ جائز  ہے ۔

العقود الدریہ  فی تنقیح  الفتاوی  الحامدیہ میں ہے :

"‌المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره."

(کتاب المداینات،ج:2،ص: 226،ط: دار المعرفۃ)

فتاوی شامی میں ہے:

"كل أحد يعلم الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها".

(کتاب النکاح،باب المہر،ج:3،ص:158،ط:سعید)

وفیہ أیضاً:

"والمعتمد البناء على العرف كما علمت".

(کتاب النکاح ،باب المہر، ج:3،ص:157،ط:سعید)

     :فتاوی ہندیہ میں ہے 

 "وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها، منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية".

(کتاب النکاح، باب المهر، الفصل السادس عشر في جهاز البنت،ج:1،ص:327،ط:رشیدیة)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"قال الحسن بن زياد عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - إذا شك لرجل فيما يدعي عليه فينبغي له أن يرضي خصمه ولا يعجل بيمنه ويصالحه وإن كان في شبهة ينظر إن كان أكبر رأيه أن دعواه حق فلا يسعه أن يحلف وإن كان أكبر رأيه أن دعواه باطلة يسعه أن يحلف هكذا في محيط السرخسي الاستحلاف يجري في الدعاوى الصحيحة دون فاسدتها كذا في الفصول العمادية فإن صحت الدعوى سأل المدعى عليه عنها فإن أقر أو أنكر فبرهن المدعي قضي عليه وإلا حلف بطلبه كذا في كنز الدقائق.إذا توجهت اليمين على المنكر إن شاء حلف إن كان صادقا وإن شاء فدى يمينه بالمال كذا في محيط السرخسي."

(کتاب الدعوی، الباب الثالث في اليمين، الفصل الأول في الِاستحلاف والنكول، ج:4، ص:13، ط:دارالفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101818

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں