بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کے موقع پر لڑکی کو دیے گئے تحائف کا حکم


سوال

میری بیٹی اور اس کے شوہر کے درمیان ناچاقی اور ناموافقت کے بڑھنے کی وجہ سے بات اب طلاق تک پہنچ چکی ہے، طلاق کی صورت میں لڑکے اور اس کے گھر والوں کی طرف سے دی جانے والی چیزیں جو بطور تحفہ دی گئی تھیں، جس میں زیورات بھی شامل ہیں، کیا ان کو واپس کرنا ہمارے ذمہ لازم ہے؟ لڑکے والے اس کا مطالبہ کررہے ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں شادی کے موقع پر سائل کی بیٹی کو سسرال کی جانب  سے جو کپڑوں اور دیگر ساز و سامان کی صورت میں تحائف ملے تھے وہ سائل کی بیٹی کی ہی ملکیت ہیں،البتہ جو سونا سسرال کی طرف سے ملا تھا تو اس کی تین صورتیں ہیں:

(۱) سسرال والوں نے شادی کے موقع پر سونا اس بات کی صراحت کرکے دیا تھا کہ یہ ہماری طرف سے گفٹ ہے تو اس صورت میں مذکورہ سونا سائل کی بیٹی کی ہی ملکیت شمار ہوگا۔

(۲) سسرال والوں نے شادی کے موقع پر سونا اس بات کی صراحت کرکے دیا تھا کہ یہ ہماری طرف سے استعمال کے لیے  ہے تو اس صورت میں مذکورہ سونا دینے والے  کی  ملکیت میں برقرار رہے گا،سائل کی بیٹی اس کی مالکہ شمار نہیں ہوگی۔

(۳)سسرال والوں نے دیتے وقت کسی بات کی صراحت نہیں کی تھی کہ یہ بطور ِہدیہ(گفٹ) کے ہے یا استعمال کے تو اس صورت میں لڑکے کے خاندان کا عرف دیکھا جائے گا، اگر اس لڑکے کے خاندان میں شادی کے موقع پر سونا بطورِ ہدیہ(گفٹ) کے دیا جاتا ہے طلاق وغیرہ کے بعد لڑکی سے واپس نہیں لیا جاتا تو یہ بھی گفٹ شمار کیا جائے گا، اور اگر صرف استعمال کے لیے دیاجاتا ہے تو مذکورہ سونا بھی استعمال کے لیے شمار کیا جائے گا، اور سائل کی بیٹی اس کی مالکہ شمار نہیں ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"كل أحد يعلم الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها.

قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ‌ليلة ‌العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا.

(جهز ابنته بجهاز وسلمها ذلك ليس له الاسترداد منها ولا لورثته بعد أن سلمها ذلك وفي صحته) بل تختص به (وبه يفتى)."

(كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:135- 158، ط:سعيد)

فتاوی عالمگیری  میں ہے:

"وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها، منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية".

(كتاب النكاح، الباب الثاني، الفصل السادس عشر في جهاز البنت، ج:1، ص:327، ط:رشيدية)

العقود الدریہ  فی تنقیح  الفتاوی  الحامدیہ   میں ہے :

"المتبرع لا يرجع ‌بما ‌تبرع به على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره."

(كتاب المداينات، ج:2، ص:226، ط:دار المعرفة)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100878

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں