
اگر لڑکی کے والدین شادی سے پہلے یا شادی کے موقع پر لڑکے کو منہ دکھائی وغیرہ کے طور پر مختلف اشیاء دیں، تو کیا طلاق کی صورت میں وہ تمام اشیاء واپس لے سکتے ہیں؟
اور یہ چیزیں عام طور پر شادی کی رسومات کے طور پر دی جاتی ہیں۔
صورت مسئولہ میں شادی سے پہلے یا شادی کے بعد لڑکی کے والدین کی جانب سے لڑکے کو منہ دکھائی وغیرہ کے طور پر دی جانے والی اشیاء عرفا ہدیہ شمار ہوتی ہیں، اور وہ لڑکے کو ان اشیاء کا مالک بنا کر دیتے ہیں۔ لہٰذا لڑکی والوں کا ان اشیاء کا مطالبہ کرنا شرعا درست نہیں۔ البتہ اگر طلاق واقع ہو جائے اور لڑکی والے اپنی دی ہوئی اشیاء واپس طلب کریں، اور وہ اشیاء بعینہٖ لڑکے کے پاس موجود ہوں،اور وہ اپنی رضامندی سے واپس کرنا چاہے تو لڑکی والوں کے لیے انہیں واپس لینا جائز ہے۔ تاہم اگر وہ اشیاء استعمال ہو چکی ہوں، تلف ہو گئی ہوں ، تو اس صورت میں لڑکی والوں کو ان کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے :
"(هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه)وهي تمليك العين كذلك (قوله مجانا) زاد ابن الكمال للحال لإخراج الوصية (قوله: بلا عوض) أي بلا شرط عوض فه۔۔۔ لأن معنى مجانا عدم العوض لا عدم اشتراطه"
(کتاب الھبة ، ج : 5 ، ص : 687 ، ط : دار الفكر بيروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
" في الفتاوى الغياثية الرجوع في الهبة مكروه في الأحوال كلها ويصح، كذا في التتارخانية. يجب أن يعلم بأن الهبة أنواع، هبة لذي رحم محرم وهبة لأجنبي أو لذي رحم ليس بمحرم أو لمحرم ليس بذي رحم وفي جميع ذلك للواهب حق الرجوع قبل التسليم هكذا في الذخيرة، سواء كان حاضرا أو غائبا أذن له في قبضه أو لم يأذن له، كذا في المبسوط ليس له حق الرجوع بعد التسليم في ذي الرحم المحرم وفيما سوى ذلك له حق الرجوع إلا أن بعد التسليم لا ينفرد الواهب بالرجوع بل يحتاج فيه إلى القضاء أو الرضا أو قبل التسليم ينفرد الواهب"
(كتاب الھبة ، ج : 4 ، ص : 385 ، ط : دار الفكر بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802100170
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن