
میری عمر تیس (30) سال ہے۔ میرے والدین وفات پاچکے ہیں، اور میں نانا کے گھر رہتا ہوں جہاں میرے ماموں ذہنی مریض ہیں۔ ان کے ساتھ رہتے رہتے میری اپنی ذہنی حالت بھی متاثر ہورہی ہے۔ نانا نہ میری شادی کی طرف توجہ دیتے ہیں، نہ میری ذہنی حالت کی فکر کرتے ہیں، اور نہ ہی ماموں کی مناسب دیکھ بھال کرتے ہیں۔ وہ صرف اپنے کام میں مشغول رہتے ہیں، جبکہ ماموں کی کوئی بہن، والدہ یا بھائی موجود نہیں ہے۔ میرا خرچ اور میرے ماموں کا خرچ، اوران کے علاج و معالجہ کاخرچہ بھی نانا ہی برداشت کرتے ہیں۔ میرےنانا ایک ریٹائرڈ ملازم ہیں اور ان کی پنشن آتی ہے، اسی سے گھر کا خرچ چلتا ہے۔ میں بھی ملازم ہوں، میری تنخواہ ہے جو میں اپنے پاس رکھتا ہوں، نانا نے کبھی مجھ سے نہیں لی، البتہ وہ میری شادی نہیں کر رہے۔جس کی وجہ سےمیں بہت پریشان ہوں اورکوئی رشتہ بھی نہیں آرہا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا شرعاً میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں اپنی شادی کرکے اپنے گھریلو معاملات کو الگ کرلوں، اور نانا و ماموں کی خدمت کے لیے مختصر وقت نکالتا رہوں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل شرعاً نانا کے گھر رہنے کا پابند نہیں ہے، لہٰذا اگر نانا سائل کی شادی کی طرف توجہ نہیں دے رہے اور سائل ازدواجی و گھریلو زندگی کے بہتر انتظام کے لیے علیحدہ رہائش اختیار کرنا چاہتا ہےاور اس کی استعداد بھی رکھتا ہے تو ایسا کرنا اس کے لیے شرعاً جائز ہے۔
البتہ شادی کے بعد بھی نانا اور ماموں کی خدمت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا اہتمام کرتا رہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"ولا يحجر حر مكلف بسفه ....وعندهما يحجر ....ثم هذا الخلاف في تصرفات تحتمل الفسخ ويبطلها الهزل وأما ما لا يحتمله ولا يبطله الهزل فلا يحجر عليه بالإجماع فلذا قال إلا في نكاح وطلاق."
(كتاب الحجر، ج: 6، ص: 147، ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله و أهلها إلا أن تختار ذلك كذا في العيني شرح الكنز."
(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، ج: 1، ص: 556، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100664
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن