
ایک شخص کی شادی کو چار سال ہو چکے ہیں۔ شادی کے تین ماہ بعد شوہر پردیس چلا گیا اور اب تک وہیں ہے۔ وہ نہ اپنی بیوی کو نان و نفقہ دیتا ہے اور نہ ہی اس سے فون پر رابطہ کرتا ہے۔ ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟
شریعت نے میاں بیوی دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق لازم کیے ہیں، اور دونوں کو حقوق کی بجا آوری کی تاکید کی ہے، بیوی کا نان و نفقہ شریعت نے شوہر کے ذمہ لازم کیا ہے، اسی طرح شوہر کو بیوی کی اجازت کے بغیر چار ماہ سے زائد دوسرے ملک رہنے کی اجازت بھی نہیں ہے،لہذاصورتِ مسئولہ میں اگر شوہر واقعۃً نان ونفقہ ادا نہیں کرتا تو اس معاملے کے حل کے لیے اولاً تودونوں خاندانوں کے سمجھ دار اور دیانت دار بڑوں کوبیچ میں ڈال کرافہام وتفہیم کے ساتھ اس مسئلہ کوحل کرانےکی کوشش کی جائے، اگر کوشش کے باوجود بھی مصالحت کی کوئی راہ نہ بن پائے ،اور شوہر نہ گھر بسانا چاہتا ہو ،نہ نان ونفقہ دیتا ہو ،اور بیوی کےلیے اسی حالت میں عفت وپاک دامنی کے ساتھ رہنا مشکل ہو، جس کی وجہ سے جدائی ناگزیرہو تو ایسی صورت میں بیوی اپنے شوہرسے طلاق کا مطالبہ کرے اور شوہر کو بھی چاہیے کہ معاملے کو لٹکاکر رکھنے کے بجائے اپنی بیوی کو عزت سے طلاق دے کر آزاد کردے، معاملہ کو لٹکاکر رکھنا اور بیوی کو اذیت دینا شوہر کے لیے جائز نہیں ، تاہم اگرشوہرطلاق نہ دےتو عورت اپنے مہرکی معافی کے عوض شوہرکوخلع کےلیے آمادہ کرے ۔
اور اگر نباہ کی بھی کوئی صورت نہ بن پائے اور شوہر طلاق بھی نہ دے اور نہ ہی خلع پر راضی ہو، تو بیوی کسی مسلمان جج کی عدالت میں نان نفقہ نہ دینے اور حقوقِ زوجیت اد ا نہ کرنے کے بنیاد پرفسخِ نکاح کامقدمہ دائرکرے، اس کے بعد عدالت میں دو شرعی گواہوں کے ذریعے اپنے نکاح کوثابت کرے، اس کے بعداپنے شوہرکے تعنت یعنی نان ونفقہ نہ دینے اورحقوق زوجیت ادا نہ کرنے کودوگواہوں کے ذریعے ثابت کرے کہ شوہرنہ گھربسانے پرآمادہ ہے،نہ ہی نان ونفقہ دیتاہے اورنہ ہی خود اس کے پاس اس کاانتظام ہے، اس کے بعدعدالت شوہرکو حاضرہونے کاحکم دے گی، اگرشوہرعدالت میں حاضرہوکرنان ونفقہ دینے اورگھربسانےپرآمادہ ہوجائے تو فبہا، اور اگر وہ حاضرنہ ہویاحاضرہوکرحقوقِ زوجیت ادا کرنے اورنان ونفقہ دینے کے لیے تیار نہ ہو تو ان دونوں صورتوں میں عدالت کونکاح فسخ کرنے کااختیار حاصل ہوگا ، عدالت کے فسخِ نکاح کا فیصلہ سنا نے کے بعد عورت اپنی عدت (تین ماہواریاں) گزارکر دوسری جگہ نکاح کرسکے گی،لیکن عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت سےیکطرفہ خلع حاصل کرے،اگر اس نے عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کر بھی لی تو یہ خلع شرعاً معتبر نہیں ہوگا،اور عورت کا نکاح اپنے شوہر سے ختم نہیں ہوگا۔
قرآن مجید میں ہے:
"وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَٱبْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهٖ وَحَكَمًامِّنْ أَهْلِهَآ إِنْ يُّرِيْدَآ إِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ ٱللّٰهُ بَيْنَهُمَآۗ إِنَّ ٱللّٰهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيْرًا (٣٥)(سورة النساء)".
ترجمہ:
اور اگر تم اوپر والوں کو ان دونوں میاں بیوی میں کشاکش کا اندیشہ ہو تو تم لوگ ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتاہومرد کے خاندان سے اور ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتاہو عورت کے خاندان سے بھیجو ،اگر ان دونوں آدمیوں کو اصلاح منظور ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان میاں بی بی کے درمیان اتفاق پیدا فرمادیں گے،بے شک اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑے خبر والے ہیں ۔
ایک دوسری آیت میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ ٱللّٰهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا ٱفْتَدَتْ بِهِ.(البقرة: 229)".
ترجمہ:
سو اگر تم لوگوں کو یہ احتمال ہو کہ دونوں ضوابط خداوندی کو قائم نہ کرسکیں گے تو کوئی گناہ نہ ہوگااس(مال کے دینے)میں جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑالے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس."
(کتاب الطلاق، باب النفقات، ج: 3 ص: 572 ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"تجب علی الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمیة والفقیرة والغنیة دخل بها أو لم یدخل، كبیرةً کانت المرأة أو صغیرةً، یجامع مثلها، کذا في فتاویٰ قاضي خان. سواء کانت حرةً أو مکاتبةً، كذا في الجوهرة النیرة."
(كتاب الطلاق، الباب التاسع عشر فی النفقات، ج: 1، ص: 544، ط: رشیدیة)
بدائع الصنائع ميں ہے:
"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول ؛ لأنه عقد علي الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول".
(کتاب الطلاق، فصل واما الذی یرجع الی المرأۃ، ج: 3، ص: 145، ط: دار الكتب العلمية)
الاختيار لتعليل المختار میں ہے :
"الخلع:وهو أن تفتدي المرأة نفسها بمال ليخلعها به، فإذا فعلا لزمها المال ووقعت تطليقة بائنة.
قال: (وهو أن تفتدي المرأة نفسها بمال ليخلعها به، فإذا فعلا لزمها المال ووقعت تطليقة بائنة) والأصل في جوازه قوله تعالى: {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] ، وإنما تقع تطليقة بائنة لقوله عليه الصلاة والسلام: «الخلع تطليقة بائنة»."
( کتاب الطلاق،باب الخلع، ج: 3، ص: 156، ط: دار الكتب العلمية)
حیلہ ناجزۃ میں ہے :
"والمتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمیر ما نصه : إن منعھا نفقة الحال فلها القیام فإن لم یثبت عسرہ أنفق أو طلق و إلا طلق علیه، قال محشیه : قوله وإلا طلق علیه أي طلق علیه الحاکم من غیر تلوم... إليأن قال: وإن تطوع بالنفقة قریب أو أجنبي فقال ابن القاسم: لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها، وقال ابن عبدالرحمن: لا مقال لها لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهی وهو الذي تقضیه المدونة؛ کما قال ابن المناصب، انظر الحطاب، انتهی."
(فصل في حكم المتعنت، ص: 73، ط: دار الاشاعت)
احسن الفتاوی میں ہے:
"اولاً اس عورت پر لازم ہے کہ شوہر کو کسی نہ کسی طریق سے خلع پر راضی کرے، اگر وہ کسی صورت میں بھی خلع پر راضی نہ ہو اور عورت کو سخت مجبوری بھی ہو یعنی کوئی شخص اس کے مصارف کا کفیل نہیں بنتا، اور نہ خود یہ اپنی عزت کو محفوظ رکھ کر کوئی صورتِ کسبِ معاش کی اختیار کر سکتی ہو تو ایسی مجبوری میں مذہبِ مالکی کے مطابق عورت حاکمِ مسلم کے پاس دعویٰ پیش کرے کہ اس کا شوہر وسعت کے باوجود خرچ نہیں دیتا۔ حاکم شرعی شہادت سے پوری تحقیق کرے گا، اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو گیا تو حاکم شوہر کو حکم دے گا کہ بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دے دو، ورنہ نکاح فسخ کر دوں گا، اگر شوہر کوئی صورت قبول نہ کرے تو بلا انتظارِ مدت فوراً ہی حاکم نکاح فسخ کر دے گا، اس بارہ میں مذہبِ مالکی میں یہ صراحت نہیں کہ یہ طلاق بائن ہے یا رجعی! فتاویٰ مالکیہ میں رجعی ہونے کو ترجیح دی گئی ہے، لہٰذا فیصلہ کے بعد عدت گزرنے سے قبل اگر شوہر نفقہ دینے پر تیار ہو گیا تو اسے رجوع کا اختیار ہے، البتہ تجدیدِ نکاح بہتر ہے، اگر عورت جدید نکاح پر راضی نہ ہو تو بلا تجدیدِ رجوع بھی اسے رکھ سکتا ہے۔"
(کتاب الطلاق، باب خیار الفسخ، ج: 5، ص: 412، ط: سعید)
کفایت المفتی میں ہے:
”اگر شوہر کے مظالم ناقابل برداشت ہوں اور وہ طلاق بھی نہ دےاور عورت کی عصمت خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو عورت کسی مسلمان حاکم کی عدالت سے اپنا نکاح فسخ کراسکتی ہے اور بعد حصول فسخ و انقضائے عدت دوسرا نکاح کرسکتی ہے۔“
( کتاب الطلاق، فصل نہم زوج کا ظلم اورزیادتی،ج:6، ص:151،ط:دار الاشاعت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144801100402
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن