
ایک لڑکا اور لڑکی کے درمیان فیس بک کے ذریعے تعلق قائم ہوا اور دونوں نے قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ ہم ایک دوسرے سے شادی کریں گے، جب کہ دونوں کے خاندان والے اس رشتہ پر راضي بھی نہیں ہیں اور لڑکا، لڑکی نے جو قسم کھائی ہے اس پر کوئی گواہ بھی نہیں ہے۔ جب لڑکی کو معلوم ہوا کہ میرے خاندان والے اس رشتے پر راضی نہیں ہیں، تو اس نے بھی اس رشتے سے معذرت کرلی، جب کہ لڑكا بضد ہے کہ ہم نے جو قسم کھائی تھی، اس سے ہمارا نکاح منعقد ہوچکا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ ان دونوں نے جو قسم کھائی تھی کہ ہم ایک دوسرے سے شادی کریں گے، ان الفاظ سے دونوں کے درمیان نکاح منعقد ہوگیا ہے یا نہیں؟
وضاحت: یہ الفاظ لڑکا لڑکی نے محض اظہارِ محبت کے طور پر کہے تھے۔
واضح رہے کہ اجنبی مرد و عورت کا آپس میں بے تکلفانہ گفتگو کرناشرعا جائز نہیں، نیز نکاح کے انعقاد کے لیے مجلسِ نکاح میں شرعی گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کرنا شرط اور ضروری ہے، محض قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے سے نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
فتای ہندیہ میں ہے
"(وأما ركنه) فالإيجاب والقبول، كذا في الكافي والإيجاب ما يتلفظ به أولا من أي جانب كان والقبول جوابه هكذا في العناية ..... (ومنها) الشهادة قال عامة العلماء: إنها شرط جواز النكاح هكذا في البدائع."
(كتاب النكاح، ج:1، ص:267، ط:دار الفكر)
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں لڑکا اور لڑکی نے جو قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے شادی کریں گے، یہ محض وعدہ ہے، اس سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، دونوں بدستور اجنبی ہی ہیں۔فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144708101780
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن