بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کے دو سال بعد ولیمہ کرنے کا حکم


سوال

میں ایک بیوہ خاتون تھی،  میں نے ایک شخص سے گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا، وہ شخص میرا سسرالی ہے اور یہ بات سسرال میں بتا نہیں سکتی،  کیوں کہ کوئی یہ راستہ قبول نہیں کرے گا۔میری 4 بیٹیاں ہیں ، وہ شخص میرے پہلے شوہر کے انتقال کے بعد سے ہی میرے گھر کے اخراجات اٹھایا ہوا  تھا،  نکاح کی پیشکش ملنے پر انکار کی گنجائش نہیں تھی اور خاندان کی وجہ سے   بتا نہیں سکتے کیوں خاندان  والے اس رشتے کو نہیں سمجھیں گے ، میرے گھر کے حالات مختلف ہیں ، گھر میں کوئی بھی اتنامالی مضبوط نہیں ہے،  مجھے اپنے بھائی اور بہن سے بلیک میل ہونے کا امکان ہے کافی حد تک،  اس لیے نہیں بتایا اپنے گھر والوں کو بھی،  امی جانتی ہیں میری اور میری 2 سہیلیوں  کو پتہ ہے،  میری بیٹیوں کو بھی نہیں معلوم،  اس شخص کی  بھی پہلے سے 2 بیویاں ہیں۔

 اگر میرے بارے میں پتہ لگا تو بہت مسئلہ ہوجائے گا۔ کوئی بھی اسے قبول نہیں کرے گا  ،  میری 4بیٹیوں سمیت اس شخص نے ہمیں اپنایا اور اب وہ ہمیں بہت عزت سے رکھتے ہیں،  بہت ہی اچھے سے میرے گھر کے ہر معاملات کو دیکھتے ہیں ، ہم ان کے ساتھ خوش اور مطمئن ہیں،  انہوں نے ہماری عزت کو محفوظ کیا ، ہمیں کام نہیں کرنے دیتے ، سارے خرچے خود کرتے ہیں ، بچیاں پڑھ بھی رہی ہیں ، ماشاءاللہ سب کچھ اچھا چل رہا ہے ، جب تک خاندان والو ں کو نہیں پتہ ہے،  تب تک دو سال ہوگئے ہیں ۔

ہم نے اب تک ولیمہ نہیں کھلایا،  ہماری راہ نمائی کریں اور ہم یہ رشتہ  کسی کو بھی نہیں بتا سکتے،  کیوں کہ  ہمارا  ان کے سوا کوئی بھی نہیں ہے،  جو ہماری مالی امداد کرے، یا ہمارے  اخراجات پورے کر سکے،  ہم ماں  بیٹیوں کو گناہوں کے راستے سے بچنے کے لیے انہوں نے یہ آفر کی  تھی اور اب ہم محفوظ اور اچھے ہاتھوں میں  ہیں۔

ہماری رہنمائی کریں اور ہمیں بتائیں کے ولیمہ کرنا چاہیے؟ کتنا ضروری ہے؟ اور کیا طرح سے اگر کوئی اور گنجائش بنتی ہے،  تو وہ بھی بتائیں کہ  میرے شوہر ملک سے باہر رہتے ہیں کام کی مصروفیت کی وجہ  سے،  ان کو وقت نہیں مل پا رہا ہے، اس لیے یہ  ہم دونوں کی طرف سے سوال ہے جو بھی معاملات ہیں، یا  جو بھی غلطی ہے اس میں،  ہم نے تو نیک کام ہی کیا ہے،  نکاح کیا ہے گواہوں کی موجودگی میں مگر پھر بھی ہمیں بتائیں۔

جواب

ولیمہ در حقیقت اس کھانے کو کہا جاتا ہے جو رخصتی کے بعد کھلایا جائے اور اس کا شرعی حکم یہ ہےکہ یہ ایک سنت عمل ہے،  فرض یا واجب نہیں ہے،  لہٰذا اگر ولیمہ کرنے کی استطاعت ہو، تو شرعی حدود میں رہتے ہوئے اپنی استطاعت کے مطابق ولیمہ کرلینا چاہیے،  نیز  ولیمہ  کے لیے بڑی دعوت کرنا اور سارے خاندان والوں کو جمع کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ اگرچند افراد کو جمع کر کے ان کو  حسبِ استطاعت کھانا کھلادیا جائے، تو اس سے بھی ولیمہ کی سنت ادا ہوجائے گی۔

اور اس کا مسنون وقت یہ ہے کہ رخصتی کے بعد  اگلے دن یا اس سے اگلے دن کھلا دیا جائے، تین دن تک بھی اگر ولیمہ نہ  کیا جائے،تو پھر ولیمہ ساقط ہوجاتا ہے اور اس کے بعد کی جانے والی دعوت عام دعوت کہلائے گی، ولیمہ نہیں کہلائے گا۔

لہٰذا اب  اگر شادی کے دو سال بعد تک آپ کے شوہر نے ولیمہ نہیں کیاہے، تو ان پر  ولیمہ کرنا لازم نہیں ہے۔ اب اگر کوئی دعوت کی جائے گی، تو وہ عام دعوت کہلائے گی، ولیمہ نہیں کہلائے گا۔اور اگر ایسی ضیافت کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن ‌حميد الطويل قال: سمعت ‌أنس بن مالك قال: «قدم عبد الرحمن بن عوف، فآخى النبي صلى الله عليه وسلم بينه وبين سعد بن الربيع الأنصاري، وعند الأنصاري امرأتان، فعرض عليه أن يناصفه أهله وماله، فقال: بارك الله لك في أهلك ومالك، دلوني على السوق، فأتى السوق فربح شيئا من أقط وشيئا من سمن، فرآه النبي صلى الله عليه وسلم بعد أيام وعليه ‌وضر ‌من ‌صفرة فقال: مهيم يا عبد الرحمن، فقال: تزوجت أنصارية، قال: فما سقت؟ قال: وزن نواة من ذهب، قال: أولم بشاة.»."

(كتاب النكاح، ج:7، ص:4، ط:دار طوق النجاة)

فتح الباری میں ہے:

"وعن بن عباس رفعه طعام في العرس يوم سنة وطعام يومين فضل وطعام ثلاثة أيام رياء وسمعة أخرجه الطبراني بسند ضعيف وهذه الأحاديث وإن كان كل منها ‌لا ‌يخلو ‌عن ‌مقال فمجموعها يدل على أن للحديث أصلا وقد وقع في رواية أبي داود والدارمي في آخر حديث زهير بن عثمان قال قتادة بلغني عن سعيد بن المسيب أنه دعي أول يوم وأجاب ودعي ثاني يوم فأجاب ودعي ثالث يوم فلم يجب وقال أهل رياء وسمعة فكأنه بلغه الحديث فعمل بظاهره إن ثبت ذلك عنه وقد عمل به الشافعية والحنابلة قال النووي إذا أولم ثلاثا فالإجابة في اليوم الثالث مكروهة وفي الثاني لا تجب قطعا ولا يكون استحبابها فيه كاستحبابها في اليوم الأول وقد حكى صاحب التعجيز في وجوبها في اليوم الثاني وجهين وقال في شرحه أصحهما الوجوب وبه قطع الجرجاني لوصفه بأنه معروف أو سنة واعتبر الحنابلة الوجوب في اليوم الأول وأما الثاني فقالوا سنة تمسكا بظاهر لفظ حديث بن مسعود وفيه بحث وأما الكراهة في اليوم الثالث فأطلقه بعضهم لظاهر الخبر وقال العمراني إنما تكره إذا كان المدعو في الثالث هو المدعو في الأول وكذا صوره الروياني واستبعده بعض المتأخرين وليس ببعيد لأن إطلاق كونه رياء وسمعة يشعر بأن ذلك صنع للمباهاة وإذا كثر الناس فدعا في كل يوم فرقة لم يكن في ذلك مباهاة غالبا وإلى ما جنح إليه البخاري ذهب المالكية قال عياض استحب أصحابنا لأهل السعة كونها أسبوعا قال وقال بعضهم محله إذا دعا في كل يوم من لم يدع قبله ولم يكرر عليهم وهذا شبيه بما تقدم عن الروياني وإذا حملنا الأمر في كراهة الثالث على ما إذا كان هناك رياء وسمعة ومباهاة كان الرابع وما بعده كذلك فيمكن حمل ما وقع من السلف من الزيادة على اليومين عند الأمن من ذلك وإنما أطلق ذلك على الثالث لكونه الغالب والله أعلم."

(كتاب النكاح، ج:9، ص:243، ط:دار المعرفة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ووليمة العرس سنة، ‌وفيها ‌مثوبة ‌عظيمة وهي إذا بنى الرجل بامرأته ينبغي أن يدعو الجيران والأقرباء والأصدقاء ويذبح لهم ويصنع لهم طعاما، وإذا اتخذ ينبغي لهم أن يجيبوا، فإن لم يفعلوا أثموا قال - عليه السلام -: «من لم يجب الدعوة، فقد عصى الله ورسوله، فإن كان صائما أجاب ودعا، وإن لم يكن صائما أكل ودعا، وإن لم يأكل أثم وجفا» ، كذا في خزانة المفتين.

 ولا بأس بأن يدعو يومئذ من الغد وبعد الغد، ثم ينقطع العرس والوليمة، كذا في الظهيرية."

(كتاب الكراهية، ج:5، ص:343، ط:دار الفكر)

الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:

"قال الحنفية لا بأس بأن يدعو للوليمة ثلاثة أيام، ثم ‌ينقطع ‌العرس بعد ذلك والوليمة."

(الموسوعة الفقهية الكويتية، ج:20، ص:337، ط:دار السلاسل)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"دعوتِ ولیمہ شادی اور رخصتی سے تین روز تک ہوتا ہے، اس کے بعد نہیں۔ فقط واللہ تعالٰی اعلم۔"

(فتاوی محمودیہ، باب فی العروس والوليمة، ج:12، ص:141، ط:ادارة الفاروق)

وفیہ ایضاً:

"ولیمہ کا وقت شبِ زفاف کے بعد سے تین روز تک ہے۔"

(فتاوی محمودیہ، ج:22، ص:489، ط:ادارۃ الفاروق)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100942

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں