بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کے متعلق مختلف چیزوں کے احکامات


سوال

1۔کیا مرد کے لیے اپنی شادی میں شیروانی اور واسکٹ پہننا جائز ہے؟

2۔کیا عورت کے لیے اپنی شادی کے موقع پر بیوٹی پارلر سے تیار ہونا شرعاً درست ہے یا نہیں؟

3۔نقلی پلکیں لگانے کا کیا حکم ہے؟

4۔نقلی ناخن لگانے کا کیا حکم ہے؟ اگر صرف اپنی شادی کے دن لگائے جائیں تو کیا اس کی اجازت ہے؟

5۔ائز بروز کا کیا حکم ہے؟اگر شوہر کا حکم تو بھی بناسکتے ہے یا نہیں ؟

6۔کیا نکاح کے بعد دولہا دلہن کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھ سکتا ہے ؟اور کیا ولیمہ میں بیٹھنا جائز ہے؟

7۔کیا مرد کے لیے اپنی شادی پر مہندی لگانا جائز ہے؟

8۔کیا عورت کے لیے ساڑھی پہننا جائز ہے یا نہیں؟

9۔کیا عورت کے لیے بالوں میں مہندی کے علاوہ کوئی اور رنگ مثلاً ڈائی وغیرہ لگوانا جائز ہے یا نہیں ؟جیسا کہ آج کل شادیوں کے موقع پر بال رنگے جاتے ہیں۔

10۔شادی بیاہ سے متعلق سنتیں کون کون سی ہیں ؟

جواب

1۔ شادی کےموقع پر خوش لباسی کی غرض سے دولہا کےلیے شیروانی یا واسکٹ پہننا جائز ہے،البتہ نمود ونمائش کی غرض سے پہننا جائز نہیں ہوگا۔

2۔زیب وزینت اور بناؤ سنگہار عورت کا فطری حق ہے، اسلام عورت کی اس فطری خواہش کا مخالف نہیں ہے، مگر اسلام نے اس کے لیے حدود وقیود مقرر کیے ہیں، جن سے تجاوز کرنا ہر گز جائز نہیں،لہذا  شادی کے موقع پر بیوٹی پارلر سے میک آپ کروانا جائز ہوگا،بشرطیکہ میک اپ خاتون کرے،کوئی مرد میک اپ نہ کرے،بال نہ کاٹے جائیں،یا بھنویں باریک نہ کی جائیں۔

فتاوی رحیمہ میں ہے:

"فضول خرچی اور لغو کام ہے بلکہ دھوکا بازی بھی ہے، اپنے اصلی رنگ کو چھپانا اور مصنوعی خوبصورتی کی نمائش کرنا ہے ، اس قسم کے کاموں سے بچنا چاہیے، عورت اپنے شوہر کی خاطر سادہ اور پرانے طریقہ کےمطابق جو فیشن میں داخل نہ ہو اور فجار وفساق کفار کے ساتھ مشابہت لازم نہ آتی ہےایسی زیب وزینت کرسکتی ہے بلکہ مطلوب ہے۔"

(کتاب الحظر والاباحۃ، ج:10، ص:160ط: دار الاشاعت)

4۔3۔واضح رہے کہ خواتین کے لیے جائز حدود میں رہ کر شوہر کی خاطر زینت اختیا کرنا پسندیدہ ہے، اور غیر محرموں کو دکھانے  یا دیگر خواتین کے سامنے فخر و مباہات کی غرض سے زینت اختیار کرنا جائز نہیں ہے، اس کے علاوہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے دیگر ضرورت اور خوشی کے موقعوں پر زیب وزینت کرنا منع نہیں ہے،لہذا   عورتوں کے لیے  زینت کی خاطر (انسان اور خنزیر کے بالوں کے علاوہ کی ) مصنوعی پلکیں لگانا جائز ہے ، بشرط یہ کہ ان مصنوعی پلکوں سے  دکھلاوا، یا  دھوکا دینا یا خلافِ حقیقت صورت کا اظہار مقصود نہ ہو،  البتہ وضو کے لیے پلکیں  نکال کر وضو کرنا ضروری ہوگا،نیز مصنوعی ناخن لگانا شریعت کےمقاصد کے خلاف ہے؛ کیوں کہ شریعت میں اصلی ناخن کوکاٹنے کا حکم ہے ،  پھر مصنوعی ناخن لگاکر ناخنوں کو لمبا دکھانے کی اجازت کیسے ہوگی، نیز مصنوعی ناخن جس سلوشن کے ذریعہ نکالے جاتے ہیں،وہ مصنوعی ناخن کئی کئی روز تک اصلی ناخن پر چپکارہتاہے،جس کی وجہ سے  وضو اورغسل ناتمام رہتاہے،لہذا مصنوعی ناخن لگانے سے احتراز لازم ہے۔

5۔عورت کے لیے اَبرو کے اطراف سے بال اکھاڑ کر باریک دھاری بنانا جائز نہیں، اس پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے،  اسی طرح  دونوں ابرؤں کے درمیان کے بال زیب وزینت کے حصول کے لیے کتروانا جائز نہیں،  اگرچہ شوہر کا حکم ہو پھر بھی جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر  اَبرو بہت زیادہ  پھیلے ہوئے ہوں تو ان کو درست کرکے عام حالت کے مطابق   (ازالۂ عیب کے لیے) معتدل کرنے کی گنجائش ہے۔

6۔نکاح کے بعد  شادی اور ولیمہ کےمواقع پر دولہا اوردلہن  ایک ساتھ اسٹیچ  پربیٹھ سکتے ہے ،بشرطیکہ ہال میں صرف محارم موجود ہوں،پس اگر محرم وغیرمحرم افراد موجود ہوں،مخلوط اجتماع ہو،تو اس صورت میں پے پردہ اسٹیج پر دولہن کو بٹھانا ناجائز ہوگا۔

7۔مردوں کا سر اور داڑھی کےبالوں کے علاوہ ہا تھ پاؤں پر مہندی لگانا  درست نہیں ،   اس لیے کہ رسول ﷺ نے مردوں کو عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے سے اور عورتوں کو مردوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"سوال:شادی سے  کچھ دن  پہلے لڑکے کو مہندی لگاتے ہیں،اور ابٹن لگاتے ہیں،اورابٹن دانا چلا کر بنایا جاتا ہےمثلاً جو۔

جواب:یہ بھی کوئی شرعی چیز نہیں ،قابل ترک رسم  ہے،اور اس میں عورتوں کے ساتھ تشبہ ہے جس کی ممانعت آئی ہے۔"

(کتاب النکاح، باب ما یتعلق بالرسوم عند الزفاف، ج:11  ص:192،194 ط:دار الافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)

8۔اگر ساڑھی اس طرح سے پہنی جائے کہ اس سے پورا جسم چھپ جائے تو کوئی حرج نہیں،بصورت دیگر ساڑھی پہننا حرام ہوگا۔

9۔ سیاہ رنگ کےعلاوہ دیگر رنگوں سے سر کے بال ڈائی کرنامرد وخواتین دونوں کےلیے جائز ہے،بشرطیکہ ڈائی کلر کے اجزاء ترکیبی میں کوئی حرام جز ء شامل  نہ ہو،نیز ڈائی کلر کا مہندی کی طرح صرف رنگ بالوں پر چڑھتا ہو،بالوں یا جلد پرر نگ کی ایسی   تہ نہ جمتی ہو کہ جس کی وجہ سے بالوں یا سر تک   پانی نہ پہنچتا ہو، بصورت دیگر اگر رنگ کی تہ جمتی ہو تو  پھر وضو اور غسل نہیں ہوگا ،لہذا اس قسم کے رنگ سے بالوں کو ڈائی کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔

10۔نکاح کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ انتہائی سادگی سے مسجد میں نکاح کی تقریب منعقد کی جائے، اور مسجد کے آداب کا بھرپور خیال رکھاجائے یعنی شور شرابےاورمووی تصاویر بنانے سے اجتناب کریں، اور اپنی وسعت کے مطابق باہمی رضامندی سے مہر مقرر کرکے دو مسلمان عاقل بالغ گواہاں کی موجودگی میں نکاح پڑھوا جائے، کوشش کریں کہ بیوی کو مہر پہلی ملاقات سے پہلے پہلے ادا کریں،اور نکاح کے بعد جب بیوی کی رخصتی ہوجائے اور شبِ زفاف بھی گزر جائے تو اب مسنون طریقہ پرحسبِ استطاعت ولیمہ کیا جائے، اس میں نام ونمود کی نیت نہ ہو،غیر شرعی امور مردوزن کا اختلاط، موسیقی وغیرہ نہ ہو،اور امیروں کی طرح غریب لوگوں کو بھی دعوت دی جائے،اور ولیمہ میں محض اتباعِ سنت مقصود ہو۔

صحیح البخاری میں ہے:

"وقال النبي صلى الله عليه وسلم: (كلوا واشربوا والبسوا وتصدقوا، في غير إسراف ولا مخيلة).

وقال ابن عباس: كل ما شئت، والبس واشرب ما شئت، ما أخطأتك اثنتان: ‌سرف أو مخيلة."

(كتاب اللباس،ج:5، ص:2181، ط:دار ابن كثير)

صحیح بخاری میں  ہے:

"عن ‌أبي هريرة رضي الله عنه سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: الفطرة ‌خمس: الختان، والاستحداد، وقص الشارب، وتقليم الأظفار، ونتف الآباط."

(كتاب اللباس، باب تقليم الاظفار، ج:7، ص:160، ط:دار طوق النجاة)

"ترجمہ:پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زير ناف بال مونڈنا، مونچھيں چھوٹی کرنا، ناخن تراشنا اور بغل کے بال اکھیڑنا۔"

سنن أبي داودمیں ہے:

"حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا أبي، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم: «أنه لعن المتشبهات من النساء بالرجال، و المتشبهين من الرجال بالنساء»".

(باب فی لباس النساء، ج:4 ص:60 ط: المكتبة العصرية)

صحیح ابن حبان میں ہے:

"عن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "‌خير ‌النكاح أيسره."

[‌‌النوع الحادي عشر، ذكر الإباحة للإمام أن يزوج المرأة التي لا يكون لها ولي،ج:6، ص:481، ط:دار ابن حزم]

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وعن عائشة قالت: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: أعلنوا هذا النكاح) أي: بالبينة فالأمر للوجوب أو بالإظهار والاشتهار فالأمر للاستحباب كما في قوله (واجعلوه في المساجد) وهو إما لأنه أدعى إلى الإعلان أو لحصول بركة المكان وينبغي أن يراعى فيه أيضا فضيلة الزمان ليكون نورا على نور وسرورا على سرور، قال ابن الهمام: " يستحب مباشرة عقد النكاح في المسجد لكونه عبادة وكونه في يوم الجمعة " اه، وهو إما تفاؤلا للاجتماع أو توقع زيادة الثواب أو لأنه يحصل به كمال الإعلان."

[كتاب النكاح، باب إعلان النكاح، ج:5، ص:2072، ط: دار الفكر]

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) لها (السفر والخروج من بيت زوجها للحاجة؛ و) لها (زيارة أهلها بلا إذنه ما لم تقبضه) أي المعجل، فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلة أو غاسلة لا فيما عدا ذلك، وإن أذن كانا عاصيين قوله فيما عدا ذلك) عبارة الفتح: وأما عدا ذلك من زيارة الأجانب وعيادتهم والوليمة لا يأذن لها ولا تخرج إلخ (قوله والمعتمد إلخ) عبارته فيما سيجيء في النفقة: وله منعها من الحمام إلا النفساء وإن جاز بلا تزين وكشف عورة أحد."

[كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:146، ط:سعيد]

احكام تجميل النساءميں ہے

"المسألة الثانية:  الأظافرالصناعية:

"وظاهرة ارتداء الأظافر الصناعية من الظواهر التي شاعت وانتشرت بين النساء، وهذا الأمر قد يتحقق فيه الشبه المحرّم بالكافرات أو الفاسقات، لأن الأصل في ظاهر المسلمة أن يكون ظفرها مقلماً قصيراً لا معفى طويلاً، بل إن هناك من العلماء من يرى أن في إطالة الظفر - الطبيعي - تشبها ببعض الكفرة وتشبه بالبهائم كالقطط والسباع ونحوها .ثم إن الواجب في المسلمة أن تحرص على أن تظهر بالمظهر الذي يحقق لها الالتزام بدينها وتمسكها به ، وقد وقت الرسول ﷺ المدة المتاحة في ترك الأظافر دون تقليم بأربعين يوما ، أما من ارتدت الأظافر الصناعية فإنها تبدو في حاجة لتقليم عاجل، لذا فإن الظفر الاصطناعي الطويل المستعار لا يمكن أن يكون في يوم من الأيام من زينة المسلمة، إذ أن زينتها الحقيقية في تقصيره وإظهاره بالمظهر القصير لا في إطالته أو إظهاره بمظهر الطويل .لذا فإني أرى أن هذه الأظافر شر وخبث، إذ أن الأظافرالطبيعية مطلوب إزالتها إن طالت، والظاهر أنها للمنع والتحريم أقرب، والله تعالى أعلم."

(المطلب الثالث في الزينة  الصناعية،ص:222،ط:دارالفضيلة)

فتاوی شامی میں ہے:

"النامصة إلخ ) ذكره في الاختيار أيضاً، وفي المغرب: النمص نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه ففي تحريم إزالته بعد؛ لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه؛ لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء. وفي تبيين المحارم: إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب".

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، ج 6، صفحہ: 373، ط: ایچ، ایم، سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"قوله خضاب شعره ولحيته) لا يديه ورجليه فإنه مكروه للتشبه بالنساء (قوله والأصح أنه عليه الصلاة والسلام لم يفعله) لأنه لم يحتج إليه، لأنه توفي ولم يبلغ شيبه عشرين شعرة في رأسه ولحيته، بل كان سبع عشرة كما في البخاري وغيره. وورد: أن أبا بكر رضي الله عنه خضب بالحناء والكتم مدني (قوله ويكره بالسواد) أي لغير الحرب.قال في الذخيرة: أما الخضاب بالسواد للغزو، ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود بالاتفاق وإن ليزين نفسه للنساء فمكروه، وعليه عامة المشايخ، وبعضهم جوزه بلا كراهة روي عن أبي يوسف أنه قال: كما يعجبني أن تتزين لي يعجبها أن أتزين لها."

(کتاب الحظر والاباحة، ج:6 ص:422 ط: دار الفکر)

الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:

"اتفق الفقهاء على أنه يجب على المرأة أن تلبس من الملابس ما يغطي جميع ‌عورتها."

(‌‌لباس المرأة،‌‌الحكم التكليفي:،ج:35،ص:192،ط:دارالسلاسل الكويت)

فتاوی شامی ہے:

"(اختضب لأجل التزين للنساء والجواري جاز) في الأصح ويكره بالسواد وقيل لا ومر في الخطر.

"(قوله جاز في الأصح) وهو مروي عن أبي يوسف فقد قال: يعجبني أن تتزين لي امرأتي كما يعجبها أن أتزين لها والأصح أنه لا بأس به في الحرب وغيره واختلفت الرواية في أن النبي - صلى الله عليه وسلم - فعله في عمره والأصح لا وفصل في المحيط بين الخضاب بالسواد قال عامة المشايخ: إنه مكروه وبعضهم جوزه مروي عن أبي يوسف، أما بالحمرة فهو سنة الرجال وسيما المسلمين اهـ منح ملخصا وفي شرح المشارق للأكمل... ومذهبنا أن الصبغ بالحناء والوسمة حسن كما في الخانية قال النووي: ومذهبنا استحباب خضاب الشيب للرجل والمرأة بصفرة أو حمرة وتحريم خضابه بالسواد على الأصح لقوله - عليه الصلاة والسلام - «غيروا هذا الشيب واجتنبوا السواد» اهـ ".

(‌‌ كتاب الخنثى، مسائل شتى ، ج:6، ص:756، ط: سعيد)

الموسوعۃ الفقہیۃ میں ہے:

"‌‌ما يسن في النكاح: ذهب الفقهاء إلى أنه تسن في النكاح أمور...أن يعقد النكاح في المسجد: قال الحنفية والشافعية: يندب عقد النكاح في المسجد (1) ، لحديث: " أعلنوا هذا النكاح، واجعلوه في المساجد، واضربوا عليه بالدفوف، أن يكون في يوم الجمعة: ذهب الحنفية والشافعية والحنابلة إلى أنه يندب عقد النكاح يوم الجمعة، قال ابن قدامة: لأن جماعة من السلف استحبوا ذلك، منهم ضمرة بن حبيب وراشد بن سعد وحبيب بن عتبة، ولأنه يوم شريف، ويوم عيد، فيه خلق آدم عليه السلام (4)أن يكون بعاقد رشيد وشهود عدول:نص الحنفية على أنه يندب أن يكون النكاح بعاقد رشيد وشهود عدول، الوليمة للنكاح: ذهب جمهور الفقهاء إلى أن الوليمة - وهي طعام العرس - مستحب للقادر عليها، أو سنة مؤكدة لثبوتها عن النبي صلى الله عليه وسلم قولا وفعلا."

[‌‌ما يسن في النكاح:،ج:41، ص:220، ط:دار السلاسل]

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101278

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں