
1۔بیوی کے ساتھ شادی کے بعد پہلی بار ملاقات کے وقت کون سی دعا پڑھنی چاہیے؟ کیا یہ دعا شوہر بیوی دونوں کو پڑھنی چاہیے؟ پھر شوہر بیوی دونوں کو انزال ہو جائے یہ دعا انزال ہونے کے بعد بھی پڑھنی چاہیے ؟
2۔ شوہر کو حکم دیا گیا ہے کہ جب وہ اپنی بیوی کے پاس جائے تو گدھوں کی طرح برہنہ نہ ہو جائے، بلکہ بقدر ضرورت ستر کھولنا چاہیے، مجھے اس عبارت کی سمجھ نہیں آئی ،اس عبارت کا کیا مطلب ہے ؟ایک فتویٰ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ شوہر کو بالکل برہنہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایک بڑی چادر اپنے اوپر اوڑھنی چاہیے، کیا شوہر بیوی دونوں کے لیے ابتداء میں مکمل برہنہ ہونا جائز ہے، پھر فوراً ایک ہی بڑی چادر میں جسمانی قربت اور بوس و کنار اس چادر میں کریں، اور ازدواجی تعلق بھی اسی چادر میں قائم کریں؟
3۔ کیا شوہر کیلئے جائز ہے کہ وہ اپنی بیوی کو پیار والے نام سے بلائے جیسے میری چھوٹی سی شہزادی، یا اس طرح کا اور کوئی نام جس سے شوہر بیوی میں پیار و محبت بڑھے؟
1۔بیوی کو رخصت کرا کر جب لے آئے تو شوہر کو درج ذیل دعا پڑھنی چاہیے:
"اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَ شَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ."
ترجمہ:"اے اللہ! میں آپ سے اس خاتون کی اور اس کے مزاج اور طبیعت کی بھلائی مانگتا ہوں، اور اس کے اور اس کے مزاج اور طبیعت کے شر سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں"
ہمستری شروع کرتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے:
"بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَ جَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا."
"میں اللہ کا نام لےکر یہ کام کرتا ہوں، اے اللہ! تو ہمیں شیطان سے بچا، اور جو اولاد تو ہم کو دے اس سے (بھی) شیطان کو دور رکھ۔"
(صحيح البخاري، 9/ 119، دارطوق النجاۃ/ صحيح مسلم، 2/1058، بیروت/ مشكاة المصابيح 2/1286، بیروت/ مظاہرحق، 4/263، دارالاشاعت/ الحصن الحصین، 21، مصر)
اور انزال کے وقت دل میں یہ دعا پڑھی جائے:
"اَللّٰهُمَّ لَاتَجْعَلْ لِّلشَّیْطَانِ فِيْمَا رَزَقْتَنِيْ نَصِیْبًا."
ترجمہ:"اے اللہ! جو اولاد تو مجھے دے، اس میں شیطان کا کچھ حصہ نہ کر۔"
(الحصن الحصین، 21، مصر)
اور یہ دعائیں میاں بیوی دونوں کو پڑھنی چاہیں۔
مزید آداب کے لیے فتاوی رحیمیہ ج:8، ص:244۔۔۔248 مطالعہ کرلیں، یا درج ذیل کتب کا مطالعہ کر لیا جائے۔
2۔ہمبستری کے وقت میاں بیوی کے برہنہ ہونے سے جو منع کیا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی شرمگاہ کو نہ دیکھیں، اگر اندھیرا ہو تو برہنہ ہو سکتے ہیں، اسی طرح برہنہ حالت میں اپنے اوپر چادر ڈال کر بھی ازدواجی تعلقات وغیرہ قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"إذا أتى أحدكم أهله فليستتر ولايتجرّد تجرّد العيرين."
ترجمہ: جب تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ کے پاس جائے تو پردے کرے، اور گدھوں کی طرح ننگانہ ہو۔ (یعنی بالکل برہنہ نہ ہو)۔
[سنن ابن ماجه : ابواب النکاح، ص: 138، ط: قدیمی]
3۔شوہر بیوی کو ایسے ناموں سے بلا سکتا ہے، جس سے میاں بیوی کے درمیان محبت بڑھے، جیسے خوش نصیب وغیرہ لیکن " میری چھوٹی سی شہزادی" نہ کہے، کیوں کہ یہ بیٹی کا معنی بھی دیتا ہے۔
السنن الکبری للنسائی میں ہے:
"عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عائش، هذا جبريل وهو يقرأ عليك السلام قلت: وعليه السلام ورحمة الله وبركاته، ترى ما لا أرى، تريد بذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم".
(147/9،رقم:10137،ط: مؤسسة الرسالة بيروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101447
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن