بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شب زفاف میں اشتباہ کی وجہ سے ایک بھائی کا دوسرے بھائی کی بیوی کے ساتھ رات گزارنے کا حکم


سوال

 دو بھائیوں نےبیک وقت دوبہنوں سے شادی کی۔ شب زفاف میں اشتباہ کی وجہ سے ایک بھائی نے دوسرے بھائی کی بیوی کے ساتھ رات گزاری ۔

اس مسئلہ کا کیا حل ہے؟

جواب

اگر دو بھائیوں کا بیک وقت دو بہنوں سے نکاح ہوجائے،اور شب زفاف میں اشتباہ کی وجہ سے ایک بھائی دوسرے بھائی کی بیوی کے پاس رات گزارے،تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا،بلکہ عدت گزارنے کے بعد ہر ایک عورت اپنے شوہر کے پاس جاسکتی ہے،البتہ اشتباہ کی وجہ سے صحبت کرنے والے پر الگ مہر مثل دینا لازم ہوگا۔

البتہ اس کا بہتر حل فقہاء نے یہ لکھا ہےکه: جس عورت کا جس بھائی سے عقد ہوا تھا اس سے طلاق دلوائی جائے، او رہرایک اپنا مہر معاف کردے ، پھر جو عورت جس بھائی کے پاس غلطی سے چلی گئی اور مغالطہ میں تعلق بھی قائم ہوگیا،اس کا اسی مرد سے عقد کردیاجائے،اس میں عدت گزارنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"حكى في المبسوط أن رجلا زوج ابنيه بنتين، فأدخل النساء زوجة كل أخ على أخيه، فأجاب العلماء بأن كل واحد يجتنب التي أصابها وتعتد لتعود إلى زوجها. وأجاب أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - بأنه إذا رضي كل واحد بموطوءته يطلق كل واحد زوجته ويعقد على موطوءته ويدخل عليها للحال لأنه صاحب العدة ففعلا كذلك ورجع العلماء إلى جوابه."

(‌‌كتاب الطلاق،‌‌باب العدة،ج: 3،ص: 507،ط: سعيد)

نہایہ شرح ہدایہ میں ہے:

"وأما ‌الموطوءة ‌بشبهة فهي التي زفت إلى غير زوجها فوطئها، تجب عليها العدة وعلى الواطئ المهر."

(‌‌كتاب الطلاق،‌‌باب العدة،ج: 9،ص: 91،ط: جامعة أم القرى)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100024

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں