بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شب قدر، شب برات اور شب معراج میں افضل رات کی تعیین، نیز ان راتوں میں عبادت کا حکم


سوال

 شب معراج، شب برات اور لیلۃ القدر یہ ساری فضیلت والی راتوں کا ذکر ہے، لیکن قرآن میں لیلۃ القدر کا زیادہ ذکر ہے ،پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس رات کو آسمان پےگئے تھے اور تمام احکامات ہوئے تھے جس میں روزے رکھنا  یا نماز پڑھنا فرض ہوا تھا۔

اس کے علاوہ کو شب برات کہا جاتا ہے، مردوں کی رات ہے تو یہ ساری چیزیں تو شب معراج میں بھی گڑمڑ ہوئی  ہیں یعنی یہ سوچ کہ ہمارے مردوں کے لیےعید ہے یا ان کی بخشش ہوگی ۔

شب برات میں اور شب معراج میں ہمیں کیا کرنا ہے ،کس چیز کو ماننا چاہیے زیادہ؟

مزید یہ کہ تقریبا اب جو لوگ  ان راتوں کو جس طرح سے لے کر عبادت میں گزار رہے ہیں یا دوسری اور خرافات میں پڑ رہے ہیں وہ سب ملتی جلتی ہو رہی ہیں۔

آنے والی نسلوں کے لیے کیا ویژن ہے کہ ان تینوں راتوں میں کیا فرق ہےکہ  کون سی رات زیادہ بہتر ہے، فضیلت کی رات ہے، یا اہمیت کس کی ہے؟ کیونکہ رمضان کی جو لیلۃ القدر ہے اس کا تو صاف صاف ذکر ہے قرآن میں باقی دو راتوں کا اتنا اندازہ نہیں ہے میرےعلم میں نہیں ہے کہ ان کا کہیں پے ذکرآتا ہے اور اس میں کیا کرنا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ شب معراج ،شب قدر اور شب برات ان تینوں راتوں میں افضل رات شب قدر کی ہے۔شب قدر کی عبادت کی فضیلت نص قرآنی اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔

جبکہ شب برات کی عبادت  کی فضیلت   جن احادیث سے ثابت ہے،وہ اکثر ضعیف روایات ہیں ،تاہم مجموعی طور یہ روایات قابل استدلال ہیں۔

اور شبِ معراج کی عبادت کی  فضیلت نہ قرآنِ کریم کی کسی نص سے ثابت ہے اور نہ ہی احادیثِ سے اس رات کی تخصیص کے ساتھ کسی خاص عبادت کا ثبوت ملتا ہے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شب قدر کو (رمضان کی باقی ماندہ نویں رات (یعنی انتیسویں شب میں تلاش کرو باقی ماندہ ساتویں رات یعنی ستائیسویں شب میں یا باقی ماندہ پانچویں رات (یعنی پچیسویں شب میں یا باقی ماندہ تیسری رات ( تئیسویں شب میں اور یا آخری شب میں۔ “

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا  کہ جب نصف شعبان کی رات ہو تو اس رات میں نماز پڑھو اور اس کے دن کا روزہ رکھو اس لئے کہ اللہ تعالی اس رات میں سورج غروب ہوتے ہی آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے (یعنی اپنی رحمت کے ساتھ بندوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے ) پس فرماتا ہے خبردار کیا کوئی ہے بخشش مانگنے والا کہ میں اس کو بخش دوں، کیا کوئی ہے رزق مانگنے والا کہ میں اس کو رزق دوں، کیا ہے کوئی مصیبت میں مبتلا میں اس کو نجات دوں ، کیا ہے کوئی ایسا ایسا ( یعنی میں اسے نجات دوں ،اللہ تعالی ضرورت والوں کے نام لے لے کر پکارتے رہتے ہیں، مثلا ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اس کو دوں وغیرہ) یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے۔

شب قدر کی رات کوعبادت،تلاوت،ذکرواذکار اور نماز میں مشغول ہونامستحب ہے،اسی طرح شب برات یعنی  پندرہویں شعبان کی رات کو عبادت میں مشغول ہونامستحب ہے۔

اور شب معراج میں   خصوصیت  سے علاوہ روزانہ کی نمازوں کےکوئی زائد نماز مسنون و مشروع نہیں،اور نہ ہی کوئی خاص عمل ثابت ہے۔

مشكاة المصابيح میں ہے: 

"وعن أبي بكرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: التمسوها يعنى ليلة القدر في تسع بقين أو في سبع بقين أو في خمس بقين أو ثلاث أو آخر ليلة . رواه الترمذي"

ترجمہ: حضرت ابوبکر راوی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ شب قدر کو (رمضان کی باقی ماندہ نویں رات (یعنی انتیسویں شب میں تلاش کرو باقی ماندہ ساتویں رات یعنی ستائیسویں شب میں یا باقی ماندہ پانچویں رات (یعنی پچیسویں شب میں یا باقی ماندہ تیسری رات ( تئیسویں شب میں اور یا آخری شب میں۔ “ (ترمذی )

 (کتاب الصوم،‌‌ باب ليلة القدر، الفصل الثانی، ج:1، ص:646، ط:المكتب الإسلامي)

وفیہ ایضا:

"وعن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا كانت ‌ليلة ‌النصف ‌من ‌شعبان فقوموا ليلها وصوموا يومها فإن الله تعالى ينزل فيها لغروب الشمس إلى السماء الدنيا فيقول: ألا من مستغفر فأغفر له؟ ألا مسترزق فأرزقه؟ ألا مبتلى فأعافيه؟ ألا كذا ألا كذا حتى يطلع الفجر ". رواه ابن ماجه."

ترجمہ : حضرت علیؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا  کہ جب نصف شعبان کی رات ہو تو اس رات میں نماز پڑھو اور اس کے دن کا روزہ رکھو اس لئے کہ اللہ تعالی اس رات میں سورج غروب ہوتے ہی آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے (یعنی اپنی رحمت کے ساتھ بندوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے ) پس فرماتا ہے خبردار کیا کوئی ہے بخشش مانگنے والا کہ میں اس کو بخش دوں، کیا کوئی ہے رزق مانگنے والا کہ میں اس کو رزق دوں، کیا ہے کوئی مصیبت میں مبتلا میں اس کو نجات دوں ، کیا ہے کوئی ایسا ایسا ۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے۔

 (کتاب الصلاۃ، باب قیام شهر رمضان، الفصل الأول، ج:1، ص:409، ط:المكتب الإسلامي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ونقل ط عن بعض الشافعية: أن أفضل الليالي ليلة مولده صلى الله عليه وسلم ثم ليلة القدر، ثم ‌ليلة ‌الإسراء والمعراج، ثم ليلة عرفة، ثم ليلة الجمعة، ثم ليلة النصف من شعبان، ثم ليلة العيد."

 (کتاب الحج، فصل فی الإحرام وصفة المفرد، ج:2، ص: 511، ط:سعید)

الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:

[‌‌فضل ليلة القدر]

"2 - ذهب الفقهاء إلى أن ليلة القدر ‌أفضل ‌الليالي، وأن العمل الصالح فيها خير من العمل الصالح في ألف شهر ليس فيها ليلة القدر، قال تعالى: {ليلة القدر خير من ألف شهر}، وأنها الليلة المباركة التي يفرق فيها كل أمر حكيم، والتي ورد ذكرها في قوله تعالى: {إنا أنزلناه في ليلة مباركة إنا كنا منذرين فيها يفرق كل أمر حكيم}."

(حرف اللام، لیلة القدر، الأحكام المتعلقة بليلة القدر، ج:35، ص: 361، ط:وزارة الأوقاف الكويتية)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

[شب معراج کے اعمال مروجہ]

"سوال  : (الف) یہاں افریقہ میں یہ التزام ورواج ہے کہ شب معراج میں عشاء کے وقت خصوصی اعلان و دعوت کے ساتھ لوگوں کو جمع کر کے وعظ ، شیرینی اور نماز نوافل کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ آیا شریعت میں اس قسم کا التزام و اہتمام کہیں مشروع ہے اور اس التزام کا نہ ماننے والا گناہ گار ہوگا؟

( ب ) اس شب میں علاوہ فرض وقت کے آیا کوئی دوسری عبادت فرض، واجب ، سنت یا نفل مشروع ہے؟...الخ.

الجواب حامداً ومصلياً :

( الف ) یہ التزام واہتمام بے دلیل ، بدعت ، خلاف شرع ہے، جو اس التزام کو نہ مانے وہ گناہ گار نہیں بلکہ اس کو روکنے والا ماجور ہے ۔

( ب ) اس شب میں خصوصیت سے کوئی نماز علاوہ روزانہ کی نماز کے مسنون و مشروع نہیں ۔"

(باب البدعات والرسوم،ج:3،ص:284،ط:فاروقیہ )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707102424

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں