بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 ذو الحجة 1447ھ 13 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شب معراج کب ہے؟


سوال

شب معراج کب ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسمانی معراج ہوا ہے،اس  میں کوئی شک نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث شریف میں اس کا ذکر فرمایا ہے، البتہ اس کی تاریخ کے بارے میں اختلاف ہے،عام طور پر رجب کی ستائیسویں رات کو شبِ معراج کہا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے مطابق یقینی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہی وہ رات ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معراج پر تشریف لے گئے تھے،  اس بارے میں روایات مختلف ہیں؛ بعض روایات میں ربیع الاول، بعض میں رجب، بعض میں ربیع الثانی، بعض میں رمضان اور بعض میں شوال کا ذکر ملتا ہے، اسی اختلافِ روایات کی بنا پر پورے یقین کے ساتھ کسی ایک رات کو شبِ معراج قرار دینا درست نہیں،  اگر یہ کوئی متعین رات ہوتی اور اس کے ساتھ خاص احکام وابستہ ہوتے تو اس کی تاریخ قطعی طور پر محفوظ ہوتی، جبکہ ایسا نہیں ہے، لہٰذا شرعاً یقینی طور پر 27 رجب کو شبِ معراج کہنا ثابت نہیں، اگرچہ عوام میں یہی مشہور ہے۔

عمدۃ القاری میں ہے :

"واختلف في وقت المعراج، فقيل: إنه كان قبل المبعث، وهو شاذ إلا إذا حمل على أنه وقع في المنام فله وجه، وقيل: كان قبل الهجرة بسنة، في ربيع الأول، وهو قول الأكثرين، حتى بالغ ابن حزم فنقل الإجماع على ذلك، وقال السدي: قبل الهجرة بسنة وخمسة أشهر، وأخرجه من طريقه الطبري والبيهقي فعلى هذا كان في شوال، وحكى ابن عبد البر: أنه كان في رجب، وجزم به النووي، وقيل: بثمانية عشر شهرا، حكاه عبد البر أيضا، وقيل: كان قبل الهجرة بسنة وثلاثة أشهر، فعلى هذا يكون في ذي الحجة، وبه جزم ابن فارس، وقيل: كان قبل الهجرة بثلاث سنين حكاه ابن الأثير، وحكى عياض عن الزهري: أنه كان بعد المبعث بخمس سنين، وروى ابن أبي شيبة من حديث جابر وابن عباس، رضي الله تعالى عنهم، قالا: ولد رسول الله، صلى الله عليه وسلم يوم الإثنين، وفيه بعث، وفيه عرج به إلى السماء، وفيه مات."

(كتاب فضائل الصحابة، باب المعراج،ج:17، ص:20-21، ط:دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144707102266

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں