بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شبِ براءت میں دسترخوان وسیع کرنے سے سارا سال برکت سے متعلق کوئی حدیث ہے؟


سوال

شبِ براءت میں دسترخوان وسیع کرنے سےاس طرح  کی  کوئی حدیث موجود ہے کہ اس رات میں  دسترخوان وسیع کرنے سے سارا سال آپ کے گھر اور دسترخوان میں برکت ہوتی ہے؟ اور اگر یہ حدیث ضعیف ہے تو کیا اس پر عمل کیا جائےگا یا نہیں؟

جواب

سوال میں جس روایت کا مفہوم ذکر کرکے اُس کی اسنادی حیثیت  سے متعلق دریافت کیا گیا ہے، مذکورہ روایت شبِ براءت سے متعلق نہیں ہے،بلکہ دس  محرم  کے دن سے متعلق ہے۔روایت  سے متعلق مکمل تفصیل درج ذیل ہے:
یہ روایت تقریباًچھ  صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم سے  الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ  "المعجم الكبير للطبراني"، "شعب الإيمان للبيهقي"، "فضائل الأوقات للبيهقي"ودیگر مختلف کتبِ حدیث میں مروی ہے۔"شعب الإيمان للبيهقي"میں مذکورہ روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:

"أخبرنَا ابو سعدٍ المالينِيُّ، نا ابو احمد بنِ علِيٍّ،  نا الحسينُ بنُ علِيٍّ الأهوازِيُّ، نا معمرُ بنُ سهلٍ، نا حجّاجُ بنُ نصيرٍ، نا محمّدُ بنُ ذكوانَ عنْ يعلَى بنِ حكيمٍ عنْ سُليمانَ بنِ أبِيْ عبدِ اللهِ عنْ أبِيْ هُريرةَ -رضي الله عنه- أنّ رسولَ اللهِ -صلّى الله عليه وسلّم- قالَ: مَنْ وسّعَ علَى عيالِه وأهلِه يومَ عاشوراءَ وسّعَ اللهُ عَلَيْهِ سائرَ سنتِه".

(شعب الإيمان، باب التوكل بالله عز وجل والتسليم، 3/366، رقم:3515، ط: دار الكتب العلمية - بيروت)

ترجمہ:

’’(حضرت) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص دس محرم کے دن اپنے اہل وعیال پر (خرچ کرنے میں) وسعت کرےگا تو اللہ تعالی سارا سال اُس پر(اموال میں) وسعت فرمائیں گے‘‘۔

مذکورہ روایت کی اسنادی حیثیت  کے بارے میں اگرچہ محدثین کرام رحمہم اللہ نے کافی کلام کیا ہے، تاہم بعض حضرات نے اسے ثابت،صحیح، اور حسن بھی قرار دیا ہے،  چنانچہ  امام بیہقی رحمہ اللہ"شعب الإيمان" میں مذکورہ  روایت کے کئی طرق ذکر کرنے کے بعد اُن  کا حکم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"هَذِه الأسانيدُ وإنْ كانتْ ضعيفةً فَهِي إذَا ضُمَّ بعضُها إلَى بعضٍ أخذتْ قُوّةً، واللهُ أعلمُ".

(شعب الإيمان، 5/333، رقم:3515، ط: مكتبة الرشد- الرياض)

ترجمہ:

’’یہ اسانید اگرچہ ضعیف  ہیں ،لیکن جب انہیں آپس میں ملادیا جائے توقوت حاصل کرلیتی ہیں، واللہ اعلم‘‘۔

 حافظ سخاوی رحمہ اللہ "المقاصد الحسنة"میں حافظ عراقی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں:

 "لِحديثِ أبِيْ هُريرةَ طرقٌ، صحّحَ بعضُها ابنُ ناصرٍ الحافظُ".

(المقاصد الحسنة، حرف الميم، ص:674، رقم:1193، ط: دار الكتاب العربي - بيروت)

ترجمہ:

’’(حضرت) ابوہریرہ(رضی اللہ عنہ) کی (مذکورہ) حدیث کے کئی طرق ہیں، جن میں سے بعض طرق  کو حافظ ابنِ ناصر(رحمہ اللہ) نے صحیح قرار دیا ہے‘‘۔

نیز حافظ سخاوی رحمہ اللہ ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے طریق ِ سلیمان بن ابو عبید اللہ کے  متعلق  حافظ عراقی رحمہ اللہ کا کلام نقل کرنے لکھنے کے بعد لکھتے ہیں:

"فَالحديثُ حسنٌ علَى رأيِه".

(المقاصد الحسنة، حرف الميم، ص:675، رقم:1193، ط: دار الكتاب العربي - بيروت)

ترجمہ:

’’پس یہ حدیث اُن کی رائے کے مطابق حسن ہے‘‘۔

 اور مذکورہ روایت کے طریقِ  حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے متعلق حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"ولَهُ طريقٌ عنْ جابرٍ علَى شرطِ مُسلمٍ ... وهِيَ أصحُّ طُرُقِه".

(المقاصد الحسنة، حرف الميم، ص:675، رقم:1193، ط: دار الكتاب العربي - بيروت)

ترجمہ:

’’ اور اس روایت کا ایک طریق (حضرت) جابر (رضی اللہ عنہ) سے (امام) مسلم (رحمہ اللہ ) کی شرط کے مطابق مروی ہے۔۔۔اور وہ اس روایت کا سب سے اصح طریق ہے‘‘۔

اور اس روایت کےایک موقوف طریق کے متعلق حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"ورَواهُ (أيْ: ابنُ عبدِ البرِّ في "الاستذكار") هُو والدّارقطنِيُّ في "الأفرادِ" بِسندٍ جيِّدٍ عنْ عمرَ موقوفاً عَلَيْهِ".

(المقاصد الحسنة، حرف الميم، ص:675، رقم:1193، ط: دار الكتاب العربي - بيروت)

ترجمہ:

’’(حافظ ابنِ عبد البر رحمہ اللہ  نے "الاستذكار"،اور (امام) دار قطنی رحمہ اللہ نے "الأفراد"میں اس روایت  کو  ایک جید(یعنی حسن) سند  کے ساتھ (حضرت) عمر (رضی اللہ عنہ ) سے موقوفاً روایت کیا ہے‘‘۔

حافظ سیوطی رحمہ اللہ "الدرر المنتثرة" میں لکھتے ہیں:

"بَلْ هُو ثابِتٌ صحيحٌ".

(الدرر المنتثرة، حرف الميم، ص:186، رقم:397، ط: عمادة شؤون المكتبات - الرياض)

ترجمہ:

’’بلکہ یہ روایت ثابت اور صحیح ہے‘‘۔

 مذکورہ روایت کے متعلق مالکیہ کے مشہور  امام عبد الملک بن حبیب رحمہ اللہ  نے درج شعر کہا ہے:

"مَنْ باتَ في ليلِ عاشوراءَ ذَا سِعَةٍ ... يكنْ بِعِيْشَتِه فِيْ الْحَوْلِ محبوراً".

(اللآلي المصنوعة، كتاب الصيام، 2/96، ط: دار الكتب العلمية - بيروت)

حافظ سیوطی رحمہ اللہ "اللآلي المصنوعة"میں مذکورہ شعر نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

"وهَذا مِنَ الإمامِ الجليلِ دليلٌ علَى صحّةِ الحديثِ، واللهُ أعلمُ".

(المصدر السابق)

ترجمہ:

’’یہ  ایک امام ِ جلیل کی طرف سے اس  حدیث کی صحت کی دلیل ہے، واللہ اعلم‘‘۔

حافظ ابنِ عراق رحمہ اللہ "تنزيه الشريعة" میں لکھتے ہیں:

"وقولُ الإمامِ أحمدَ: "لَا يصحُّ" لَا يلزمُ مِنٔهُ أنْ يكونَ باطلاً، كَما فهِمَه ابنُ القيِّم، فقدْ يكونُ الحديثُ غيرَ صحيحٍ، وهُو صالحُ لِلاحتجاجِ بِه بِأنْ يكونَ حسناً، واللهُ تَعَالَى أعلمُ".

(تنزيه الشريعة، كتاب الصوم، الفصل الثاني، 2/158، رقم:33، ط: دار الكتب العلمية - بيروت)

ترجمہ:

’’(مذکورہ روایت کے متعلق) امام احمد  رحمہ اللہ کے قول:"لَا يصحُّ"(یعنی یہ  حدیث صحیح نہیں ہے) سے  یہ لازم نہیں آتا کہ یہ حدیث باطل ہے، جیساکہ (حافظ ) ابنِ قیم (رحمہ اللہ) نے سمجھا ہے، اس لیے کہ کبھی حدیث صحیح نہیں ہوتی،  لیکن وہ قابلِ استدلال ہوتی ہے اس طور پر کہ وہ حسن ہو، واللہ تعالی اعلم‘‘۔

مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ دس محرم کے دن اہل وعیال پر فراخی  خرچ کرنے سے متعلق روایت  میں اگرچہ محدثین کرام رحمہم اللہ نے کافی کلام ہے،  تاہم بعض محدثین کرام رحمہم اللہ کے نزدیک  یہ روایت ثابت، صحیح ، اور حسن  ہے ،  امام بیہقی رحمہ اللہ  ، حافظ ابنِ عراق اور امام عبد الملک بن حبیب  رحمہم  اللہ کا کلام مفیدِ ثبوت ہے،حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے  اسے ثابت اور صحیح کہا ہے،  نیز  اس کے      بعض طرق کو  حافظ ابنِ ناصر رحمہ اللہ نے صحیح قراردیا ہے، اور  بعض طرق کو حافظ عراقی رحمہ اللہ نے  حسن قرار دیا ہے،  لہذا اس روایت کو بیان کیا جاسکتا ہےاور اس کے مطابق عمل کیا جاسکتا ہے۔

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:

1-المقاصد الحسنة للسخاوي، حرف الميم، ص:674-675، رقم:1193، ط: دار الكتاب العربي - بيروت

2-كشف الخفاء للعجلوني، حرف الميم، ج:2، ص:283-284، رقم:2642، ط: مكتبة القدسي - القاهرة

3-الآثار المرفوعة للكنوي، فضل يوم عاشوراء وصيامه، ص:100-102، ط: مكتبة الشرق الجديد - بغداد

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144708101147

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں