بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1443ھ 27 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

شب براءت کے روزے کا کیا حکم ہے؟


سوال

شب براءت کے روزے کا کیا حکم ہے؟

جواب

پندرہ شعبان کے روزے سے متعلق حدیث موجود ہے، اگرچہ وہ  حدیث ضعیف ہے، تاہم ضعیف حدیث  سے بھی فضیلت  کا ثبوت ہو جاتا ہے،نیز یہ ایام ،ایام بیض کے بھی ہیں  اس لیے پندرہ شعبان کا روزہ  نفل روزے کی نیت سے رکھنا مستحب ہے۔

 سنن ابنِ ماجہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  : "رسول صلی اللہ علیہ  وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان کی رات ہو تو رات کو عبادت کرو اور آئندہ دن روزہ رکھو، اس لیے کہ اس میں غروبِ شمس سے طلوعِ فجر ہونے تک آسمانِ دنیا پر اللہ تعالیٰ نزول فرماتے ہیں اور یہ کہتے ہیں :ہے کوئی مغفرت کا طلب گار  کہ میں اس کی مغفرت کروں!  ہے کوئی روزی کا طلب گار  کہ میں اس کو روزی دوں! ہے کوئی بیمار کہ میں اس کو بیماری سے عافیت دوں ہے ! یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے "

سنن ابن ماجه (1/ 444)
عن علي بن أبي طالب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا كانت ليلة النصف من شعبان، فقوموا ليلها وصوموا نهارها، فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا، فيقول: ألا من مستغفر لي فأغفر له ألا مسترزق فأرزقه ألا مبتلى فأعافيه ألا كذا ألا كذا، حتى يطلع الفجر " فقط والله اعلم

 


فتوی نمبر : 144108200708

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں