
ایک خاتون کا سسرال حیدرآباد میں ہو اور وہ 1 ہفتے یا 3- 4 دن کراچی میں میکے کے گھر رکنے پر نماز قصر پڑھنا ہوگا یا پوری نماز...؟؟ کیا نماز قصر عورتوں پر بھی لازم ہے..؟
صورت مسئولہ کے مطابق، جب عورت مستقل طور پر سسرال میں رہنے لگتی ہے تو اس کا اصلی گھر سسرال ہو جاتا ہے۔اور حیدرآباد سے کراچی کا فاصلہ مسافر ہونے کے لیۓ جو شرعی مسافت (77.5 کلومیٹر) سے زیادہ ہے۔ لہٰذا خاتون جب صرف 1 ہفتہ یا 3-4 دن رہنے کی نیت سے کراچی میں اپنے میکے جائے تو وہ مسافر شمار ہوگی۔ اس لیے وہ نماز قصر پڑھے گی۔ ہاں اگر 15 دن یا اس سے زیادہ رہنے کی نیت ہوتی تو پوری نماز پڑھتی۔
اور عورتوں پر بھی نماز قصر اسی طرح لازم ہے جیسے مردوں پر۔ شریعت میں مسافر مرد اور عورت دونوں کے لیے قصر کا حکم ہے، بشرطیکہ شرعی مسافت طے کر رہے ہوں۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:
"مطلب في أن الأوطان ثلاثة
(ثم) الأوطان ثلاثة: وطن أصلي: وهو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده، وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها.
(ووطن) الإقامة: وهو أن يقصد الإنسان أن يمكث في موضع صالح للإقامة خمسة عشر يومًا أو أكثر.
(ووطن) السكنى: وهو أن يقصد الإنسان المقام في غير بلدته أقل من خمسة عشر يومًا."
(فصل بيان ما يصير المسافر به مقيما،ج:1، ص: 103، ط: دار الكتب العلمية)
البحر الرائق میں ہے:
(قوله ويبطل الوطن الأصلي بمثله لا السفر ووطن الإقامة بمثله والسفر والأصلي) ؛ لأن الشيء يبطل بما هو مثله لا بما هو دونه فلا يصلح مبطلا له وروي أن عثمان رضي الله عنه كان حاجا يصلي بعرفات أربعا فاتبعوه فاعتذر، وقال: إني تأهلت بمكة وقال النبي صلى الله عليه وسلم «من تأهل ببلدة فهو منها»
( باب صلاة المسافر، ج: 2، ص:147، دار الكتاب الإسلامي)
در المختار مع رد المحتار میں ہے:
"من خرج من عمارة موضع إقامته ، مسیرة ثلاثة أیام ولیالیہا من أقصر أیام السنة بالسیر الوسط مع الاستراحة المعتادة صلی الفرض الرباعی رکعتین ، ولو عاصیا بسفرہ ، حتی یدخل موضع مقامه أو ینوي إقامة نصف شهر ، بموضع صالح لها ، فیقصر إن نوی الإقامة فی أقل منه"
( کتاب الصلاة ، باب صلاة المسافر، ج: 1، ص: 121 - 125، ط: دار الفکر)
امداد الاحکام میں ہے:
"اگربیوی اپنے وطن میں نہیں رہتی بلکہ شوہرکے پاس رہتی ہے تو شوہراور بیوی دونوں بحالت سفر وہاں قصرکریں گے،بدلیل قصره (صلي الله عليه وسلم) واهله بمکه."
(کتاب الصلاۃ،باب فی صلاۃ المریض،ج:1،ص:719،ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710101807
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن