
1: شادی میں نیندار ولیمہ کے موقع پرپیسہ دینےکی شرعی حیثیت کیاہے؟
2:اسی طرح گھرسےنکلتےوقت دلہن کو قرآن مجیددینااوراس کےآگےلےکرچلناکیساہے؟
3:شادی والی رات دلہاکوکمرہ نہ جانےدینا ،اسی طرح دلہن کاسسرال جاتےہی دروازےپرکھڑاہونااور اس شرط کےساتھ گھرمیں داخل ہونا کہ فلاں چیزیاجانوراس کےنام کروگےتوگھرمیں داخل ہو گی اس کاحکم کیاہے؟
1:صورتِ مسئولہ میں ولیمہ کے موقع پر نيوته يا نيندار كے نام سے پیسے دینے کی جو رسم رائج ہے، اُس میں عموماً یہ ہوتا ہے کہ جس نے جتنا پیسہ دیا، اُس کو نوٹ کیا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں اُس کی شادی یا ولیمہ میں اتنا یا اُس سے زیادہ پیسہ دیاجائے، اگر کوئی شخص پیسے نہ دے تو بعض اوقات زبردستی وصولی بھی کی جاتی ہے،یہ معاملہ شرعاً "قرض" کے حکم میں داخل ہے، اور قرض کا شرعی حکم یہ ہے کہ جتنا قرض لیا جائے، اُتنا ہی واپس کرنا لازم ہے، اس سے زائد دینا یا لینا شرعاً درست نہیں، کیونکہ وہ سود کے حکم میں آئے گا،اور بلا ضرورت قرض لینے سے بھی بچنا چاہیے، لہٰذا ایسی رسم جس میں پیسے کا لین دین اس نیت سے ہو کہ بعد میں اس سے زائد لوٹایا جائے، وہ صریحاً سود ہے، جس سے بچنا فرض ہے، اس رسم کو ختم کرنا چاہیے۔
2:رخصتی کے موقع پر دلہن کےسرپرقرآن کریم رکھنا،یاقرآن مجیداس سے آگےلےجانا بدعت اوررسم ورواج ہے اس کو ترک کرنا لازم ہے، البتہ اگرکہیں اس کولازم اور ثواب سمجھ کرنہ کیاجائے،بلکہ برکت کی نیت سے کیاجائےتواس میں گنجائش ہے،تاہم آج کے دورمیں یہ رسم بن چکاہےاس لیےاس کے بجائے بہتر یہ ہے کہ قرآن مجید کو ہدیہ کے طور پر تحفہ دیا جائے تاکہ بیٹی قرآن پڑھا کرے اور اس پر عمل کرے، شریعت میں ہر عمل نیت اور اتباعِ سنت کے ساتھ ہونا چاہیے، نہ کہ رسم و رواج کے دباؤ سے۔
3:شادی کی رات دلہا کو کمرے میں داخل ہونے سے روکنا، یا دلہن کے گھر میں داخل ہوتے ہی دروازے پر شرط رکھنا کہ فلاں چیز میرے نام کرو گے تو اندر آؤں گی، یہ تمام باتیں محض رسمیں ہیں، جن کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے،ایسی رسمیں فضول اور غیر ضروری تکلفات میں داخل ہیں، اور شریعت نے نکاح کو آسان اور سادہ رکھنے کی تعلیم دی ہے،لہٰذا ان رسومات سے اجتناب لازم ہے،اس کے ساتھ ساتھ اس میں دوسرے كا مال اس كی دلی رضامندی كےبغیر لینا ہے جو کہ حرام ہے، لہذا اس قسم کی شرطوں اور رسموں سے اجتناب لازم ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِهَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ "(البقرۃ:188)
مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
"و عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا تظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان و الدارقطني في المجتبى."
(کتاب البیوع،باب الغصب والعاریة،الفصل الثانی،ج1،ص261،رحمانیه)
وفیہ ایضاً:
"وعن عائشة قالت: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤنة» . رواهما البيهقي في شعب الإيمان".
(کتاب النکاح، الفصل الثالث، ج:2، ص:930، رقم الحدیث:3097، ط: المکتب الاسلامی بیروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي الأشباه: لا جبر على الصلات".
(كتاب الهبة، فصل فى مسائل متفرقة، ج:5، ص:710، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"وفي الفتاوى الخيرية: سئل فيما يرسله الشخص إلى غيره في الأعراس ونحوها هل يكون حكمه حكم القرض فيلزمه الوفاء به أم لا؟ أجاب: إن كان العرف بأنهم يدفعونه على وجه البدل يلزم الوفاء به مثليا فبمثله، وإن قيميا فبقيمته وإن كان العرف خلاف ذلك بأن كانوا يدفعونه على وجه الهبة، ولاينظرون في ذلك إلى إعطاء البدل فحكمه حكم الهبة في سائر أحكامه فلا رجوع فيه بعد الهلاك أو الاستهلاك، والأصل فيه أن المعروف عرفا كالمشروط شرطًا اهـ.
قلت: والعرف في بلادنا مشترك نعم في بعض القرى يعدونه فرضًا حتى إنهم في كل وليمة يحضرون الخطيب يكتب لهم ما يهدى فإذا جعل المهدي وليمة يراجع المهدى الدفتر فيهدي الأول إلى الثاني مثل ما أهدى إليه".
(كتاب الهبة، ج:5، ص:696، ط: سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100719
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن