بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی کے موقع پر آتش بازی کا حکم


سوال

شادی کے موقع پر بم یا پٹاخے پھوڑنا کیسا عمل ہے؟ کیا شرعاً درست ہے یا ناجائز؟

جواب

شادی کا موقع خوشی کا ہے، اس میں شرعی حدود وقیود میں رہتے  ہوئے خوشی کا اظہار جائز ہے، البتہ خوشی کے اظہار کے لیے   ناجائز اور معصیت کا طریقہ اختیار کرنا جائز نہیں ،  جب کہ آتش بازی، بم  یا پٹاخے پھوڑنا  کئی خرابیوں کا مجموعہ ہے،    مثلاً  مال کا ضیاع ، ایذاء رسانی، خوف پھیلانا، اس میں جان اور املاک کے نقصان کا اندیشہ بھی ہے  اور یہ  غیر مسلم قوموں کی تہذیب اختیار کرنا ہے، لہذا خوشی کے اظہار کے لیے آتش بازی جائز نہیں ہے۔

قرآنِ کریم میں ہے :

"إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا ."﴿الإسراء: 27﴾

ترجمہ:”بےشک بےموقع اڑانے والے شیطانوں کے بھائی بند ہیں  اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکر ہے۔“(بیان القرآن)

 تفسیرِ قرطبی میں ہے :

"إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين وكان الشيطان لربه كفورا."

وفي تفسيره : "قوله تعالى: (ولا تبذر) أي لا تسرف في الإنفاق في غير حق. قال الشافعي رضي الله عنه: والتبذير إنفاق المال في غير حقه، ولا تبذير في عمل الخير. وهذا قول الجمهور. وقال أشهب عن مالك: التبذير هو أخذ المال من حقه ووضعه في غير حقه، وهو الإسراف، وهو حرام لقوله تعالى: "إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين" وقوله " إخوان" يعني أنهم في حكمهم، إذ المبذر ساع في إفساد كالشياطين، أو أنهم يفعلون ما تسول لهم أنفسهم، أو أنهم يقرنون بهم غدا في النار، ثلاثة أقوال. والإخوان هنا جمع أخ من غير النسب، ومنه قوله تعالى:" إنما المؤمنون إخوة". وقوله تعالى: (وكان الشيطان لربه كفورا) أي احذروا متابعة والتشبه به في الفساد. والشيطان اسم الجنس. وقرأ الضحاك" إخوان الشيطان" على الانفراد، وكذلك ثبت في مصحف أنس بن مالك رضي الله عنه. الثالثة- من أنفق ماله في الشهوات زائدة على قدر الحاجات وعرضه بذلك للنفاد فهو مبذر. ومن أنفق ربح ماله في شهواته وحفظ الأصل أو الرقبة فليس بمبذر. ومن أنفق درهما في حرام فهو مبذر، ويحجر عليه في نفقته الدرهم في الحرام، ولا يحجر عليه إن بذله في الشهوات إلا إذا خيف عليه النفاد."

(تفسير سورة بني اسرآئيل:27، ج:10،ص: 247، ط: دارالكتب المصرية)

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"وما كان سببا لمحظور فهو محظور."

(كتاب الحظر والأباحة، 6/ 350، ط: سعيد)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144707101643

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں