بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سسر کا بہو کو شادی کے موقع پر تحفتاً ملنے والے ملنے والے زیورات اپنے قبضے میں لینے کا حکم


سوال

میری شادی کے وقت میری بھابھی نے میری بیوی کو بطورِ گفٹ سونے کا ایک سیٹ دیا تھا، اور میری چچی نے بھی بطورِ گفٹ ایک انگوٹھی دی تھی، ہمارے یہاں شادی کے موقع پر جو بھی چیزیں دلہن کو دی جاتی ہیں، وہ اس کی ملکیت شمار ہوتی ہیں۔

بعد ازاں میرے والد صاحب نے میری بیوی کی اجازت اور رضامندی کے بغیر وہ سونے کا سیٹ اور انگوٹھی لے لی، سیٹ کے بارے میں والد صاحب نےیہ  کہا کہ میں یہ اپنی پوتی کی شادی میں دے رہا ہوں، چنانچہ انہوں نے وہ سیٹ اس کی شادی پر دے دیا، اور انگوٹھی کے بارے میں یہ کہا تھا کہ میں تمہاری چچی کے بیٹے کی شادی میں دوں گا، لیکن اس شادی سے پہلے ہی میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔

بعد میں وہ انگوٹھی میرے پاس آ گئی۔

سوال یہ ہے کہ:
کیا وہ سونے کا سیٹ اور انگوٹھی میری بیوی کی ملکیت تھیں یا نہیں؟اس کا کیا شرعی حکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  اگر  آپ کی چچی اوربھابھی نےآپ  کی بیوی کو بطور گفٹ زیورات دیےتھے تو اس صورت میں  آپ کی چچی اور بھابھی کی طرف سے دیا گیا سوناآپ کی بیوی کی ملکیت تھا ،آپ کے والد کا آپ کی بیوی کی اجازت کے بغیر انگوٹھی  اورسونے کا سیٹ لینا جائز نہیں تھا، اوروہ انگوٹھی چوں کہ آپ کے پاس ہے،لہذا آپ پرلازم ہے کہ سونے کی انگوٹھی  اپنی  بیوی کو حوالے کردیں اورآپ کے والد پر سونے کے سیٹ کا ضمان لازم ہے، لہذا ان کے انتقال کے بعد ورثاء پروالد کے ترکہ کی تقسیم کے وقت  اتنے ہی وزن کے اسی معیار کاسونایا اس  کی بازاری قیمت  آپ کی  بیوی کو  ادائیگی لازم ہوگی۔

مشكاة المصابيح ميں هے:

"و عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا لاتظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."

(كتاب البيوع، باب الغصب والعارية،ج:2،ص:889،ط:المكتب السلامي)

ترجمہ : ”حضرت  ابو حرہ رقاشی رضی اللہ عنہ اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار!کسی پر ظلم نہ کرنا، جان لو! کسی بھی دوسرے شخص کا مال اس کی  مرضی وخوشی کے بغیر حلال نہیں۔“

مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:

"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."

(‌‌المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية،ص27،ط؛دار الجیل)

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر، ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضاً."

(کتاب النکاح، باب المہر، ج:3 ،ص:153، ،ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

"والمعتمد البناء على العرف كما علمت".

(کتاب النکاح، باب المہر، ج:3، ص:157، ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"(‌يبدأ ‌من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن والدار المستأجرة وإنما قدمت على التكفين لتعلقها بالمال قبل صيرورته تركة (بتجهيزه) يعم التكفين۔۔۔(ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) ويقدم دين الصحة على دين المرض إن جهل سببه وإلا فسيان كما بسطه السيد، (وأما دين الله تعالى فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي وإلا لا ثم) تقدم (وصيته) ولو مطلقة على الصحيح خلافا لما اختاره في الاختيار (من ثلث ما بقي) بعد تجهيزه وديونه وإنما قدمت في الآية اهتماما لكونها مظنة التفريط (ثم) رابعا بل خامسا (يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته)."

(كتاب الفرائض، ج:6، ص:,7، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101132

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں