بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 محرم 1448ھ 05 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر سید لڑکے کا سیدہ لڑکی سے نکاح کا حکم


سوال

میں غیر سید ہوں، اور سیدہ لڑکی سے رشتہ نکاح کرنا چاہتا ہوں، ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم غیر سید کے ساتھ شادی نہیں کراتے، ورنہ ہماری عزت وہ نہیں رہے گی۔کیا سید کا غیر سید سے نکاح شرعاً جائز ہے۔

جواب

واضح رہے کہ سیدہ لڑکی کا نکاح اپنے ولی کی اجازت سے غیر سید مسلمان  لڑکے سے جائز ہے۔ اسی طرح اگرعاقلہ وبالغہ سیدہ لڑکی  اپنے ولی کی اجازت کےبغیر غیر سید لڑکے سے نکاح کرے تو  بھی  نکاح منعقد ہوجائےگا، (گو ولی کی اجازت کے بغیر لڑکی کا از خود نکاح کرنا شرعًا و اخلاقًا و عرفًا معیوب و ناپسندیدہ ہے)،اور   اگر لڑکا  اس لڑکی کا کفو نہ ہو  (یعنی لڑکی اگر قریش خاندان کی ہو اور لڑکا قریش کے علاوہ دیگر عرب قبیلہ کا یا عجمی قوم میں سے ہو)  اور  ولی کو لڑکی کے ازخود کئے گئے نکاح پر اعتراض ہو تو ظہورِ حمل سے پہلے ولی بذریعۂ عدالت اس نکاح کو ختم کروا سکتا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں سید لڑکی کا نکاح غیر سید لڑکے سے کروانے میں  شرعاً کوئی حرج نہیں ہے اور اگر لڑکی کے جوڑ کا دین دار اور  باعمل لڑکے کا رشتہ مل رہا ہو تو محض خاندان والوں کی باتوں کی وجہ سے ایسے رشتہ سے انکار نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ وصیت فرمائی تھی کہ اے علی! تین چیزوں میں تاخیر نہ کرنا، ایک نماز جب اس کا وقت ہوجائے اور  جنازہ کی نماز جب وہ (جنازہ) تیار ہوجائے اور کنواری (بے نکاحی) عورت (کا نکاح) جب اس کے جوڑ کا خاوند مل جائے، یعنی جوڑ کا لڑکا ملتے ہی فورا نکاح کردینا  چاہیے۔ ایک اور حدیث میں لڑکی کے اولیاء کو خطاب ہے: "جب تمہیں ایسا شخص پیغامِ نکاح بھیجے جس کی دین داری اور اَخلاق تمہیں پسند ہوں تو (فورًا) نکاح کردو، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین میں بڑا فتنہ اور فساد ہوجائے گا۔"

سنن الترمذی میں ہے:

"حدثنا قتيبة، قال: حدثنا عبد الله بن وهب، عن سعيد بن عبد الله الجهني، عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: يا علي، ثلاث لاتؤخرها: الصلاة إذا آنت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفئاً".

(سنن الترمذي ت بشار (1/ 238)ط:بیروت)

مصنف عبد الرزاق  میں ہے:

"عن يحيى بن أبي كثير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا جاءكم من ترضون أمانته وخلقه فأنكحوه كائنًا من كان، فإن لاتفعلوا تكن فتنة في الأرض وفساد كبير»، أو قال: «عريض»".

 (6/ 152، کتاب النکاح، باب الاکفاء، رقم الحدیث:10325، ط:المجلس العلمی ، الھند)

ترجمہ:"جب تمہارے پاس ایسا شخص (رشتۂ نکاح کے لیے) آئے جس کی دیانت (امانت داری) اور اخلاق سے تم راضی ہو، تو اس کا نکاح کر دو، خواہ وہ کسی بھی خاندان یا قبیلے سے تعلق رکھتا ہو۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بہت بڑا فساد پھیل جائے گا۔"

الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:

"(وتعتبر) الكفاءة للزوم النكاح خلافًا لمالك (نسبًا فقريش) بعضهم (أكفاء) بعض (و) بقية (العرب) بعضهم (أكفاء) بعض.

(قوله: فقريش إلخ) القرشيان من جمعهما أب هو النضر بن كنانة فمن دونه، ومن لم ينتسب إلا لأب فوقه فهو غير قرشي والنضر هو الجد الثاني عشر للنبي صلى الله عليه وسلم فإنه محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان، على هذا اقتصر البخاري والخلفاء الأربعة كلهم من قريش وتمامه في البحر. (قوله: بعضهم أكفاء بعض) أشار به إلى أنه لا تفاضل فيما بينهم من الهاشمي والنوفلي والتيمي والعدوي وغيرهم، ولهذا زوج علي وهو هاشمي أم كلثوم بنت فاطمة لعمر وهو عدوي قهستاني فلو تزوجت هاشمية قرشيا غير هاشمي لم يرد عقدها وإن تزوجت عربيا غير قرشي لهم رده كتزويج العربية أعجميا بحر وقوله لم يرد عقدها ذكر مثله في التبيين، وكثير من شروح الكنز والهداية، وغالب المعتبرات فقوله في الفيض القرشي لا يكون كفؤا للهاشمي كلمة لا فيه من تحريف النساخ، رملي.

(قوله: وبقية العرب أكفاء) العرب صنفان: عرب عاربة: وهم أولاد قحطان ومستعربة: وهم أولاد إسماعيل والعجم أولاد فروخ أخي إسماعيل، وهم الموالي والعتقاء والمراد بهم غير العرب وإن لم يمسهم رق سموا بذلك إما لأن العرب لما افتتحت بلادهم وتركتهم أحرارا بعد أن كان لهؤلاء الاسترقاق، فكأنهم أعتقوهم، أو لأنهم نصروا العرب على قتل الكفار والناصر يسمى مولى، نهر." 

وفیہ ایضاً:

"(فنفذ نكاح حرة مكلفة  بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا (وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الأصح خانية، وخرج ذوو الأرحام والأم والقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به...."

( کتاب النکاح ، باب الولی، 3/ 55،ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100175

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں