بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شوال 1445ھ 24 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

سیاسی جماعت کا سربراہ کسی کنڈیڈیٹ سے پارٹی ٹکٹ کے عوض رقم لینے کا حکم


سوال

 کیا کسی سیاسی جماعت کا سربراہ کسی امیدوارسے پارٹی ٹکٹ کے عوض کسی بھی مد میں مطالبہ کرکے رقم لے سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کا کسی کنڈیڈیٹ سے پارٹی ٹکٹ کے عوض کسی بھی مد میں رقم کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الأشباه ‌لا ‌يجوز ‌الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا ‌لا ‌يجوز ‌الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف، وفيها في آخر بحث تعارض العرف مع اللغة. المذهب عدم اعتبار العرف الخاص لكن أفتى كثير باعتباره۔۔۔ مطلب: ‌لا ‌يجوز ‌الاعتياض عن الحقوق المجردة (قوله: ‌لا ‌يجوز ‌الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها."

(كتاب البيوع،مطلب لا يجوز الاعتياض عن الحقوقالمجردة،ج:4،ص:518،ط:سعيد)

فتح القدیر میں ہے:

"لأن البيع كما يرد على ما يبقى من الأعيان كذلك يرد على ما لا يبقى وإن أشبه المنافع، ولذا صحح الفقيه أبو الليث رواية الزيادات المانعة من جواز بيعه؛ لأن بيع ‌الحقوق ‌المجردة لا يجوز كالتسييل وحق المرور."

(كتاب  البيوع، باب البيع الفاسد، ج:6،ص:430، ط:دار الفكر بيروت)

الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے:

"وحق التملك والحق المباح كلاهما من الحقوق المجردة الضعيفة، التي لا تترقى ولا تنتقل إلى غيرها من الحقوق بالقول الصادر من صاحبه تعبيرا عن إرادته وحده."

 (باب اقسام الحقوق،صل حق التملك والحق المباح،ج:18، ص:41،ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)

بدائع الصنائع میں ہے:

" الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك. ولا يجوز الصلح عنها."

 (كتاب الشرب، ج:6، ص:196، ط:دارالكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے :

"‌وفي ‌المصباح ‌الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد."

(کتاب القضاء،مطلب فی الکلام علی الرشوۃ،ج:5،ص:342،سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508100057

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں