بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سیلاب زدگان میں زکوۃ کی تقسیم کیسے کی جائے؟


سوال

سیلاب زدگان کے لیے مالی امداد جمع کرتے وقت بعض لوگ اس میں زکوٰۃ، کفارات وغیرہ یعنی صدقاتِ واجبہ کی رقم دیتے ہیں، جبکہ  سیلاب زدگان میں سے مستحقینِ زکوٰۃ تک رسائی انتہائی مشکل ہوتی ہے۔کیوں کہ سیلاب زدگان میں اس رقم کو بانٹتے وقت کوئی یہ تمیز اور تحقیق نہیں کرتا کہ ان میں سے کون زکوٰۃ کا مستحق ہے، کون نہیں۔ جبکہ سیلاب زدگان میں سے بسااوقات ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے مکانات منہدم ہونے کے باوجود دوسرے شہروں میں ان کے کاروبار، مارکیٹیں اور کرایے پر دیے ہوئے پلازے اور تجارتی پلاٹ وغیرہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح بینک اکاؤنٹ میں اُن کی خطیر رقم موجود ہوتی ہے، اور سیلاب زدگان میں سے بعض سَیِّد بھی ہوتے ہیں وغیرہ،جن کو زکوٰۃ کے پیسوں سے خریدا گیا امدادی سامان دینا جائز نہیں ہوتایاآفت کی زد میں آکر اوائل میں ان کو اتنی امداد مل جاتی ہے کہ اس سے وہ مالکِ نصاب بن جاتے ہیں اور بعد کے لوگوں کا ان کو زکوٰۃ کی رقم یا سامان دینا جائز نہیں ہوتا،لیکن اس رقم اور سامان کو ان میں بانٹتے وقت کون پوچھتا ہے کہ ان میں مستحقِ زکوٰۃ کون ہے؟ اور ان کو مذکورہ رقم دیتے وقت ان سے یہ معلومات حاصل کرنا کہ آپ مستحقِ زکوٰۃ ہیں یا نہیں،ایک مشکل کام ہے۔ کیوں کہ اس وقت ان کی آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں،دل افسردہ ہوتے ہیں، ہر ایک کا دل اپنے پیاروں کی تلاش میں تڑپ رہا ہوتا ہے، وہ مٹی میں دبی لاشوں کو نکالنے میں مصروف ہوتے ہیں وغیرہ۔ایسے حالات میں کون جرأت کر سکتا ہے کہ ان سے اس طرح کی معلومات حاصل کر سکے؟

بہرحال کافی عرصہ سے اس مسئلہ میں تشویش میں ہوں کہ ہر دوسرے سال اس طرح سیلاب اور زلزلے وغیرہ آفات آتی ہیں اور آفت زدہ لوگوں میں بغیر تحقیق کے نفلی صدقات اور صدقاتِ واجبہ سے مخلوط جمع شدہ فنڈ اور سامان تقسیم ہوتے ہیں۔میں تو بذاتِ خود ان کے لیے جمع کرتے وقت نفلی صدقہ کی ترغیب دیتا ہوں، لیکن عام طور پر اس کا خیال نہیں رکھا جاتا۔

لہٰذامفتیان مذکورہ بالا مسئلہ میں ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں، تاکہ زکوٰۃ جیسے اہم فریضہ میں بھی لوگ کوتاہی سے بچیں اور آفت زدہ لوگوں کی امداد میں بھی کوئی نقصان نہ ہو۔

جواب

صورت مسئولہ میں سیلاب زدگان میں زکوۃ تقسیم کرتے وقت جس شخص کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہو کہ وہ مستحق زکوۃ نہیں، تو اسے زکوۃ دینا جائز نہیں ہوگا؛ کیوں کہ ایسے شخص کو زکوۃ دینے سے شرعاً زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔

تاہم جس شخص کے بارے میں مستحق زکوٰة  ہونے کا یقینی علم ہو  یازکاۃ دینے والے کا غالب گمان ہو کہ  وہ مستحق ہے اور اس کا دل مطمئن ہو، تو اس کو زکوٰۃ دیے سے زکوٰة ادا ہوجائے گی، چاہے یہ  غالب گمان و اطمینان مستحق کی ظاہری حالت دیکھ کر ہو رہا ہو یا مستحق کے خود بتانے سے یا اس کے زکوٰۃ کا سوال کرنے سے ہو،لہذا جب زکوۃ دینے والے کو ظنِ غالب ہو(کہ زکوۃ جسے دی جارہی ہے وہ مستحق  ہے)او راس کا دل مطمئن ہو تو پھرمزید تحقیق وتفتیش کی ضرورت نہیں ہوگی ۔

باقی سیلاب زدگان میں سے جو لوگ غیر مستحق (سید ہوں یا ضرورت سے زائد نصاب کے بقدر ان کے پاس  مال وغیرہ ہو)ہو ں اور فی الوقت انہیں مدد کی ضرورت ہو تو صدقات نافلہ وخیرات کی رقم سے ان کی امداد کرنی چاہیے۔
فتاوی شامی میں ہے:

"(دفع بتحر) لمن يظنه مصرفا (فبان أنه عبده أو مكاتبه أو حربي ولو مستأمنا أعادها) لما مر (وإن بان غناه أو كونه ذميا أو أنه أبوه أو ابنه أو امرأته أو هاشمي لا) يعيد لأنه أتى بما في وسعه، حتى لو دفع بلا تحر لم يجز إن أخطأ.

(قوله: لمن يظنه مصرفا) أما لو تحرى فدفع لمن ظنه غير مصرف أو شك ولم يتحر لم يجز حتى يظهر أنه مصرف فيجزيه في الصحيح خلافا لمن ظن عدمه، وتمامه في النهر.وفيه: واعلم أن المدفوع إليه لو كان جالسا في صف الفقراء يصنع صنعهم أو كان عليه زيهم أو سأله فأعطاه كانت هذه الأسباب بمنزلة التحري كذا في المبسوط حتى لو ظهر غناه لم يعد."

(كتاب الزكوة، ج:2، ص:352، ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا شك وتحرى فوقع في أكبر رأيه أنه محل الصدقة فدفع إليه أو سأل منه فدفع أو رآه في صف الفقراء فدفع فإن ظهر أنه محل الصدقة جاز بالإجماع، وكذا إن لم يظهر حاله عنده....وإذا دفعها، ولم يخطر بباله أنه مصرف أم لا فهو على الجواز إلا إذا تبين أنه غير مصرف، وإذا دفعها إليه، وهو شاك، ولم يتحر أو تحرى، ولم يظهر له أنه مصرف أو غلب على ظنه أنه ليس بمصرف فهو على الفساد إلا إذا تبين أنه مصرف، هكذا في التبيين".

(كتاب الزكوة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:189، ط:دار الفکر)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144702102057

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں