بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سیلاب میں بہ آئے ہوئے جانوروں کا حکم


سوال

دریا کے بہاؤ کے ساتھ انڈیا سے کچھ جانور پاکستان آگئے ہیں ۔اب اس جانوروں کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جو جانور پانی کے بہاؤ کے ساتھ پاکستان آ گئے ہیں، یہ لقطہ کے حکم میں ہیں، یعنی پانے والا شخص اس کی تشہیر اور اعلان کرے گا اور مالک کے آنے کا انتظار کرے گا۔ اگر مالک کے آنے کی توقع نہ ہو تو یہ جانور کسی غریب کو دیے جا سکتے ہیں اور اگر پانے والا خود حاجت مند ہو تو خود بھی استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن اگر مالک آ کر طلب کرے تو واپس دینا ضروری ہوگا۔ اگر غریب کو دیے گئے ہوں تو ان سے واپس لیے جائیں گے اور اگر جانور موجود نہ ہوں تو ان کی قیمت ادا کرنا لازم ہوگی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"حطب وجد في الماء، إن له قيمة فلقطة وإلا فحلال لآخذه) كسائر المباحات الأصلية درر.

(قوله: إن له قيمة فلقطة) وقيل: إنه كالتفاح الذي يجده في الماء. وذكر في شرح الوهبانية ضابطا، وهو أن ما لا يسرع إليه الفساد ولا يعتاد رميه كحطب وخشب فهو لقطة إن كانت له قيمة".

(کتاب اللقطة، ج:4، ص:284، ط:سعید)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط أو المسكين إن شاء لو هلكت في يده فإن ضمن الملتقط لا يرجع على الفقير وإن ضمن الفقير لا يرجع على الملتقط وإن كانت اللقطة في يد الملتقط أو المسكين قائمة أخذها منه، كذا في شرح مجمع البحرين.....إن كان الملتقط محتاجا فله أن يصرف اللقطة إلى نفسه بعد التعريف، كذا في المحيط، وإن كان الملتقط غنيا لا يصرفها إلى نفسه بل يتصدق على أجنبي أو أبويه أو ولده أو زوجته إذا كانوا فقراء، كذا في الكافي."

(کتاب اللقطة، ج:2، ص:289، ط:دار الفکر)

فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:

”سیلاب میں بہ آئی ہوئی چیزوں کا حکم :

(سوال (۲۲۸) سیلاب کے پانی میں سامان ، کرسی، برتن وغیرہ چیزیں بہ آئے اور کسی کو ملے تو کیا حکم ہے؟

 (الجواب) سیلاب میں جو چیزیں بہ آتی ہیں۔ ان کی دو قسمیں ہیں (۱) معمولی چیزیں جن کی اہمیت نہ ہو جن کی تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی ۔ (۲) قیمتی چیزیں جن کی مالک تلاش کرے پہلی قسم کی چیزیں ملیں ۔ تو ان کی تشہیر اور اعلان کی ضرورت نہیں وہ استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن مالک آکر طلب کرے تو دینا ضروری ہوگا۔ دسری قسم کی چیزیں ملیں تو ان کی تشہیر اور اعلان ضروری ہے۔ ان کے لئے مالک کا انتظار کیا جائے ۔ اگر مالک کے آنے کی توقع نہ ہو، یا ان کے بگڑنے کا خطرہ ہو تو غریب کو دی جاسکتی ہے۔ خود حاجت مند ہو تو خود بھی استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن اگر مالک آکر طلب کرے تو دینا ضروری ہوگا ۔ غریب کو دی ہو تو اس سے واپس لی جائے اور اگر وہ چیز موجود نہ ہو تو اس کی قیمت دی جائے ۔“

(کتاب اللقطۃ، ج:9، ص:193، ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101061

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں