بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

سحری کے وقت غسل فرض ہونے کی صورت میں کیا حکم ہے؟


سوال

مجھ  پر سحر ی کے وقت غسل  فرض ہوا ہے،  کیا کروں؟

جواب

سحری کے وقت غسل فرض ہو نے کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ غسل  کرکے سحری کی جائے ، اگر غسل کا وقت نہ ہو  یا کوئی عذر ہو تو وضو یا کلی وغیرہ کرکے  سحری کرلینی چاہیے، اس لیے کہ جنابت کی حالت میں سحری کرنا منع نہیں ہے۔

لہذا اگر کسی شخص  پر غسل واجب  ہو اور وہ صبح صاد ق سے پہلے غسل نہ کرسکے  اور سحری کرکے روزہ رکھ لے تو اس کا روزہ درست ہے،   ناپاک ہونے کی وجہ سے  روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، البتہ  اس کے بعد  پھر جلد از جلد غسل کرلینا چاہیے، غسل میں اتنی تاخیر کرنا کہ  فجر کی  نماز قضا ہوجائے گناہ کا باعث ہے۔

باقی  روزے کی حالت میں جنابت کے غسل  کا وہی طریقہ ہے جو عام حالات میں ہے، البتہ روزہ کی وجہ سے ناک میں اوپر تک پانی ڈالنا اور   کلی میں غرارہ کرنا درست نہیں ہے، اس لیے کہ ناک میں پانی چڑھانے سے یا غرارہ کرنے سے پانی حلق میں چلا گیا تو اس سے روزہ فاسد ہوجائے گا، لہذا  صرف  کلی کرلے اور ناک میں پانی ڈال لے توغسل صحیح ہوجائے گا، افطاری کے بعد غرارہ کرنے یاناک میں پانی چڑھانے کی ضرورت  بھی نہیں ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 400):
"(أو أصبح جنبًا و) إن بقي كل اليوم ... (لم يفطر)".

الفتاوى الهندية (1/ 16):
"الجنب إذا أخر الاغتسال إلى وقت الصلاة لايأثم، كذا في المحيط".فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144109200448

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے