
کیا سحری کرتے ہوئے اذان ہو جائے تو فورا سحری بند کر دینا چاہیے یا یہ کہ سامنے پڑا كھانا ختم کرنا چاہیے؟
صورت مسئولہ میں صبح صادق ہوجانے کے بعد کچھ کھا نا پینا جائز نہیں ، اگر کسی نے فجر کی اذان شروع ہونے کے بعد کچھ کھا پی لیا ، تو اس کا روزہ نہیں ہوگا ، روزہ کی قضاء لازم ہوگی ، نیز بقیہ دن روزہ داروں کی طرح رہنا ضروری ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"ووقته من حين يطلع الفجر الثاني، وهو المستطير المنتشر في الأفق إلى غروب الشمس وقد اختلف في أن العبرة لأول طلوع الفجر الثاني أو لاستطارته وانتشاره فيه. قال شمس الأئمة الحلواني القول الأول أحوط والثاني أوسع هكذا في المحيط، وإليه مال أكثر العلماء"۔
(كتاب الصوم ، ج : 1 ، ص : 194 ، ط : دارالفكر بيروت)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101682
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن