
میرے ذہن میں ایک طالب علمانہ الجھن ہے جس پر میں شریعت کی روشنی میں رہنمائی چاہتا ہوں ،میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ اہل تشیع حضرات سحری کے اختتام اور افطار کے آغاز میں کافی احتیاط برتتے ہیں (یعنی سحری وقت سے کچھ پہلے ختم کرنا اور افطار غروبِ آفتاب کے چند منٹ بعد کرنا)۔ ان کا یہ محتاط اندازِ عمل مجھے متاثر کرتا ہے کیونکہ روزہ ایک اہم عبادت ہے اور اس میں وقت کی نزاکت بہت زیادہ ہے۔ اس سلسلے میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ: کیا ہمارے (احناف کے) نزدیک تقویٰ کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم بھی افطار میں چند منٹ کی تاخیر کو ترجیح دیں تاکہ روزے کی صحت یقینی ہو؟ احادیثِ مبارکہ میں "تعجیلِ افطار" (جلدی افطار کرنے) کی جو تاکید آئی ہے، کیا اس کا مطلب غروبِ آفتاب کے فوراً بعد ہے یا اس میں احتیاطی وقفے کی گنجائش موجود ہے؟ ایک سنی حنفی ہونے کے ناطے، کیا میرا ان کے اس طریقے سے متاثر ہونا یا اس پر عمل کرنے کی خواہش رکھنا شرعی اعتبار سے درست ہے؟
صورت مسئولہ میں سائل کا روزے جیسی اہم عبادت میں سحر ی اور افطاری میں احتیاط کے تقاضے کوسامنے رکھ کر اہل تشیع حضرات سے متاثر ہونا ٹھیک نہیں ہے ،کیونکہ احتیاط وہاں ہوتی ہے جہاں شک ہو اور روزے میں سحری اور افطاری کے اوقات کو قرآن اور حدیث میں اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ،کہ جس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،لہذا جو عمل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور اس کے بعد صحابہ کے زمانے میں اور تسلسل کےساتھ آج تک جو چلا آرہا ہے اس پر عمل کرنا چاہئے،سحری کا وقت صبح صادق تک ہےیعنی سورج جب 18 درجے زیر افق تک پہنچ جائے،اور افطاری کاوقت سورج کے غروب ہونے تک ہے ،لہذا اسی کے مطابق روزہ بند کرنا اور کھولنا چاہیے،اسی پر پوری امت کا عمل ہے۔
قرآن مجید میں ہے :
﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ﴾[البقرة:187]
فتاوی شامی میں ہے :
"(في وقت مخصوص وهو اليوم)»قوله: وهو اليوم) أي اليوم الشرعي من طلوع الفجر إلى الغروب"۔
(كتاب الصوم ، ج : 2 ، ص : 371 ، ط : دار الفكر بيروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
"ووقته من حين يطلع الفجر الثاني، وهو المستطير المنتشر في الأفق إلى غروب الشمس وقد اختلف في أن العبرة لأول طلوع الفجر الثاني أو لاستطارته وانتشاره فيه. قال شمس الأئمة الحلواني القول الأول أحوط والثاني أوسع هكذا في المحيط، وإليه مال أكثر العلماء كذا في خزانة الفتاوى في كتاب الصلاة"۔
(کتاب الصوم ، ج : 1 ، ص : 194 ، ط : دارالفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101183
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن