
میرا ایک بچہ دو سال دو ماہ کا ہے اور ایک ایک سال کا۔ دونوں کی ولادت کے وقت میری بیوی بہت زیادہ تکلیف میں رہی ، جو ناقابل بیان ہے اور صرف زندہ رہ گئی بس اور اب ٹیسٹ سے معلوم ہوا ہے کہ حمل ٹھہر گیا ہے تو اب کیا 25 یا 30 دن کے اس حمل کو ساقط کیا جا سکتا ہے؟
واضح رہے کہ اگر حمل سے عورت کی جان کو خطرہ ہو یا کسی مضرت(نقصان) کا اندیشہ ہو ، یا حمل سے عورت کا دودھ بند ہوجائے، جس سےپہلے بچے کو نقصان ہو اور بچے کے والد کی اتنی گنجائش نہ ہو کہ وہ اجرت پر دودھ پلانے والی عورت مقرر کرسکے یا بچہ کےلیے ڈبہ کے دودھ کا انتظام کرسکے اور کوئی تجربہ کار مستند مسلمان دین دار ڈاکٹر اس بات کی تصدیق کرے کہ عورت کا حمل برقرار رہنے کی صورت میں حاملہ کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے یا شدید ضرر لاحق ہوسکتا ہے ،تو ایسے عذر کی صورت میں حمل میں جان پڑنے سے پہلے پہلے اسے ختم کرنے کی گنجائش ہے اور فقہاء کرام نے اس کی مدت چارہ ماہ (ایک سو بیس دن ) بیان فرمائی ہے ،اگر مذکورہ بالا اعذار میں سے کوئی عذر نہ ہو تو حمل میں جان پڑنے سے پہلے بھی حمل کو ختم کرنا شرعا جائز نہیں ہوگا ۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر حمل کو تقریبا صرف ایک مہینہ ہی ہوا ہے اور تجربہ کار ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ یہ حمل صحت کے لیے نقصان دہ ہے تو ایسی صورت میں اسقاطِ حمل کی گنجائش ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"وقالوا يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج.
مطلب في حكم إسقاط الحمل
(قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اهـ قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اهـ كلام النهر ح".
(کتاب النکاح، باب نکاح الرقیق، ج:3، ص:176، ط: سعید)
وفیہ أیضاً:
"ويكره أن تسقى لإسقاط حملها … وجاز لعذر حيث لا يتصور".
"(قوله ويكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية كما قدمناه قبيل الاستبراء وقال إلا أنها لا تأثم إثم القتل (قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية (قوله حيث لا يتصور) قيد لقوله: وجاز لعذر والتصور كما في القنية أن يظهر له شعر أو أصبع أو رجل أو نحو ذلك".
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:429، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706100932
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن