بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سکیورٹی پر مکان لینے کا حکم


سوال

 زید ہمارے ہندوستان کے شہر ”دہلی“ میں ایک مکان (کرایہ پر) لینا چاہتا ہے۔ لیکن دہلی کا رواج ہے کہ مکان سکیورٹی پر دیتے ہیں۔ سکیورٹی یہ ہے کہ پہلے مکان مالک اپنی متعینہ رقم لے لیتا ہے، مثلاً: چار لاکھ یا پانچ لاکھ روپے، اور پھر آپ کو مکان گیارہ ماہ کے لیے دے دیتا ہے، اور جب گیارہ ماہ گزر جاتے ہیں، تو وہ مکان خالی کرا لیتا ہے اور آپ کی پوری رقم آپ کو واپس کر دیتا ہے۔ لیکن مکان مالک اس رقم سے گیارہ ماہ جو نفع کماتا ہے وہی اس مکان کا کرایہ سمجھا جاتا ہے۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس طرح مکان میں رہنا اور سکیورٹی کا معاملہ کرنا کیسا ہے؟

جواب

سکیورٹی پر مکان لینے   دینے کا مذکورہ طریقہ شرعًا ناجائز ہے؛ کیوں کہ سکیورٹی کی مد میں جو رقم مالکِ مکان کو دی جاتی ہے، اس کی حیثیت اگرچہ ابتداءً ”امانت“ ہوتی ہے، لیکن چوں کہ مالکِ مکان کو عرفًا اس رقم کے استعمال کی اجازت ہوتی ہے، اور عموماً وہ ان رقوم کو استعمال بھی کرتا ہے؛ اس لیے انتہاءً اس رقم کی حیثیت ”قرض“ بن جاتی ہے۔ اور قرض کے عوض کسی بھی قسم کا فائدہ یا نفع اٹھانا سود ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز و حرام ہے۔

علاوہ ازیں مذکورہ معاملہ میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ یہ معاملہ در اصل ”اجارہ“ یعنی کرایہ داری کا ہوتا ہے، اور اجارہ میں ”اجرت“ کا معلوم و متعین ہونا ضروری ہوتا ہے، جب کہ اس معاملہ میں اجرت ہی مقرر نہیں ہوتی۔

 لہذا  سکیورٹی پر مکان کے کرایہ داری کا مذکورہ طریقہ درست نہیں ہے۔

البتہ اگر مکان کرایہ پر لینے والا مالکِ مکان کے پاس معروف کے مطابق سکیورٹی کی رقم جمع کرائے، اور اس کے ساتھ ساتھ ماہانہ یا سالانہ کی بنیاد پر مناسب کرایہ بھی طے کرلے، لیکن مالکِ مکان سکیورٹی کی رقم سے جو نفع کمائے اسے کرایہ نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے کرایہ کا حصّہ قرار دیا جائے، تو کرایہ داری کی یہ صورت درست ہوگی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي الخانية: رجل استقرض دراهم وأسكن المقرض في داره، قالوا: يجب أجر المثل على المقرض؛ لأن المستقرض إنما أسكنه في داره عوضا عن منفعة القرض لا مجانا وكذا لو أخذ المقرض من المستقرض حمارا ليستعمله إلى أن يرد عليه الدراهم اهـ وهذه كثيرة الوقوع."

(كتاب الإجارة،باب الإجارة الفاسدة، ج:4، ص:43، ط:ایج ایم سعید)

و فيه أيضاً:

"وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن.

وفي الرد: (قوله: كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه."

(کتاب البیوع، باب المرابحة وا لتولية، ج:5، ص:166، ط:ایج ایم سعید)

و فيه أيضاً:

"وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.

وفي الرد: (قوله: كون الأجرة والمنفعة معلومتين) أما الأول فكقوله بكذا دراهم أو دنانير وينصرف إلى غالب نقد البلد، فلو الغلبة مختلفة فسدت الإجارة ما لم يبين نقدا منها."

(كتاب الإجارة، شروط الإجارة، ج:6، ص:5، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101833

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں