بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 محرم 1448ھ 18 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اسکولوں میں تعلیم کو مؤثر اور بامقصد بنانے کے لیے Genesis Education Solutions ادارے کے طریقہ کار کا شرعی حکم


سوال

آج کے دور میں تعلیمی اداروں میں ایک بڑی ضرورت یہ محسوس کی جا رہی ہے کہ: اساتذہ کے تدریسی طریقۂ کار کو بہتر بنایا جائے طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت کو مؤثر انداز میں بڑھایا جائے اور تعلیم کو زیادہ بامقصد، بامعنی اور مؤثر بنایا جائے اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم Genesis Education Solutionsکے نام سے ایک B2B ایجوکیشن کنسلٹنگ ادارہ چلا رہے ہیں، جو اسکولز کے ساتھ مل کر: اساتذہ کی تربیت تدریسی نظام میں بہتری اور جدید و مؤثر طریقۂ تعلیم کی ترویج پر کام کر رہا ہے۔ اس کام کے ساتھ ساتھ ہماری یہ بھی کوشش ہے کہ: تعلیم میں اسلامی اقدار کو مناسب اور حکمت کے ساتھ شامل کیا جائے اور جہاں ممکن ہو، نبوی طریقۂ تعلیم سے راہ نمائی لے کر نظام کو بہتر بنایا جائے،  ہم اس کام کو ایک اصلاحی اور خیر کے پہلو کے ساتھ دیکھتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ یہ مکمل طور پر شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مؤثر انداز میں انجام پائے۔ اسی مقصد کے لیے ہم آپ سے راہ نمائی کے طالب ہیں کہ اس کام کو کس طرح درست شرعی اصولوں کے مطابق انجام دیا جائے۔ ہماری خدمات کا بنیادی حصہ یہ ہے کہ ہم مختلف اسکولز میں جا کر اساتذه اور طلبہ کے ساتھ براہِ راست کام کرتے ہیں، تاکہ ان کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے ہم آپ سے یہ رہنمائی چاہتے ہیں کہ چونکہ اسکولز میں بڑی تعداد میں خواتین اساتذہ موجود ہوتی ہیں، اور بعض اسکولز مکمل گرلز ہوتے ہیں، جب کہ بعض میں کو-ایجوکیشن(طالب طالبات ساتھ) بھی ہوتا ہے، اس لیے ہم اس کام کو جاری رکھتے ہوئے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ:

مرد ٹرینرز کا مخلوط ماحول (مرد خواتین ساتھ) میں تربیت دینے کا شرعی طور پر درست طریقۂ کار کیا ہونا چاہیے؟مرد ٹرینرز کے لیے خواتین اساتذہ کو تربیت دینے کا شرعی طور پر درست طریقۂ کار کیا ہونا چاہیے؟خاتون ٹرینرز کا مخلوط ماحول (مرد خواتین ساتھ) میں تربیت دینے کا شرعی طور پر درست طریقۂ کار کیا ہونا چاہیے؟خاتون ٹرینرز کے لیے مرد اساتذہ کو تربیت دینے کا شرعی طور پر درست طریقۂ کار کیا ہونا چاہیے؟سرٹیفکیٹس یا پبلک ایونٹس میں اسٹیج پر مشترکہ موجودگی کی صورت کیا ہوگی؟سوشل میڈیا پر طلبہ/اساتذہ (مرد و عورت) کی آواز (audio) کے استعمال کا طریقہ کار؟ ملازمین / ٹرینرز کے حالات کے پیشے نظر اور حفاظتی تدبیر کے طور پر تصویری شناختی کارڈز (ID cards) بنانے کا شرعی طریقہ کار کیا ہوگا؟کن اصولوں کو اختیار کرکے اس کام کو درست انداز میں جاری رکھا جا سکتا ہے؟

اس کام کو بہتر انداز میں انجام دینے کے لیے خواتین ٹرینرز شامل کرنا ضروری ہوتا ہے : اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ:

خواتین ٹرینرز کو اس تعلیمی مقصد میں پیشہ ورانہ شامل کرنے کا شرعی ماڈل کیا ہو سکتا ہے؟کمپنی کے اندر مرد و خواتین کے درمیان پیشہ ورانہ تعامل کو کس طرح شرعی حدود کے مطابق رکھا جا سکتا ہے؟خواتین ٹرینرز کی تربیت کا شرعی طور پر درست طریقہ کیا ہو؟ایونٹس یا ورکشاپ میں نشست کی شرعی طور پر درست ترتیب کیا ہوگی؟مخلوط ماحول میں سوال و جواب کا شرعی طور پر درست طریقۂ کار کیا ہونا چاہیے؟ہمارے تربیت کے نظام اور تعلیمی مقصد میں جماعت کا مشاہدہ بھی شامل ہے۔ مرد  خاتون کی درسگاہ کی اصلاح اور رائے کے لیے مشاہدہ کرسکتا ہے۔؟خاتون کا مرد کی درسگاہ کی اصلاح اور رائے کے لیے مشاہدہ کر سکتی ہے۔؟

ہم Zoom یا دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے آن لائن ٹریننگ بھی کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس میں: مرد اور خواتین اساتذہ ایک ساتھ شامل ہو سکتے ہیں؟ چیٹ یا آڈیو کے ذریعے سوال و جواب کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ خواتین کا زوم (ZOOM) میں مرد ٹرینر کو دیکھنا یا مرد حضرات کا خاتون ٹرینر کو دیکھنا؟ آن لائن مخلوط سیشنز کا شرعی طریقۂ کار کیا ہونا چاہیے؟ کن حدود (جیسے کیمرہ، آواز، تعامل وغیرہ) کو مدنظر رکھنا ضروری ہے؟ مرد / خاتون ہر ایک کا دوسرے کے ریکارڈ شدہ ویڈیوز (recorded sessions) کا استعمال کرنا ؟ اس ماڈل کو کس طرح اختیار کیا جائے کہ یہ مفید بھی رہے اور شرعی اصولوں کے مطابق بھی ہو؟ بعض مواقع پر ہمیں طلبہ کے ساتھ بھی براہِ راست سیشنز کرنے ہوتے ہیں، جن میں طالبات بھی شامل ہو سکتی ہیں۔اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ: اس کام کو انجام دینے کا صحیح طریقۂ کار کیا ہونا چاہیے؟ کن اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اس عمل کو جاری رکھ سکتے ہیں تاکہ یہ شرعی تقاضوں کے مطابق بھی ہو اور تعلیمی فائدہ بھی حاصل ہو؟ چونکہ ہم اسکولز کے ساتھ کام کرتے ہیں، اس لیے اپنی خدمات کو متعارف کروانے کے لیے ہمیں: ویب سائٹ سوشل میڈیا کمپنی پروفائل اور مختلف ایونٹس کے ذریعے اپنی سرگرمیوں کو پیش کرنا ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم آپ سے یہ رہنمائی چاہتے ہیں کہ: تصاویر اور ویژول مواد کو استعمال کرنے کا ایسا کیا طریقہ ہو سکتا ہے جو شرعی اصولوں کے مطابق بھی ہو اور کام کی ضرورت بھی پوری کرے؟ اگر چہرہ دکھائے بغیر (blur / back view) ویڈیوز استعمال کی جائے اس کا طریقہ کار؟ کن حدود و اصولوں کو سامنے رکھ کر ہم اپنی مارکیٹنگ کو جاری رکھ سکتے ہیں؟ ہماری خواہش یہ ہے کہ ہم اپنے اس تعلیمی اور اصلاحی کام کو زیادہ سے زیادہ مؤثر انداز میں اور مکمل شرعی راہ نمائی کے ساتھ آگے  بڑھا سکیں۔ براہِ کرم ہمیں اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرما دیں تاکہ ہم اپنے کام کو درست سمت میں جاری رکھ سکیں۔

جواب

جواب سے پہلے بطورِ تمہید چند امور ملاحظہ ہوں:

1۔ اسلام حتی الامکان مرد وزن کے اختلاط کی اجازت نہیں دیتا، البتہ جہاں پر متبادل کوئی راستہ نہ ہو تو اس صورت میں چند شرائط (مکمل پردہ، عورت کی آواز میں ایسی سختی جو مانع رغبت ہو، بقدرِ ضرورت موضوع کے متعلق گفتگو، ہنسی مذاق سے اجتناب وغیرہ) کی بنیاد پر  عورت مرد سے بات کر سکتی  ہے۔

2۔ جاندار کی تصویر  اور ویڈیو بناناشرعاً  ناجائز وحرام ہے، اور جو تصویر دھندلی( بَلر )کی جاتی ہے وہ بھی پہلے صحیح تصویر ہوتی ہے پھر بَلر کی جاتی ہے، جس کی شرعاً اجازت نہیں ہے، البتہ اگر کسی چیز کی راہ نمائی کے لیے سر کو ہٹا کر کوئی تصویر بنائی جائے تو شرعاً یہ جائز ہے۔البتہ ملازمین اور ٹرینرز  کی شناخت  کے  لئے  تصویربغیر کوئی اور طریقہ مثلاً فنگر پرنٹ وغیرہ کا طریقہ  بھی اختیار کیا جاسکتاہے۔

3۔اگر کوئی ادارہ یا شخص کچھ اصول وضوابط وضع کرتا ہے تو اس کے شرعی ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ علماء ومفتیانِ کرام ہی کریں گے، لہذا اپنے  وضع کردہ اصول کی شرعاً تصدیق کے لیے علماء ومفتیانِ کرام کی طرف رجوع کریں۔

لہذا صورت مسئولہ میں تعلیمی نظام کو نبوی طریقے کے مطابق کرنے کے لیے بہتر یہی ہے کہ مرد وزن کے مخلوط نظام سے اجتناب کرتے ہوئے مرد حضرات کی تربیت مرد  حضرات سے ہی کرائی جائے، اور  خواتین کو  ٹریننگ خواتین ہی دیں، کہ اس میں بدنظری اور فتنہ میں پڑنے سے حفاظت ہے۔

اور مذکورہ ٹریننگ میں راہ نمائی کے لیے جو ویڈیوز وغیرہ بنائی جاتی ہیں  اگر ان میں جاندار کی تصاویر اور موسیقی ومیوزک وغیرہ ہو تو یہ جائز نہیں ہے، اس سے اجتناب کریں ، البتہ اگر ویڈیو  میں جاندار کی تصاویر یا میوزک موسیقی وغیرہ نہ ہو تو راہ نمائی کے لیے ایسی ویڈیوز بنانا جائز ہے، شرعاً اس میں حرج نہیں ہے۔

نیز مذکورہ پروگرام کے جو اصول وضوابط آپ حضرات نے  وضع کیے ہیں اگر ان کے متعلق راہ نمائی درکار ہے تو وہ تمام اصول وضوابط ارسال فرما کر دریافت کیجیے، ان شاءاللہ جواب دے دیا جائے گا ۔

فتاوی شامی میں ہے:

''فإذا ‌نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا ‌نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذالم يجز أن تؤذن المرأة''.

(‌‌کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، ج: 3، ص: 72، ط: سعید)

الأشباه والنظائر میں ہے:

"فائدة قال بعضهم المراتب خمسة ضرورة وحاجة ومنفعة وزينة وفضول فالضرورة بلوغه حدا إن لم يتناوله الممنوع هلك أو قارب وهذا يبيح تناول الحرام والحاجة كالجائع الذي لو لم يجد ما يأكله لم يهلك غير أنه يكون في جهد ومشقة".

(ج: 1، ص: 85، ط: دارالکتب العلمیة بیروت)

 فتاوی شامی میں ہے:

"وظاهر كلام ‌النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره اهـ كلام البحر ملخصا."

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، 647/1، ط: سعيد)

ایضاً: 

"وأما فعل التصوير فهو غير جائز مطلقا لأنه مضاهاة لخلق الله تعالى".

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: 1، 650، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101669

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں