بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اسکول والوں کا یونیفارم کی خریداری کے لیے گاہک بھیجنے پر دکان دار سے کمیشن لینے کا حکم


سوال

 میرا اسکول یونیفارم بنانے کا کارخانہ ہے، اب میں یونیفارم کی دکان شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اس میں طریقہ کا یہ ہوتا ہے کہ چھوٹے اسکول والے تو اپنے یونیفارم دکاندار کو رکھنے کی اجازت دے دیتے ہیں، البتہ بڑے اسکول والے یہ کرتے ہیں کہ ہم سے سالانہ یا ہر یونیفارم کی فروخت پر ایک کمیشن کا فیصد  مقرر کرتے ہیں، کیا یہ طریقہ شرعا جائز ہے؟

تنقیح: ہم اسکول والوں سے جاکر کہتے ہیں کہ آپ اپنے اسکول کے طلبہ یا ان کے سرپرستوں کو یونیفارم خریدنے کے لیے ہماری دکان کا پتہ بتاکر یا ترغیب دے کر ہماری دکان پر بھیجیں، وہ شرط لگاتے ہیں کہ ہم اس پر آپ سے کمیشن لیں گے، ہم کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے، پھر اسکول والے بعض اوقات زبانی طور پر ہماری دکان کا پتہ بتادیتے ہیں اور بعض اوقات پرچی دے دیتے ہیں جس پر یونیفارم کی خریداری کے لیے ہماری دکان کا پتہ درج ہوتا ہے۔ 

جواب

واضح رہے کہ کمیشن کے جائز ہونے کی منجملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ کمیشن لینے والے شخص کی طرف سے فریقین (مثلاً فروخت کنندہ اور خریدار) کے درمیان سودا کروانے کے لیے محنت و مشقت پر مشتمل کوئی معتد بہ عملی معاونت (مثلا ایک فریق کو دوسرے کے پاس لے جاکر ملاقات کروانا، وغیرہ) پائی جائے، چناں چہ محض زبانی طور پر پتہ بتاکر راہنمائی کر نے یا ترغیب دے کر ایک فریق کو دوسرے کے پاس بھیجنے کی بنیاد پر کمیشن لینا جائز نہیں ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اسکول والوں کا یونیفارم خریدنے والوں کو یونیفارم کی دکان کا پتہ بتانے یا مخصوص دکان سے یونیفارم خریدنے کا مشورہ یا ترغیب دینے کی بنیاد پر دکان دار سے کمیشن طلب کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ اسکول والوں کی طرف سے سودا کروانے کے لیے ایسی کوئی معتد بہ عملی معاونت نہیں پائی گئی جس کی بنیاد پر وہ کمیشن (اجرت) کے مستحق ہوسکیں، دکان دار کے لیے بھی اس طرح اسکول والوں سے کمیشن کے لین دین کا معاہدہ کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اس کا جائز طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ اسکول والےدکان دار سے یہ معاہدہ کرلیں کہ ہمارا کوئی ملازم وغیرہ آپ کے پاس یونیفارم خریدنے کے خواہش مند لوگوں کو لے کر آئے گا، چناں چہ ہمارے لائے ہوئے گاہک جو یونیفارم خریدیں گے تو فی یونیفارم ہم اتنا (طے شدہ) کمیشن لیں گے۔اس طرح معاہدہ کرنے کے بعد اسکول والے  طلبہ کے سرپرستوں کو اپنے کسی ملازم کے ساتھ یونیفارم والی دکان پر بھیج دیں، لہٰذا اگر اسکول والوں کا ملازم یونیفارم خریدنے والوں کو دکان تک لے جائے اور وہ گاہک اس دکان سے یونیفارم خرید لیں تو اسکول والوں کے لیے دکان دار سے فی یونیفارم طے شدہ کمیشن لینا جائز ہوگا

فتاوی شامی میں ہے:

"إن دلني على كذا فله كذا فدله فله أجر مثله إن مشى لأجله.

(قوله إن دلني إلخ) عبارة الأشباه إن دللتني. وفي البزازية والولوالجية: رجل ضل له شيء فقال: من دلني على كذا فهو على وجهين: إن قال ذلك على سبيل العموم بأن قال: من دلني فالإجارة باطلة؛ لأن ‌الدلالة ‌والإشارة ليست بعمل يستحق به الأجر، وإن قال على سبيل الخصوص بأن قال لرجل بعينه: إن دللتني على كذا فلك كذا إن مشى له فدله فله أجر المثل للمشي لأجله؛ لأن ذلك عمل يستحق بعقد الإجارة إلا أنه غير مقدر بقدر فيجب أجر المثل، وإن دله بغير مشي فهو والأول سواء."

(كتاب الإجارة،مطلب ضل له شيء فقال من دلني عليه فله كذا، ج:6، ص:95، ط:سعيد)

"غمز عيون البصائر"میں ہے:

"أما لو ‌دله ‌بالكلام فلا شيء له هكذا روي عن أبي يوسف."

(الفن الثاني، كتاب الإجارات، ج:3، ص:129، ط:دار الكتب العلمية)

"رد المحتار "میں ہے:

"قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة ‌السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة."

(كتاب الإجارة،باب الإجارة الفاسدة، مطلب في أجرة الدلال، ج:6، ص:63، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144706100327

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں