بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 محرم 1448ھ 05 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

اسکول میں جمعہ قائم کرنا


سوال

 سکردو کےایک  سکول میں اندازاً دوسو سے تین سوطلبہ( نماز کی عمرکےیعنی بالغ) موجود ہوتے ہیں، اور تقریبا بیس  لوگ ان  کے علاوہ  ہیں ۔ قریب ترین اہل سنت کی مسجد (جہاں جمعہ پڑھایا جاتا ہے) میں بسا اوقات جگہ کم پڑ جاتی ہے اور جانا بھی مشکل ہوتا ہے، اس صورت حال میں کیاا سکول کی مسجد میں جمعہ پڑھایا جا سکتا ہے؟ا سکول کے اندر تمام لوگ مقامی نہیں ہیں۔آس پاس کی آبادی میں اہل سنت آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔ 

جواب

واضح رہے کہ جمعہ کی نماز کے قائم کرنے کیلئے شہر یا فناءشہر یا بڑے گاؤں کا ہونا ضروری ہے، ایسا بڑا گاؤں /بستی جس کی مجموعی آبادی کم از کم ڈھائی تین ہزار افراد پر مشتمل ہو، جمعہ و عید کی نماز قائم کرنے کےلئے جامع مسجد کا ہونا ضروری نہیں۔ 

لہذا صورت مسئولہ میں اسکردو  کی جس جگہ مذکورہ سکول واقع ہے،اگروہ خاص شہرہےیا شہر کےمضافات میں کوئی دیہی علاقہ ہے کہ جہاں کی آبادی  کم ازکم ڈھائی تین ہزارافراد پرمشتمل ہے،اور اسکول کے قریب میں واقع مذکورہ مسجدبھی  جمعہ کی نماز کےلئے   واقعتًا تنگ پڑجاتی ہے، اور وہاں جانا بھی مشکل ہوتا ہے، تو ایسی صورت میں اسکول کی مذکورہ مسجد میں جمعہ کی نماز قائم کرنا جائز ہے۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"ولأدائها شرائط في غير المصلي. منها المصر هكذا في الكافي، والمصر في ظاهر الرواية الموضع الذي يكون فيه مفت وقاض يقيم الحدود وينفذ الأحكام وبلغت أبنيته أبنية منى، هكذا في الظهيرية وفتاوى قاضي خان. وفي الخلاصة وعليه الاعتماد، كذا في التتارخانية ومعنى إقامة الحدود القدرة عليها، هكذا في الغياثية.

وكما يجوز أداء الجمعة في المصر يجوز أداؤها في فناء المصر وهو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر ومن كان مقيما بموضع بينه وبين المصر فرجة من المزارع والمراعي نحو القلع ببخارى لا جمعة على أهل ذلك الموضع وإن كان النداء يبلغهم والغلوة والميل والأميال ليس بشيء هكذا في الخلاصة."

(كتاب الصلاة، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة، ج:1، ص: 145، ط:رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144108200236

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں