بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اسکول میں بطور شرکت کے پیسے لگانا


سوال

میرا ایک پلاٹ ہے،میں  اس میں ایک اسکول بنا کر کاروبار کرنا چاہتا ہوں،  ایک آدمی مجھے پانچ کروڑ روپے بطور شرکت کے دے رہا ہے، کیا اس شرکت میں میری طرف سے بھی کچھ رقم شامل ہونا ضروری ہے؟ یا میری طرف سے زمین شامل کرنا کافی ہو گا؟ 

اسکول میں انتظامات میں بھی سنبھالوں گا اور وہ بھی سنبھالے گا۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر آپ  اپنی زمین میں اسکول بناکراس کے ذریعہ کمائی کرنا چاہتے ہیں  اور ایک شخص نے اس اسکول میں بطور شرکت کے آپ کو پانچ کروڑ روپے دینا چاہتا ہے تو اسکول میں شرکت کے لیے آپ کی طرف سے بھی نقد سرمایہ ہونا ضروری ہے، بطور شرکت کےصرف زمین شامل کرنا کافی نہیں ہے،اس صورت میں اسکول کی عمارت میں آپ دونوں شریک ہوں گے، البتہ زمین کے مالک صرف آپ ہوں گے۔

اگر آپ اسکول کی زمین اور عمارت دونوں میں شرکت کرنا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ دوسرے شخص کو اس کے آدھےسرمائے کے بقدر  اپنی زمین بیچ  دیں، پھر اس کے باقی سرمائے اور اپنی فروخت شدہ زمین سے حاصل شدہ سرمائے کو ملا کر اسکول بنا لیں تو اس طرح آپ دونوں اسکول کی زمین اور عمارت دونوں میں شریک ہو جائیں گے،نیز اسکول کے ذریعہ کمائی میں دونوں شریکوں کو نفع فیصد کے اعتبار سے طے کرنا ضروری ہے،  اور نقصان ہر ایک شریک کے سرمائے کے بقدر ہو گا۔

ملحوظ رہے کہ اسکول میں شرکت  سے پہلے متعلقہ شرکت کے معاملات سیکھ لینے چاہییں تا کہ  اسکول کو شریعت کی روشنی میں چلایا جا سکے۔  

بدائع الصنائع میں ہے:

"(أما) ‌الشركة ‌بالأموال ‌فلها ‌شروط: (منها) أن يكون رأس المال من الأثمان المطلقة وهي التي لا تتعين بالتعيين في المفاوضات على كل حال، وهي الدراهم والدنانير، عنانا كانت الشركة أو مفاوضة عند عامة العلماء، فلا تصح الشركة في العروض.... ولو كان من أحدهما دراهم، ومن الآخر عروض، فالحيلة في جوازه: أن يبيع صاحب العروض نصف عرضه بنصف دراهم صاحبه، ويتقابضا، ويخلطا جميعا حتى تصير الدراهم بينهما، والعروض بينهما، ثم يعقدان عليهما عقد الشركة فيجوز."

(كتاب الشركة، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج: 6، ص: 59، ط: دار الكتب العلمية)

وفیہ ایضا:

"(أما) الشرائط العامة فأنواع....(ومنها): أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة."

(كتاب الشركة، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج: 6، ص: 59، ط: دار الكتب العلمية)

وفیہ ایضا: 

"والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال."

(كتاب الشركة، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج: 6، ص: 62، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100903

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں