بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سزا کے طور پر موبائل ضبط کرنا یا توڑنا


سوال

موجودہ دور کے بعض تعلیمی اداروں میں موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جاتی ہے۔ ادارے کی طرف سے صاف طور پر اعلان کیا جاتا ہے کہ اگر کسی کے پاس اینڈرائیڈ فون پایا گیا تو وہ ضبط کر لیا جائے گا یا توڑ دیا جائے گا۔ اس کے باوجود بعض طلبہ ادارے کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔

اس بنا پر جب کسی ممنوعہ وقت میں کسی طالب علم کے پاس موبائل پایا جاتا ہے تو ادارہ اسے ضبط کرنے یا توڑ دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ:

  1. مالی جرمانہ عائد کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

  2. اگر کوئی طالب علم موبائل استعمال کرے تو ادارے کے لیے اس موبائل کو ضبط کرنا اور توڑ دینا جائز ہوگا یا نہیں؟

  3. موبائل توڑ دینا کیا مالی جرمانے کے حکم میں شمار ہوگا؟ اور موبائل توڑنے کی صورت میں کیا ادارے یا استاد پر ضمان لازم آئے گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت میں کسی پر مالی جرمانہ عائد کرنا یا کسی سے وصول کرنا جائز نہیں ہے، اور نہ ہی مالِ متقوم کو ضائع کرنا جائز ہے۔ لہٰذا کسی ادارے یا استاد کے لیے موبائل ضبط کرنا یا توڑنا جائز نہیں، اور توڑنے کی صورت میں اس پر ضمان لازم آئے گا۔ اس کی جگہ طلبہ کی اس بے ضابطگی پر انہیں مدرسہ سے خارج کیا جا سکتا ہے یا کوئی دوسری سزا دی جا سکتی ہے، یا صرف موبائل ضبط کرکے سال کے آخر میں واپس کیا جا سکتا ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"أما ‌السبب فهو أخذ مال الغير بغير إذنه لقوله عليه الصلاة والسلام: "على ‌اليد ما ‌أخذت حتى ترد" ، وقوله عليه الصلاة والسلام: "لا يأخذ أحدكم مال صاحبه لاعبا ولا جادا، فإذا أخذ أحدكم عصا صاحبه فليرد عليه".

(كتاب الغصب،فصل في حكم الغصب،ج:7،ص:148،ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في التعزير بأخذ المال (قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.

وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ.

والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

(كتاب الحدود،‌‌باب التعزير،ج:4،ص:61،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100597

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں