بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے کا شرعاً کیا حکم ہے؟


سوال

سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے میں شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب

بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے کے نتیجے میں اکاؤنٹ ہولڈر کو اکاؤنٹ میں رکھی ہوئی رقم کے عوض منافع کے نام سے کچھ رقم دی جاتی ہے،  وہ رقم  سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، اس لیے بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنا نا جائز ہو گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200614

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے