بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتیلی اولاد کا میراث میں حصّہ، اور ان کے لیے وصیت کا حکم


سوال

ایک بیوہ خاتون ہے، جس کی اپنی کوئی اولاد نہیں ہے۔ البتہ سوتیلی اولاد ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں موجود ہیں، جو کہ اس کی بہن کی حقیقی اولاد ہے، یعنی اس خاتون کے سگے بھانجے اور بھانجیاں ہیں۔ اس کے علاوہ اس خاتون کے بہن بھائی موجود ہیں، لیکن والدین فوت ہو چکے ہیں۔

کیا ایسی صورت میں اس خاتون کی جائیداد اور میراث میں سوتیلی اولاد کا کوئی حق یا حصّہ ہے کہ نہیں؟ اور کیا اس کی میراث میں سے ان اولاد کو کوئی حصّہ ملے گا کہ نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بیوہ خاتون جب تک زندہ ہے، اس کی میراث سے متعلق یہ سوال قبل از وقت ہے۔

تاہم اصولی جواب یہ ہے کہ مذکورہ بیوہ خاتون کے انتقال کے وقت اس خاتون کے ورثاء میں اس کے بھائی بہن موجود ہوں، تو ایسی صورت میں اس خاتون کی متروکہ جائیداد اور مملوکہ اشیاء میں اُس کی سوتیلی اولاد کا کوئی حق یا حصّہ نہیں ہوگا، بلکہ اس کے شرعی ورثاء صرف بہن بھائی ہی قرار پائیں گے۔

البتہ اگر یہ خاتون اپنی سوتیلی اولاد کے لیے شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے جائز وصیت کرنا چاہے، تو کر سکتی ہے، یعنی ایک تہائی کے بقدر وصیت کر سکتی ہے۔

باقی زیرِ نظر مسئلہ میں یہ خاتون جب تک زندہ ہے، اس کی مملوکہ جائیداد، مال و متاع میں کسی کا کوئی حق و حصّہ نہیں، نہ بہن بھائیوں کا کوئی حصّہ ہے، اور نہ ہی سوتیلی اولاد وغیرہ کا کوئی حصّہ ہے، اور نہ ہی ان میں سے کسی کو مطالبہ کا حق ہے۔ البتہ خاتون کے انتقال کے بعد شرعی ورثاء اپنے اپنے شرعی حصّوں کے اعتبار سے اس کے مال میں حصّہ دار ہوں گے۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"والوارثون أصناف ثلاثة: أصحاب الفرائض والعصبات وذوو الأرحام، كذا في المبسوط، والمستحقون للتركة عشرة أصناف مرتبة، كذا في الاختيار شرح المختار فيبدأ بذي الفرض ثم بالعصبة النسبية ثم بالعصبة السببية وهو مولى العتاقة، ثم عصبة مولى العتاقة ثم الرد على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم، ثم ذوي الأرحام ثم مولى الموالاة ثم المقر له بالنسب على الغير بحيث لم يثبت نسبه بإقراره من ذلك الغير إذا مات المقر مصرا على إقراره، كما لو أقر بأخ أو أخت وما أشبه ذلك ثم الموصى له بجميع المال ثم بيت المال، كذا في الكافي."

(کتاب الفرائض، الباب الأول في تعريف الفرائض، ج:6، ص:447، ط:المكتبة الرشيديه كوئته)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل، والعلم بجهة إرثه."

(كتاب الفرائض، ج:6، ص:758، ط:ایج ایم سعید كراتشي)

درر الحكام فی شرح مجلۃ الأحكام میں ہے:

"كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير."

(الكتاب العاشر الشركات، الباب الثالث، الفصل الأول في بيان بعض القواعد المتعلقة بأحكام الأملاك،ج:3، ص:201، ط:دار الجیل بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100024

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں