بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1448ھ 18 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ سے پہلے کی سنتیں پڑھنے کا موقع نہ ملے تو کیا کیا جائے؟


سوال

بعض خلیجی ممالک  میں جمعہ سے پہلے کی سنتیں پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ کچھ لوگ یہاں کہتے ہیں کہ جمعہ سے پہلے کوئی سنتیں نہیں ہوتیں۔ اگر سنتیں ہیں، تو کس وقت پڑھی جائیں؟ کیوں کہ یہاں پہلی اذان ظہر کا وقت داخل ہونے سے پہلے ہی دے دی جاتی ہے۔ اس پہلی اذان کا مقصد کیا ہے؟ اور دوسری اذان کے فوراً بعد خطبہ شروع ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے سنتوں کا وقت ہی نہیں ملتا۔ براہِ کرم اس کی تفصیل بتا دیجیے!

جواب

 واضح رہے کہ فقہ حنفی کے مطابق جمعہ کے فرضوں سے پہلے چار رکعت سنت مؤکدہ پڑھنا ثابت ہے، لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ جمعہ سے پہلے سرے سے کوئی سنتیں ہوتی ہی نہیں ہیں۔

  نیز  جمعہ کی نماز کا وقت وہی ہے جو ظہر کا ہے، یعنی زوال کے بعد شروع ہوتا ہے،لہذاصورت مسئولہ میں  اگر جمعہ کا وقت داخل ہونے کے بعد خطبہ سے پہلے اتنا وقت نہ ملتا ہو، جس میں چار سنتیں پڑھی جا سکیں، تو  یہ سنتیں فرض کے بعد ادا کر لی جائیں، فرض کے بعد بہتر ہے کہ پہلے بعد والی سنتیں ادا کریں، پھر پہلے والی سنتیں ادا کریں،خطبہ کے دوران ،یا وقت سے پہلے سنتیں ادا کرنا درست نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"دخول لوقت واعتقاد دخوله.... 

(قوله دخول) خبر المبتدأ (لوقت) أي وقت المكتوبة إن كانت التحريمة لها (واعتقاد دخوله) أو ما يقوم مقام الاعتقاد من غلبة الظن. فلو شرع شاكا فيه لا تجزيه وإن تبين دخوله."

 (‌‌كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج:1، ص:452، ط:سعید)

وفیه أیضا:

"بخلاف سنة الظهر) وكذا الجمعة (فإنه) إن خاف فوت ركعة (يتركها) ويقتدي (ثم يأتي بها) على أنها سنة (في وقته) أي الظهر (قبل شفعه) عند محمد،وبه يفتى جوهرة.

(قوله وبه يفتى) أقول: وعليه المتون، لكن رجح في الفتح تقديم الركعتين. قال في الإمداد: وفي فتاوى العتابي أنه المختار، وفي مبسوط شيخ الإسلام أنه الأصح لحديث عائشة أنه عليه الصلاة والسلام كان إذا فاتته الأربع قبل الظهر يصليهن بعد الركعتين وهو قول أبي حنيفة، وكذا في جامع قاضي خان اهـ."

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب إدراك الفريضة، ج:2، ص:59، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802100038

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں