بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سعودی عرب میں جمعہ کا وقت داخل ہونے کے بعد سنتوں کا وقت نہ ملنے کی بناء پر جمعہ کی سنتیں کب پڑھے


سوال

 میں سعودی عرب  میں رہتا ہوں  ،ادھر جمعہ کا خطبہ ظہر کا وقت داخل ہو نے کے ساتھ شروع ہو جاتاہے اور جمعہ سے پہلے چارسنتوں کےلیے و قفہ نہیں ملتا ،تو ان چار سنتوں کو ہم کیسے ادا کریں ؟

جواب

واضح رہے کہ جمعہ کی نماز کا وقت وہی ہے جو ظہر کا ہے، یعنی زوال کے بعد شروع ہوتا ہے،لہذاصورتِ مسئولہ میں  اگر جمعہ کا وقت داخل ہونے کے بعد خطبہ سے پہلے اتنا وقت نہ ملتا ہو ، جس میں چار سنتیں پڑھی جا سکیں، تو  یہ سنتیں فرض کے بعد ادا کر لی جائیں، فرض کے بعد بہتر ہے کہ پہلے بعد والی سنتیں ادا کریں، پھر پہلے والی سنتیں ادا کریں،خطبہ کے دوران ،یا وقت سے پہلے سنتیں ادا کرنا درست نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"دخول لوقت واعتقاد دخوله۔۔

(دخول) خبر المبتدأ (لوقت) أي وقت المكتوبة إن كانت التحريمة لها (واعتقاد دخوله) أو ما يقوم مقام الاعتقاد من غلبة الظن.فلو شرع شاكا فيه لا تجزيه وإن تبين دخوله."

 (‌‌كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج:1، ص:452، ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"بخلاف سنة الظهر) وكذا الجمعة (فإنه) إن خاف فوت ركعة (يتركها) ويقتدي (ثم يأتي بها) على أنها سنة (في وقته) أي الظهر (قبل شفعه) عند محمد،وبه يفتى جوهرة.

(قوله وبه يفتى) أقول: وعليه المتون، لكن رجح في الفتح تقديم الركعتين. قال في الإمداد: وفي فتاوى العتابي أنه المختار، وفي مبسوط شيخ الإسلام أنه الأصح لحديث عائشة «أنه عليه الصلاة والسلام كان إذا فاتته الأربع قبل الظهر يصليهن بعد الركعتين» وهو قول أبي حنيفة، وكذا في جامع قاضي خان اهـ."

  (‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب إدراك الفريضة، ج:2، ص:59، ط:سعید)

وفیہ أیضاً:

"(إذا خرج الإمام) من الحجرة إن کان وإلا فقیامه للصعود شرح المجمع (فلا صلاة ولا کلام إلی تمامها) قال ابن عابدین : (قوله فلا صلاة) شمل السنة وتحیة المسجد."

(كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:،2، ص:158، ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706102171

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں