بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سعودی عرب میں درآمد شدہ برازیلین چکن اور ایامِ حج میں فراہم کردہ کھانوں کی شرعی حیثیت


سوال

ہم نے سنا ہے کہ سعودی عرب میں برازیلین چکن آتا ہے۔ کیا حکومت کی طرف سے حج کے دوران جو تین وقت کا کھانا دیا جاتا ہے وہ حلال ہوتا ہے؟ اور حج کے پانچ دن جو کھانا معلم کی طرف سے دیا جاتا ہے، کیا وہ بھی حلال ہوتا ہے؟

جواب

  شرعی ضابطہ یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں ملنے والا گوشت حلال ہے، جب تک حرمت کی کسی وجہ کا یقین نہ ہو،محض شک کی بنیاد پر اسے حرام کہنا درست نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں  حکومت یا معلم  کی طرف سے حج کے دوران جو کھانا دیا جاتا ہے وہ حلال ہے۔

مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:

وَعَن عَائِشَة قَالَت: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هُنَا أَقْوَامًا حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِشِرْكٍ يَأْتُونَنَا بِلُحْمَانٍ لَا نَدْرِي أَيَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا أَمْ لَا؟ قَالَ: «اذْكُرُوا أَنْتُم اسمَ اللَّهِ وكلوا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ.

 (مشكوة المصابيح، كتاب الصيد والذبائح، رقم الحدیث: 4069)

ترجمہ: عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، اللہ کے رسول! یہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جو نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں، وہ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ آیا وہ اس پر اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کا نام لو اور کھاؤ۔“

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

4069 - ( وعن عائشة رضي الله عنها ، قالت : قالوا يا رسول الله ) أي : بعض الصحابة ( إن هنا ) أي : في المدينة ، أو غيرها ( أقواما ) : جمع قوم أي : جماعة كثيرين إشارة إلى عموم البلوى المانع من مراعاة الاحتياط والتقوى المحتاج إلى الرجوع للفتوى ( حديث ) : بالتنوين أي : جديد ( عهدهم) : بالرفع على الفاعلية ، وفي نسخة بالإضافة . وقال الطيبي : حديث عهدهم إما جملة اسمية قدم خبرها على اسمها ووقعت صفة ( لأقواما ) ، أو يكون حديث : خبرا ثانيا لأن ، وعهدهم : فاعلا له . ( بشرك ) : متعلق بحديث أي : بكفر ( يأتوننا بلحمان ) : بضم اللام جمع لحم ( لا ندري أيذكرون اسم الله عليها ) أي : على ذوات اللحوم عند ذبحها ( أم لا ؟ قال : اذكروا اسم الله ) : وفي بعض النسخ : اذكروا أنتم اسم الله ( وكلوا ) . قال ابن الملك : ليس معناه أن تسميتكم الآن تنوب عن تسمية المذكي ، بل فيه بيان أن التسمية مستحبة عند الأكل ، وأن ما لم تعرفوا أذكر اسم الله عليه عند ذبحه يصح أكله إذا كان الذابح ممن يصح أكل ذبيحته حملا لحال المسلم على الصلاح.

(مرقاۃ المفاتیح، كتاب الصيد والذبائح، ج:6، ص: 2646، تحت الحدیث: 4069)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"‌رجل ‌اشترى ‌من ‌التاجر ‌شيئًا ‌هل ‌يلزمه ‌السؤال ‌أنه ‌حلال ‌أم ‌حرام؟ قالوا: ينظر إن كان في بلد و زمان كان الغالب فيه هو الحلال في أسواقهم ليس على المشتري أن يسأل أنه حلال أم حرام و يبنى الحكم على الظاهر، و إن كان الغالب هو الحرام أو كان البائع رجلًا يبيع الحلال و الحرام يحتاط و يسأل أنه حلال أم حرام."

(كتاب البيوع، الباب العشرون في البياعات المكروهة والأرباح الفاسدة، ج: 3، ص: 210، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710101778

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں