
ہم سعودیہ میں مقیم ہیں،میرے والدین کے درمیان اس وقت تنازعہ جاری ہے، کیوں کہ سعودی عدالت نے اس وقت نکاح کو فسخ کر دیا ہے تومیں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا شریعت بھی ان وجوہات کی بناپر جن کی بنا پر عدالت نے نکاح کو فسخ کیا ہے نکاح کو فسخ قرار دیتی ہے یا نہیں ؟
تفصیل کچھ یوں ہےکہ میرے والدین شادی کے آغاز سے سعودی عرب میں مقیم ہیں اور ہم ہر ایک سال یا دو سال میں ایک ماہ کے لیے پاکستان آتے ہیں اور میرا صرف ایک بڑابھائی ہے ، میرے والدین کی شادی 26 سال قبل ہوئی تھی، اس وقت سے میرے والد نے میری والدہ کو ذہنی اذیت دی اور میری ماں کو بہت مارا پیٹا اور زبانی گالیاں دیں، اس وقت میری نانی نے میری والدہ سے پوچھا کہ کیا آپ کو خلع چاہیے، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ میں اپنے شوہر کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ میرے والدین کی شادی کے پانچ سال گزرنے کے بعد میری والدہ ذہنی طور پر بیمار ہو گئیں اور میری والدہ نے جب بھی خلع کے لیے انکار کیا۔ اس دوران میرے والد نے میری والدہ کو اس قدر ذہنی اذیت دی کہ انہوں نے کئی بار خود کشی کی کوشش کی اور ایک بار وہ وینٹی لیٹر پر آگئیں۔ اس کے کچھ سالوں بعد ایک بار میرے والد ایک عورت کو اپنے گھر کے کمرے میں لے گئے، لیکن جنسی عمل نہیں کیا اور انہوں نے ہی یہ بات میری ماں کو بتائی۔
میرے والدین کی شادی کے 12 سال بعد میری نانی کا انتقال ہو گیا، میری ماں نے 2019 میں میرے بڑے ماموں سے خلع کے لیے کہا، لیکن انہوں نے خلع کے لیے انکار کر دیا ،کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ اس سے میری اور میرے بھائی کی زندگی متاثر ہو گی، اس کے بعد میری ماں نے فون کے ذریعے دوسرے شخص سے رابطہ رکھنا شروع کر دیا، پھر دو تین سال کا وقت گزرا اور میرے والد پاکستان آئے اور ہمیں معلوم ہوا کہ میرے والد بھی دوسری عورت سے موبائل کے ذریعے بات کر رہے تھے، جب میرے والد پکڑے گئے تو میرے والد نے میری ماں سے معافی مانگی اور پھر کبھی اس عورت سے رابطہ نہیں کیا، لیکن اس وقت میری والدہ دوسرے آدمی کے ساتھ ہمارے گھر سے بھاگ گئی ہیں، ہم نے اپنی والدہ کو ڈھونڈ نا شروع کیا اور تقریبا 8 دن کے بعد ہم نے اپنی والدہ کو ڈھونڈ لیا، اس وقت میرے والد نے میری والدہ کو گالیاں دیں، لیکن میرے والد نے میری ماں کو مارا نہیں، بلکہ انہوں نے میری ماں کو میری نانی کی وفات تک جو نکاح کے تقریباً 12 سال بعد ہوئی تھی تب تک مارا پیٹا اور پھر 2018 تک وقفہ دے دے کر کبھی کبھار مارا پیٹا اور تقریبا 2018 یا2019 سے میری ماں کو مارنا چھوڑ دیا تھا۔
پھر ہم سب سعودی عرب چلے گئے، ہم سب نے امی کو سمجھایا کہ یہ غلط ہے اور ہمارا مذہب بھی اس کے خلاف ہے، چناں چہ وہ سمجھ گئیں، لیکن پھر موبائل کے ذریعے انہوں نے اس شخص سے رابطہ کیا، ہم نے دوبارہ وضاحت کی ، لیکن میری ماں نے دوبارہ رابطہ کیا، اور اس آدمی نے ہر بار میری ماں کو میرے والد سے خلع کے لیے جوڑ توڑ کی کوشش کی اور ایک وقت میں اس شخص نے مجھے میری ماں کے ساتھ لیٹی ہوئی تصویر بھیجی جس میں میری ماں نے کپڑے پہنے ہوئے تھے تو میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ کیا آپ نے اس شخص کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا ہے، لیکن میری ماں نے انکار کر دیا، میری والدہ دوبارہ اس شخص کے ساتھ 20-4-2025 کو بھاگ گئیں جب ہم سعودی عرب میں تھے ۔اور8- 11-1446ھ کو میرے والد کے خلاف فسخِ نکاح کا مقدمہ درج کرایا۔ میری والدہ نے میرے والد پر تین الزامات لگائے:
1- وہ مجھے گالی دیتا ہے۔ 2- وہ مجھے مارتا ہے۔ 3 - وہ مجھے کہتا ہے کہ میں نے دوسرے شخص کے ساتھ جنسی تعلق کیا ہے ۔ ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے میری ماں کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا، لیکن پھر بھی 20-11-1446ھ میں سعودی عرب کی عدالت میں نکاح کو بغیر کسی عوض کے فسخ کر دیا گیا؛کیوں کہ ان کا کہنا تھا کہ اس مرد کے ساتھ میری ماں کا مستقبل میں مسئلہ ہو سکتا ہے اور اگر شوہر کوئی شکایت کرنا چاہے تو 30 دن کے اندر کرسکتا ہے۔ 30 دن کی مدت 20-11-1446ھ کو دی گئی تھی۔ عدالت میں ان الزامات میں سے کسی کا کوئی ثبوت ماں نے پیش نہیں کیا، لیکن حقیقت میں 2 الزامات سچے تھے، پہلا میرے والد نے میری ماں کو گندی گالیاں دی۔ اور دوسرا میرے والد نے میری ماں کو کہا کہ اس نے دوسرے شخص کے ساتھ جنسی تعلق رکھا ہے، اور ان تمام سالوں کے دوران میرے والد میری ماں کو ذہنی اذیت بھی دے رہے تھے ،لیکن ایک یہ الزام غلط تھا کہ میرے والد نے اس وقت میری ماں کو مارا پیٹا۔
اس کے بعد میرے والد نے عدالت میں شکایت درج کی کہ عدالت کی جانب سے دیا جانے والا فیصلہ قانون وشریعت دونوں کے خلاف ہے؛کیوں کہ اس میں مدعیہ کے حق میں بغیر گواہوں کے غیر شرعی طریقے پر فیصلہ دیا گیا ہے۔
میں آخر میں یہی کہوں گا کہ میرے والد میری ماں کو بہت گندی گالیاں دیتے تھے اور ذہنی اذیت بھی دیتے تھے، لیکن وہ میری ماں کو فی الحال مارتے نہیں تھے اور وہ اپنے ماضی کے مقابلے میں گالیاں اور ذہنی اذیت دینا بھی کم کر رہے تھے اور وہ پہلے سے اچھے بھی ہو رہے تھے، جس پر میری والدہ نے بھی جب وہ ہمارے ساتھ تھیں رضا مندی دکھائی تھی ۔ میرا سوال یہ ہے کہ شریعت کے مطابق نکاح کو تحلیل کرنے کے لیے یہ وجوہات کافی ہیں یا نہیں ؟ اگر نہیں تو جو حکم سعودی عرب کے قاضی مفتی کے ذریعے دیا گیا ہے، اس کی کتنی اہمیت ہے شریعت میں؟
عدالت کو بلاکسی شرعی وجہ اور تنسیخ نکاح کی شرائط کو ملحوظ رکھے بغیر نکاح کو فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہے ، اگر عدالت بلاکسی وجہ کے یا شرائط کا لحاظ کیے بغیر کسی نکاحِ صحیح کو فسخ کرتی ہے تو ایسا نکاح عدالتی فیصلے سے ختم نہیں ہوتا، نہ ہی ایسی عورت کے لیے کسی دوسری جگہ نکاح کرنا جائز ہوتا ہے، بلکہ سابقہ نکاح ہی برقرار رہتا ہے،البتہ بعض صورتوں میں عدالتی فیصلہ کو تنسیخِ نکاح قرار دیا جاتا ہے اور اس میں شوہر کی حاضری کے بغیر ہی عورت کے دعویٰ پر نکاح فسخ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس قسم کے عدالتی فیصلے کو تنسیخِ نکاح قرار دینے کے لیے چند شرائط کا پایا جانا ضروری ہے اور وہ یہ کہ یا تو شوہر نامرد ہو، یا مجنون ہو، یا مفقود (لاپتا ہو) ہو یا متعنت (ظالم) ہو کہ بیوی کا نان نفقہ نہ دیتا ہو اور ظلم کرتا ہو،پھر عورت اپنے اس دعوی کو شرعی گواہوں کے ذریعے عدالت کے سامنے ثابت بھی کرے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عدالتی فیصلہ کے تمام دستاویزات بغور پڑھنے کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سعودی عدالت میں عورت نے فسخِ نکاح کی درخواست دائر کی اور بنیادی طور پر تین وجوہات عدالت کے سامنے رکھیں:1- وہ مجھے گالی دیتا ہے۔ 2- وہ مجھے مارتا ہے۔ 3 - وہ مجھے کہتا ہے کہ میں نے دوسرے شخص کے ساتھ جنسی تعلق کیا ہے اور عورت گواہوں کے ذریعے اپنے اس دعوی کو ثابت کرنے سے قاصر رہی،اس کے بعد عدالت نے دو شخصوں کو مقرر کیا کہ وہ زوجین کے بیان سن کر ان کے درمیان صلح کرائیں،انہوں نے عورت کے بیان سن کر عدالت کے سامنے یہ رپورٹ پیش کی کہ زوجین آئندہ کے اعتبار سے مزید ساتھ نہیں رہ سکتے اور ان کا آپس میں نباہ مشکل ہے جس پر عدالت نے فسخِ نکاح کا فیصلہ سنادیااور فیصلے پر اپیل دائر کرنے کی مدت 30 دن مقرر کی کہ اس مدت میں فیصلہ پر کوئی اعتراض یا اشکال کیا جاسکتا ہے، اس کے بعد سائل کے والد نے عدالتی فیصلے پر ایک درخواست دائر کی، جس میں بنیادی طور پر یہ بات ذکر کی کہ یہ فیصلہ قانون و شریعت دونوں کے خلاف ہے،لیکن اس کے باوجود عدالت نے اپنی جانب سے دیئے گئے فیصلے کو برقرار رکھا،لہذا مذکورہ صورت میں نکاح فسخ نہیں ہوا،اور سائل کے والدین کا نکاح بدستور برقرار ہے،اگرچہ عدالتی اعتبار سے اس کو فسخ قرار دے دیا گیا ہو،تاہم اگر سائل کی والدہ سائل کےوالد کے ساتھ رہنے پر رضامندنہیں ہیں اور نہ اس رشتہ کو برقرار رکھنے پر رضامند ہیں تو سائل کے والد بلاوجہ اپنی اہلیہ کولٹکا کرنہ رکھیں، بلکہ انہیں طلاق یاخلع دے کر آزاد کردیں ؛ تاکہ وہ عدت مکمل کرکے دوسری جگہ نکاح کرسکیں۔
فتاویٰ شامی میں ہے :
"وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول."
(کتاب الطلاق، باب الخلع، فائدة في شرط قبول الخلع وألفاظه، ج :3، ص:441، ط:سعید)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد."
(کتاب الطلاق، باب الخلع،ج:6، ص:173، ط:دار المعرفة)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية."
(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:1، ص:488، ط:رشيدية)
حیلہ ناجزہ میں ہے:
"زوجہ متعنت کی تفریق کی صورت اور اس کی شرائط :اور صورت تفریق کی یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ قاضی اسلام یا مسلمان حاکم اور ان کے نہ ہونے کی صورت میں جماعت المسلمین کے سامنے پیش کرے اور جس کے پاس پیش ہو وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ سے تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعوی صحیح ثابت ہوکہ باوجود وسعت کے خرچ نہیں دیتا تو اس کے خاوند سے کہا جائے کہ اپنی عورت کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو ،ورنہ ہم تفریق کر دیں گے ،اس کے بعد بھی اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل نہ کرے تو قاضی یا شرعا جو اس کے قائم مقام ہو طلاق واقع کردے ۔"
(حکم زوجہ متعنت، ص: 72،ط :دار الاشاعت )
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144612100428
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن