بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سودا طے پانے کے بعد قبضے سے پہلے دکان کا جل کر راکھ ہو جانا


سوال

میں نے سینٹر پلازہ میں ایک دکان خریدی، عوض میں گل پلازہ والی دکان اور کچھ نقدی طے پائی۔ ہفتہ کے روز معاملات مکمل ہو گئے، نقد رقم ادا کر دی گئی، اور یہ طے ہوا کہ پیر کے روز سینٹر پلازہ والی دکان کے کاغذات اور فائلیں میرے حوالے کی جائیں گی، جب کہ گل پلازہ والی دکان کے کاغذات اور فائلیں میں فریقِ ثانی کے حوالہ کروں گا۔ یوں یہ معاملہ طے پا گیا۔

لیکن ہفتہ کے دن گل پلازہ میں آگ لگنے کی وجہ سے اتوار کے روز گل پلازہ کی تمام دکانیں جل کر راکھ ہو گئیں اور عمارت گر گئی۔

اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورتِ حال میں گل پلازہ والی دکان کا نقصان کس کا شمار ہو گا؟نیز کسی درمیانی صورت کی بھی گنجائش نکل سکتی ہے یا نہیں؟

فریق ثانی سے یہ بھی طے ہوا تھا کہ آئندہ گل پلازہ والی دکان کا کرایہ آپ لیں گے، لیکن کرایہ داروں سے اس حوالے سے بات طے نہیں ہو سکی تھی۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل چوں کہ گل پلازہ والی دکان کی فائلیں فریقِ ثانی کے حوالے نہیں کر سکا تھا، نیز کرایہ دار سے بھی یہ طے نہیں پایا تھا کہ آئندہ دکان کا کرایہ فریقِ ثانی کو ادا کیا جائے گا، اس لیے گل پلازہ والی دکان پر فریقِ ثانی کا قبضہ ثابت نہیں ہوا۔ اور جب قبضہ سے پہلے کوئی چیز ہلاک ہو جائے تو سودا ختم ہو جاتا ہے اور نقصان اصل مالک کے ذمے شمار ہوتا ہے۔

لہٰذا مذکورہ صورت میں یہ نقصان سائل ہی کا شمار ہو گا۔ البتہ اگر فریقِ ثانی سائل کے ساتھ کچھ نقصان برداشت کرنے پر آمادہ ہو جائے تو یہ باعثِ اجر و ثواب ہو گا۔

د رر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"المبيع إذا هلك في يد البائع قبل أن يقبضه المشتري يكون من مال البائع ولا شيء على المشتري. وكذلك إذا تلف المبيع في يد من سلم إليه المبيع باتفاق الطرفين ليحفظه إلى أداء الثمن فلا يترتب شيء على المشتري بل ينفسخ البيع ويعود الضرر والخسارة على البائع سواء أكان المبيع منقولا أم عقارا لأن المبيع ما لم يسلم إلى المشتري فهو في ضمان البائع سواء اتفق الطرفان على أن يعود الخسران في ذلك على المشتري أم لا وسواء أكان البيع باتا أم مشترطا فيه الخيار للبائع أو للمشتري".

(البيوع، باب خامس، الفصل الخامس في بيان المواد المترتبة على هلاك المبيع، ج:1، ص:275، ط:دار الجیل)

وفیه أیضاً:

"إذا تلف أحد البدلين قبل التسليم في بيع المقايضة ينفسخ البيع فإذا كان البدل الآخر في يد القابض يجب رده عينا وإذا استهلك يجب رده بدلا".

(البيوع، باب خامس، الفصل الخامس في بيان المواد المترتبة على هلاك المبيع، ج:1، ص:276، ط:دار الجیل)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي الفتح والدر المنتقى: لو هلك المبيع بفعل البائع أو بفعل المبيع أو بأمر سماوي، بطل البيع ويرجع بالثمن لو مقبوضا."

(کتاب البیوع، ج:4، ص:560، ط:سعید)

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

"لو ‌هلك ‌المبيع ‌قبل ‌القبض في يد البائع لا يجب على البائع شيء ويسقط حقه من الثمن."

(كتاب الكفالة، ج:1، ص: 314، ط:المطبعة الخيرية)

مرشد الحیران الی معرفۃ احوال الانسان میں ہے:

"إذا هلك المبيع عند البائع بفعله أو بفعل المبيع أو بآفة سماوية بطل البيع ويرجع المشتري على البائع بالثمن إن كان مدفوعاً."

(الكتاب الثاني، كتاب البيع، ص: 59، ط: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101466

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں