
1۔ساتویں دن عقیقہ کرنا مستحب ہے۔اس استحباب کو حاصل کرنے کے لئے کیا ایسا کیا جا سکتا ہے کہ: چھٹا دن گزر جانے کے بعد ساتویں رات شروع ہوتے ہی مغرب کے بعد جانور کو ذبح کر دیا جائے؟کیا اس سے ساتویں دن کی فضیلت حاصل ہو جائے گی یا نہیں؟
2۔ساتویں دن کی ابتداء کب سے ہوگی؟ مغرب کے بعد سے! جیسا کہ اسلامی اعتبار سے پہلے رات آتی ہے پھر دن۔ کیا ساتویں رات ساتویں دن کی فضیلت میں داخل ہوگی یا نہیں؟
2،1۔عقیقہ میں جو ساتویں دن عقیقہ کرنے کا تذکرہ آتا ہے اس میں ساتویں رات بھی داخل ہے؛لہذا اگر کوئی ساتویں رات شروع ہوتے ہی مغرب کے بعد عقیقہ کا جانور ذبح کرلے تو اس سے عقیقہ ہوجائے گا،البتہ بہتر یہ ہے کہ:ساتویں دن سورج طلوع ہونے کے بعد عقیقہ کیا جائے۔
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے:
"وفي فصول العلامي المسمى بالكراهية والاستحسان في الفصل 36............ثم قال ورأيت في شرح العباب للعلامة ابن حجر الشافعي وهو كتاب معتبر عندهم ما ملخصه باختصار واقتصار على بعض المقصود مع التصرف في بعض العبارة وذكرته هنا؛ لأنه من فضائل الأعمال قال ووقتها بعد تمام الولادة إلى البلوغ فلا يجزئ قبلها وذبحها في اليوم السابع يسن والأولى فعلها صدر النهار عند طلوع الشمس بعد وقت الكراهة للتبرك بالبكور".
(کتاب الذبائح، العقیقة، ج:2، ص:213، ط:دار المعرفة)
بدایۃ المجتہد میں ہے:
"وأما وقت هذا النسك فإن جمهور العلماء على أنه يوم سابع المولود،...........وقال ابن القاسم في "العتبية": إن عق ليلا لم يجزه. واختلف أصحاب مالك في مبدأ وقت الإجزاء، فقيل: وقت الضحايا، أعني: ضحى. وقيل: بعد الفجر، قياسا على قول مالك في الهدايا. ولا شك أن من أجاز الضحايا ليلا أجاز هذه ليلا".
(کتاب العقیقة، ج:3، ص:15، ط:دار الحدیث،القاھرۃ)
الفقہ الاسلامی وادلتہ للزحیلی میں ہے:
"ويندب الذبح ضحى إلى الزوال لا ليلاً".
(الباب الثامن الأضحیة والعقیقة، الفصل الثانی العقیقة وأحکامھا، ج: 4، ص:2747، ط:دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144701101155
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن