
1: کسی میت کو 70 ہزار مرتبہ کلمہ طیبہ پڑھ کر ایصال ثواب کرنے سے اس کی مغفرت ہو سکتی ہے؟ یا آدمی 70 ہزار مرتبہ کلمہ طیبہ پڑھے اس نیت سے کہ اللہ تعالی میری مغفرت کر دے کیا یہ درست ہے؟
2: قبر پر جا کر ایصال ثواب کرنے میں یا کسی اور جگہ سے ایصال ثواب کرنے میں کوئی فرق ہے؟ مثلاً قبر پر جا کر ایصال ثواب کرنے میں زیادہ ثواب اور کسی اور جگہ ایصال ثواب کرنے میں اس کے برعکس ہو؟
3: جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد قبرستان جانے کی کوئی خاص فضیلت ہے مثلاً اگر کوئی اپنی میت کے قبر کے پاؤں کی طرف بیٹھ کر ایصال ثواب کرے تو میت کو محسوس کرایا جاتا ہے کہ فلاں ایصال ثواب کر رہا ہے ، کیا یہ درست ہے؟
1: کلمہ طیّبہ افضل ترین کلمات میں سے ہے جس کے عمومی فضائل میں سے ایک فضیلت یہ ہے کہ کلمہ طیّبہ پڑھنے والے پر جہنم کی آگ حرام ہے، جیسے کہ حدیث شریف میں ہے:
"قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ."
(صحیح البخاری، کتاب الصلوۃ، باب المساجد فی البیوت، رقم الحدیث:425، 1/ 93، ط:دارطوق النجاۃ)
ترجمہ : ”رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ : اللہ تعالی نے اس شخص پر آگ حرام کردی ہے جو"لا اله الا الله" کہہ دے اور اس سے اللہ کی رضا مندی اسے مقصود ہو۔“
لہذا، جو شخص کلمہ طیبہ کو کثرت سے پڑھے گا، تو یہ یقیناً ایک قابلِ اجر و ثواب عمل ہے، اور اگر وہ اس کا ثواب مرحومین کو بخش دے یا اپنے لیے ذخیرہ کرے تو امید ہے کہ یہ عمل ان کی مغفرت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
تاہم کلمہ طیبہ کو ستر ہزار مرتبہ پڑھ کے مرحوم کے لیے ايصال ثواب کرنے سے مغفرت کا ہوجانا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی صحیح ، حسن یا ضعیف سند سے ثابت نہیں، لہذا اس عمل کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، تاہم بزرگوں سے مذکورہ عمل کا مفید ہونا، بطريقِ کشف منقول ہے، جس کی وجہ سے فقہاء کرام نے اس کی اجازت دی ہے،
ملا علی قاری رحمہ اللہ نے"مرقاة المفاتیح"میں ابن عربی رحمہ اللہ کی "الفتوحات المکیة" سے ایک روایت نقل کی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ستر ہزار مرتبہ کلمہ طیبہ کا ورد کرنا جہنم سے نجات کا سبب بن سکتا ہے،لیکن اس کی کوئی سند ذکر نہیں کی، اور اس کی صحت کے لیے خود ابن عربی رحمہ اللہ کےپاس موجود کسی نوجوان کے کشف کا تذکرہ کیا ہے۔
"قال الشيخ محيي الدين بن العربي: أنه بلغني «عن النبي صلى الله عليه وسلم أن من قال: لا إله إلا الله سبعين ألفا غفر له، ومن قيل له غفر له أيضا، فكنت ذكرت التهليلة بالعدد المروي من غير أن أنوي لأحد بالخصوص، بل على الوجه الإجمالي، فحضرت طعاما مع بعض الأصحاب، وفيهم شاب مشهور بالكشف، فإذا هو في أثناء الأكل أظهر البكاء فسألته عن السبب فقال: أرى أمي في العذاب فوهبت في باطني ثواب التهليلة المذكورة لها فضحك وقال: إني أراها الآن في حسن المآب، قال الشيخ: فعرفت صحة الحديث بصحة كشفه، وصحة كشفه بصحة الحديث.".
(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الصلاة، 3/ 879، ط: دار الفكر)
مجموعة رسائل ابن عابدين میں ہے:
"و لاينبغي للإنسان أن يغفل عن العَتَاقة المعروفة بين الناس ، وهي قراءة (قل هو اللّٰه أحد) فقد ورد فيها أحاديثُ كثيرة ... ويحمل هذا على من اتفق له قراءة هذا العدد في عمره كله أو قرئ له بنية خالصة، والذي عليه أهل الشريعة والصوفية: أن المراد من أمثال تلك الأحاديث ما يعم الاستنابة والمباشرة، وقد علمنا ذلك من عمل الفريقين بحديث الاستخارة ...وكذلك عملُ الناس على قول ( لا إله إلا الله ) سبعين ألفًا، واستحسنه العلماء ، ويأتي ما ذكره الشيخ اليافعي والسَّنوسي مما يقويه."
( الرسالة الثامنة: منة الجليل لبيان إسقاط ما على الذمة من كثير وقليل، 1/ 226-229،ط: رشيدية كوئته، باكستان)
2: ایصالِ ثواب قبرستان جاکر یا غائبانہ طور پر دونوں طرح جائز ہے اور اس کا ثواب مردے کو پہنچتا ہے، ایصالِ ثواب کا کوئی مخصوص طریقہ یا خاص طور پر قبر پر جاکر پڑھنے کا التزام بھی ثابت نہیں ہے، کسی بھی جگہ سے پڑھ کر ایصالِ ثواب کیا جاسکتا ہے، اس حوالے سے قبر کے قریب یا دور کسی مقام کی افضلیت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
3:جمعہ کے دن عصر کے بعد قبرستان جانا آپ علیہ الصلاة والسلام سے ثابت نہیں، البتہ جمعہ کے دن والدین کی قبروں پر حاضری کی ترغیب بعض احادیث میں موجود ہیں، لیکن ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بارے میں تمام احادیث ضعیف ہیں، بہرحال اس سے من جملہ جمعہ کے دن والدین کی قبور پر جانے کا استحباب ثابت ہوجاتا ہے۔ اور فقہاءِ کرام نے عبرت اور آخرت کی یاد کے لیے جمعہ کے دن عام قبرستان جانے کو بھی افضل قرار دیا ہے۔
نیز اپنے والدین یا اعزہ کی قبر پر جاکر ان کو سلام کرنے اور ان کے لیے ایصالِ ثواب کرنے سے ان کو فائدہ پہنچتا ہے، اور اس سے وہ خوش بھی ہوتے ہیں اور وہ سلام کا جواب بھی دیتے ہیں، اور زیارت کے لیے آنے والے کو اگر وہ دنیا میں پہچانتے ہوں تو قبر پر آنے پر بھی اس کو پہچانتے ہیں، اور انسیت حاصل کرتے ہیں، اس لیے اپنے اعزّہ کی قبر اور قبرستان میں جہاں عبرت اور آخرت کی یاد تازہ کرنے کے لیے جانا چاہیے، اسی طرح ان کے ایصالِ ثواب اور رشتہ داری کا حق ادا کرنے کے لیے بھی جانا چاہیے ۔
سنن بیہقی میں ہے:
"(عن) محمد بن النعمان : يرفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : من زار قبر أبويه أو إحداهما في كل جمعة غفر له و كتب برًّا."
( أخرجه البيهقي في شعب الإيمان في فصل في حفظ حق الوالدين بعد موتهما (6/ 201) برقم (7901)،ط. دار الكتب العلمية–بيروت، الطبعة الأولى: 1410هـ)
"ترجمہ: جو ہر جمعہ کو والدین یا ان میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کرے گا اس کی بخشش کردی جائے گی، اور وہ والدین کا فرماں بردار لکھا جائے گا۔"
مرقاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح میں ہے:
" (وعن محمد بن النعمان) ......(أو أحدهما) عطف على أبويه أي أو قبر أحدهما. (في كل جمعة) أي في كل يوم جمعة أو في كل أسبوع، ويؤيد الأول رواية ابن عدي من حديث أبي بكر بلفظ: من زار قبر والديه أو أحدهما يوم الجمعة. (غفر له) ذنوبه الصغائر. (وكتب براً) بفتح الباء أي كان باراً بهما غير عاق بتضييع حقهما، فعدل منه إلى قوله "كتب" لمزيد الإثبات، وأنه من الراسخين ثبت في ديوان الأبرار، ومنه قوله تعالى: {فاكتبنا مع الشاهدين} [آل عمران: 53] .
وفيه استحباب زيارة قبر الوالدين في يوم الجمعة لكن الحديث مرسل، وكل ما يروي في ذلك ضعيف. (رواه البيهقي في شعب الإيمان مرسلاً) تقدم معنى المرسل، ولم أقف على إسناد هذا الحديث، فلا أدري كيف حاله. وفي الباب عن أبي بكر عند ابن عدي بإسناد ضعيف، وعن أبي هريرة عند الحكيم الترمذي، وإسناده أيضاً ضعيف، قاله العزيزي في شرح الجامع الصغير. وحديث أبي هريرة عزاه الهيثمي في مجمع الزوائد (ج4ص59) إلى الطبراني في الأوسط والصغير وقال: وفيه عبد الكريم أبوأمية وهو ضعيف-انتهى. وروى الحاكم (ج1ص377) والبيهقي (ج3ص78) من حديث الحسين، أن فاطمة كانت تزور قبر عمها حمزة كل جمعة. قال الحاكم: رواته ثقات، وتعقبه الذهبي فقال: هذا منكر جداً، وسليمان بن داود ضعيف."
(مرقاة المفاتيح: باب زيارة القبور، 5/ 517-518) تحت الرقم (1783)، ط. إدارة البحوث العلمية والدعوة والإفتاء، بنارس الهند)
فتاوی شامی میں ہے:
"قوله ( وبزيارة القبور ) أي: لا بأس بها بل تندب كما في البحر عن المجتبى فكان ينبغي التصريح به للأمر بها في الحديث المذكور كما في الإمداد، وتزار في كل أسبوع كما في مختارات النوازل ، قال في شرح لباب المناسك: إلا أن الأفضل يوم الجمعة والسبت والاثنين والخميس فقد قال محمد بن واسع الموتى يعلمون بزوارهم يوم الجمعة ويوما قبله ويوما بعده فتحصل أن يوم الجمعة أفضل اه."
(كتاب الصلاة، باب صلاة الجنائز، مطلب في زيارة القبور ، 2/ 242، ،ط. سعيد)
شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور ميں ہے:
" أخرج إبن أبي الدنيا في كتاب القبور عن عائشة رضي الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما من رجل يزور قبر أخيه ويجلس عنده إلا إستأنس ورد عليه حتى يقوم. وأخرج أيضا والبيهقي في الشعب عن أبي هريرة رضي الله عنه قال إذا مر الرجل بقبر يعرفه فسلم عليه رد عليه السلام وعرفه وإذا مر بقبر لا يعرفه فسلم عليه رد عليه السلام. - وأخرج إبن عبد البر في الإستذكار والتمهيد عن إبن عباس رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما من أحد يمر بقبر أخيه المؤمن كان يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام صححه عبد الحق. وأخرج إبن أبي الدنيا في القبور والصابوني في المائتين عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ما من عبد يمر على قبر رجل يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام. وأخرج العقيلي عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال أبو رزين يا رسول الله إن طريقي على الموتى فهل من كلام أتكلم به إذا مررت عليهم قال قل السلام عليكم يا أهل القبور من المسلمين والمؤمنين أنتم لنا سلف ونحن لكم تبع وإنا إن شاء الله بكم لاحقون قال أبو رزين يا رسول الله يسمعون قال يسمعون ولكن لا يستطيون أن يجيبوا قال يا أبا رزين ألا ترضى أن يرد عليك بعددهم من الملائكة.
قوله: لا يستطيعون أن يجيبوا أي جوابا يسمعه الجن والإنس فهم يردون حيث لا يسمع."
(باب زيارة القبور وعلم الموتى بزوارهم ورؤيتهم لهم، ص201، ط: دار المعرفة، لبنان)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144702101685
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن