بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سسرال کے دیے گئے زیورات کا حکم اور بچہ کی پیدائش کے اخراجات کس پر ہوگاَ؟


سوال

میرے بھانجے نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، اور مطلقہ کو لڑکے والوں کے کہنے پر لڑکی والے اپنے گھر لے گئے۔شادی کی رات جب لڑکی رخصت ہو کر آئی تو گھر والوں کی موجودگی میں لڑکے کی والدہ اور بہن  نے اسے سونے کے سیٹ دیے تھے (ایک سیٹ پہنایا تھا اور ایک الگ دے دیا تھا،تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے پہنتی رہے، لیکن وہ نہیں پہنتی تھی)۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا لڑکا ان سیٹوں کی واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے؟جب کہ جس وقت مذکورہ زیورات دیے گئے تھےاس وقت متعین کوئی نیت نہیں تھی،بس بہو کی آمد کی خوشی میں دیے تھے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ مطلقہ عورت تین ماہ کی حاملہ ہے۔ اس صورت میں شوہر پر مطلقہ کے کون کون سے اخراجات اور ذمہ داریاں واجب ہیں؟ نیز یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ حاملہ عورت کو ہسپتال لانا لے جانا، ڈاکٹر کی فیس، ٹیسٹ، ادویات اور ڈیلیوری تک کے تمام اخراجات پورے کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

1۔   صورت مسئولہ میں جب زیورات دیتے وقت کوئی نیت نہیں کی تھی تو ایسی  صورت میں یہ زیورات لڑکی کی ملکیت ہوں گے،ان کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔

2۔طلاق ہوجانے کے بعد مطلقہ بیوی کو  عدت مکمل ہونے تک رہائش فراہم کرنا اور اس کےنان ونفقہ کا انتظام کرنا شوہر کی شرعی ذمہ داریوں میں داخل ہے، لیکن اگر مطلقہ خاتون شوہر کی مرضی سےاپنےمیکےمیں عدت گزار لے تو یہ بھی جائز ہے اور اس صورت میں عدت  کے نفقہ کی ذمہ داری شوہر ہی کی ہوتی ہے،لہذامسئولہ صورت میں لڑکے والوں کے کہنےپر مطلقہ خاتون کےگھر والے اسے اپنے ساتھ لے کرگیے ہیں، تو مطلقہ خاتون عدت (بچے کی پیدائش تک) کےنان ونفقہ کی حق دار ہوگی۔

نیز دوران حمل ضروری علاج ومعالجےاور بچےکی پیدائش کے وقت کے جملہ اخراجات بھی  شوہر پر ہی ہوں گے ۔بہتر ہے کہ ان تمام امور میں باہمی اصلاح و مشورےسے ترتیب بنالی جائے۔

فتاوی شامی ہے :

"كل ‌أحد ‌يعلم ‌الجهاز ‌للمرأة ‌إذا ‌طلقها ‌تأخذه ‌كله، وإذا ماتت يورث عنها،"

(‌‌‌‌كتاب النكاح، باب المهر،‌‌فرع لو زفت إليه بلا جهاز يليق به، ج:3، ص: 158، ط:سعید)

وفیہ أيضا:

(قوله بلا جهاز يليق به) الضمير في عبارة البحر عن المبتغى عائد إلى ما بعثه الزوج إلى الأب من الدراهم والدنانير؛ ثم قال: والمعتبر ما يتخذ للزوج لا ما يتخذ لها. اهـ وقدمنا في باب المهر أن هذا المبعوث إلى الأب يسمى في عرف الأعاجم بالدستيمان وأنه في الكافي وغيره فسره بالمهر المعجل، وأن غيره فصل، وقال: إن أدرج في العقد فهو المهر المعجل حتى ملكت المرأة منع نفسها لاستيفائه فلا يملك الزوج طلب الجهاز؛ لأن الشيء لا يقابله عوضان وإن لم يدرج فيه ولم يعقد عليه فهو كالهبة بشرط العوض، فله طلب الجهاز على قدر العرف والعادة أو طلب الدستيمان، وبذلك يحصل التوفيق بين القولين

(‌‌كتاب الطلاق،‌‌باب النفقة،مطلب فيما لو زفت إليه بلا جهاز،ج:3، ص:585، ط:سعيد)

وفیہ أیضاً:

"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو ينهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج  لأقرب موضع إليه."

(کتاب الطلاق،ج:3،ص:536،  ط:سعید)

وفیہ أيضاّ:

"وفيه أجرة القابلة على من استأجرها من زوجة وزوج ولو جاءت بلا استئجار، قيل: عليه، و قيل: عليها.

(قوله: قيل: عليه إلخ) عبارة البحر عن الخلاصة: فلقائل أن يقول: عليه؛ لأنه مؤنة الجماع، ولقائل أن يقول: عليها كأجرة الطبيب اهـ وكذا ذكر غيره، ومقتضاه أنه قياس ذو وجهين لم يجزم أحد من المشايخ بأحدهما خلاف ما يفهمه كلام الشارح، ويظهر لي ترجيح الأول؛ لأن نفع القابلة معظمه يعود إلى الولد فيكون على أبيه تأمل."

(باب النفقة، ج:3، ص:580/579، ط:دار الفكربيروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے: 

"وإذا ‌بعث ‌الزوج ‌إلى ‌أهل ‌زوجته ‌أشياء ‌عند ‌زفافها ‌منها ‌ديباج ‌فلما ‌زفت ‌إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية."

 (كتاب النكاح،الفصل السادس عشر في جهاز البنت،ج:1، ص: 327، ط:دار الفكر بيروت)

فقط وألله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710101544

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں