بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 محرم 1448ھ 09 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

ساس کو دیے گئے مشروط حکم کے نہ سننے کی صورت میں بیوی کی طلاق کا حکم


سوال

میری بیوی اپنے میکے گئی ہوئی تھی،میری اپنی ساس کے ساتھ فون پر بات ہو رہی تھی،میں نے اپنی ساس سے کہا کہ” میری بیوی سے میری بات   کرواؤ، ورنہ اس کو طلاق ہے،طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے“۔  ساس کا کہنا ہے کہ میں نے اس کی یہ (طلاق والی بات ) سننے سے پہلے ہی فون نیچے رکھ دیا تھا، اس کی یہ بات میں نےسنی ہی نہیں۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں ہوئی؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  سائل نے طلاق کو  شرط (بیوی سے بات کروانے) پر معلق کیا تھا اور وہ کلام سائل کی ساس (جو کہ اس شرط کی مخاطب تھیں) نے اگر واقعتاً  نہیں سنا،تو سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة.

(قوله طلقت بوصول الكتاب) أي إليها ولا يحتاج إلى النية في المستبين المرسوم، ولا يصدق في القضاء أنه عنى تجربة الخط بحر، ومفهومه أنه يصدق ديانة في المرسوم رحمتي. ولو وصل إلى أبيها فمزقه ولم يدفعه إليها، فإنه كان متصرفا في جميع أمورها فوصل إليه في بلدها وقع، وإن لم يكن كذلك فلا ما لم يصل إليها. وإن أخبرها بوصوله إليه ودفعه إليها ممزقا، وإن أمكن فهمه وقراءته وقع وإلا فلا ط عن الهندية."

(كتاب الطلاق، مطلب في الطلاق بالكتابة، ج:3، ص:246، ط:سعيد)

المبسوط للسرخسي میں ہے:

"وإن حلف أن لا تخرج إلا بإذنه، فأذن لها من حيث لا تسمع، لم يكن إذنا في قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى -: هو إذن؛ لأن الإذن فعل الأذان يتم به كالرضا، ولو حلف أن لا تخرج إلا برضاه فرضي بذلك، ولم تسمع فخرجت لم يحنث، فهذا مثله وأبو حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى قالا: الإذن إما أن يكون مشتقا من الوقوع في الإذن، وذلك لا يحصل إلا بالسماع، أو يكون مشتقا من الأذان وهو الإعلام. قال الله تعالى {: وأذان من الله ورسوله} [التوبة: 3]. وذلك لا يحصل إلا بالسماع، بخلاف الرضا فإنه بالقلب، يكون توضيحه: أن مقصوده من هذا أن لا تتجاسر بالخروج قبل أن تستأذنه، وهذا المقصود لا يحصل إذا لم تسمع بإذنه، فكان وجوده كعدمه."

(كتاب الايمان، باب خروج، ج:8، ص174، ط:دار المعرفة)

المحيط البرهاني میں ہے:

"إذا قال لها: إن خرجت من هذه الدّار من غير إذني فأنتِ طالق، فأذن لها بالعربية فخرجت تطلق؛ لأنَّ العلم شرط تحقق الإذن، ولم يوجد. ونظير هذا ما لو أذن لها وهي نائمة أو غائبة، هكذا ذكر في «النوازل» وفي «أيمان القدوري» إذا أذن لها وهي نائمة فهو إذن."

وفي أيمان «الأصل» : إذا أذن لها من حيث لا تسمع لم يكن إذناً، إن خرجت بعد ذلك طلقت في قول أبي حنيفة ومحمّد، وقال أبو يوسف رحمهما الله: هو إذن، ولو خرجت بعد ذلك لم تطلق، أبو يوسف يقول: الإذن يقوم بالإذن وحده وقد وجد، فهو بمنزلة ما لو أذن لها وهي نائمة، وهما قالا: الإذن مشتق من الأذان، وهو الإعلام، ومعنى الإعلام لا يحصل إلا بوصول الكلام إلى سمعها، بخلاف ما إذا أذن لها وهي نائمة؛ لأنَّ هناك وصل الكلام إلى سمعها إلا أنّه لم يحصل لها لمانع، فهو بمنزلة ما لو أذن لها وهي عاقلة، وحكي عن أبي شجاع: أنّه لا خلاف في هذه المسألة، وإنّما الخلاف في الأمر، إلا أنّ أبا سليمان حكى الخلاف في الإذن.

 (كتاب الطلاق، الفصل السابع، ج:3، ص:368، ط:دار الكتب العلمية)

کفایت المفتی میں ہے:

”(سوال) ایک شخص کی زوجہ کانپور میں اپنی والدہ کے ہاں مقیم تھی اس نے ایک خط لکھ کر اس کے نام روانہ کیا کہ” تم اس خط کو دیکھتے ہی فورا اٹاوہ چلی آؤ اگر کسی طرح نہ آسکو تو جو زیور تمہارے پاس ہمارا ہے وہ بذریعہ پارسل میرے پاس روانہ کر دو فوراً اس خط کے دیکھتے ہی اگر تم نے ان دونوں باتوں میں سے ایک بات بھی قبول نہ کی تو تم کو ہماری طرف سے ایک طلاق ہے“۔ یہ مضمون بطور ڈراوے کے لکھا تھا کہ اس خط کو راستہ میں ایک شخص نے لے لیا اور جب اس شخص کو یہ معلوم ہوا کہ میرا خط میری زوجہ کو نہیں پہنچا تو اس نے کہاکہ میں اس طلاق سے باز آیا میں اپنی زوجہ کو اپنے پاس ہی رکھوں گا اور کئی بار رجعت کی مگر زوجہ کی غیر موجودگی کی وجہ سے وہ اس سے مل نہ سکا۔

(جواب ۳۱۱) جب تک وہ خط زوجہ کو نہ پہنچے اور وہ اسے نہ دیکھے بے اثر ہے، یعنی اس خط میں لکھی ہوئی طلاق کا کوئی اثر نہیں، نہ طلاق پڑ سکتی ہے اور اگر وہ خط زوجہ کے پاس پہنچنے اور اس کے دیکھنے سے پہلے ضائع کر دیا جائے، تو تعلیق باطل ہو جائے گی ۔اگر وہ خط زوجہ کے پاس پہنچ جاتا اور وہ دیکھ لیتی اور دونوں باتوں میں سے کوئی بات نہ کرتی جب بھی اس پر ایک طلاق پڑتی  اور عدت کے اندر رجعت کر لینے سے رجعت صحیح ہو جاتی ۔ محمد کفایت اللہ غفرلہ“

(کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج:6، ص:332، ط:دار الاشاعت)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

”اگر ہمشیر کا نکاح فلاں جگہ ہو جائے تو میری بیوی کو طلاق

اگر اس کے لاعلمی میں وہاں رشتہ ہو طلاق نہیں پڑے گی

(س)کیا فرماتے ہیں علماء دین دریں مسئلہ کہ ایک شخص کا ایک لڑکی سے بچپن میں نکاح ہوا تھا۔ ان دونوں کے بالغ ہونے کے بعد خسر والوں کی طرف سے شخص مذکور کی بڑی ہمشیر کا رشتہ طلب کیا تو شخص مذکور نے زمین پر تین لکیریں لگا ئیں اور کہا کہ اگر میں نے اپنی ہمشیر بڑی کا رشتہ آپ کے یہاں ہونے دیا تو میری منکوحہ مجھ پر تین طلاق شخص مذکور کے والدین زندہ ہیں۔

شخص مذکور طلاق اٹھانے کے بعد منکوحہ کو بلا کر گھر لے آیا ۔ کچھ دنوں کے بعد برادری والوں نے اس لڑکی کو واپس کرا دیا۔ اب اس شخص کے والدین نے اس کی عدم موجودگی اور اس کی بے خبری میں اس کی ہمشیر کا نکاح وہیں کر دیا اور ابھی تک اس شخص کو پتہ نہیں ۔ کیا طلاق واقع ہوگی یا نہیں۔

(ج)صورت مسئولہ میں شخص مذکور کی بیوی پر طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ اس نے جو شرط لگائی ہے اس سے بظاہر یہی مفہوم ہوتا ہے کہ میں اپنی ہمشیر کے رشتہ دیے جانے میں رکاوٹ بنوں گا اور حتی الوسع اسمیں مانع بنوں گا لیکن یہ تو تب ہو سکتا ہے کہ وہ موجود ہو اور اس کو پتہ ہو اور اس کی وسعت میں ہو اب جب کہ اس کی عدم موجودگی میں اور اس کی بے خبری میں اس کی ہمشیر کا رشتہ دیا گیا ہے۔ لہذا اس کی منکوحہ پر طلاق واقع نہ ہوگی ۔ فقط واللہ تعالی اعلم“

(کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج:6، ص:188، ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101057

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں